Al-Risala · July 1978

WE CAN'T AFFORD FREEDOM

Al-Risala, July 1978, pp. 32–34

By Maulana Wahiduddin Khan

(B.F. SKINNER) (ہم آزادی کا تحمل نہیں کر سکتے)۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مفکرن کے برعکس اسکنر کا کہنا ہے کہ آزادی کوئی خیر اعلیٰ (SUMMUM BONUM) نہیں۔ انسان کو لا محدود آزادی نہیں بلکہ پابند نظام (DISCIPLINED CULTURE) چلتے۔ انسانی فکری کی یہ واپسی الہی قانون کی ابدیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ الہی قانون کی رو سے مرد اور عورت کا دائرہ کار الگ الگ ہے اور عملی زندگی میں مرد و عورت پر فوقیت دی گئی ہے :

اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (نساء - ۳۳) مرد قوّام ہیں عورتوں کے اوپر وضعی قوانین نے اس اصول کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ مگر سو برس کے تجربہ نے بتایا کہ الہیٰ قانون ہی اس معاملہ میں حقیقت سے قریب تر ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود آج بھی "مہذب"، دنیا میں مرد ہی جنس برتر (DOMINANT SEX) کی حیثیت رکھتا ہے۔ آزادی نسواں کے علم بردار یہ کہتے تھے کہ عورت اور مرد کا فرق بعض سماجی حالات کی پیداوار ہے۔ مگر موجود زمانہ میں، مختلف متعلقہ شعبوں میں، اس مسئلہ کا جو گہرامطالعہ کیا گیا ہے، اس سے ثابت ہوا ہے کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل (BIOLOGICAL FACTOR) ہارورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیروم کا تحن (۱۹۲۹) کے مطالعہ نے اسے بتایا ہے:

SOME OF THE PSYCHOLOGICAL DIFFERENCES BETWEEN MEN AND WOMEN MAY NOT BE THE PRODUCT OF EXPERIENCE ALONE BUT OF SUBTLE BIOLOGICAL DIFFERENCES. (33)

مرد اور عورتوں میں بعض نفسیاتی فرق محض معاشرتی تجربات کی وجہ سے نہیں ہو سکتے بلکہ وہ لطیف قسم کے حیاتیاتی فرق کی پیداوار ہیں۔

ایک امریکی سرجن (EDGAR BERMAN) کا فیصلہ ہے کہ "عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے منصب کے لئے جذباتی ثابت ہوسکتی ہیں" :

BECAUSE OF THEIR HORMONAL CHEMISTRY WOMEN MIGHT BE TOO EMOTIONAL FOR POSITIONS OF POWER. Time Magazine, March 20, 1972, (p.28)

امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک کافی طاقت ور ہے۔ مگر اب اس کے حامی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کی راہ کی اصل رکاوٹ سماج یا قانون نہیں بلکہ خود فطرت ہے۔ فطری طور پر ہی ایسا ہے کہ عورت محض حیاتیاتی محدودیت (LIMITATIONS OF BIOLOGY) کا شکار ہے۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون کا فرق دونوں میں زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ تحریک نسواں کے پرجوش حامی کہنے لگے ہیں کہ فطرت ظالم ہے۔ ہمیں چاہئے کہ پیدائشی سائنس (SCIENCE OF EUGENICS) کے ذریعہ جینیٹک کوڈ کو بدل دیں اور نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا کریں۔ یہ ہے وہ آخری انجام جو امریکی عورت کے نعرہ پالیسی بناؤ کافی نہ بناؤ (MAKE POLICY NOT COFFEE) کا دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں ہوا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک تجرباتی قرینہ ہے کہ وضعی قانون کے مقابلہ میں الہیٰ قانون میں فطرت کی رعایت زیادہ پائی جاتی ہے۔

الہی قانون میں سزا کا خاص مقصد نکال (دوسروں کے لئے عبرت) بتایا گیا ہے۔ اسی لئے الہی قانون نے بعض بڑے جرائم کی نہایت سخت سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ ایک کا انجام دیکھ کر دوسرے اس سے

مگر جدید دور میں اس کو رد کر دیا گیا۔ پہلا نمایاں شخص جس نے مجرموں کی سزا میں تخفیف کی وکالت کی وہ اٹلی کا ماہرِ جُرمیات کیساری بیکیر یا ( ۱۹۱۷ء - ۱۳۸۷) تھا۔ اس کے بعد سے اب تک جرمیات (CRIMINALOLOGY) کے موضوع پر بہت کام ہوا ہے، ماہرین کا عام طور پر یہ خیال ہو گیا تھا جرم کوئی " ارادی واقعہ " نہیں ، اس کے اسباب حیاتیاتی ساخت ، ذہنی بیماری، معاشی تنگی، سماجی حالات وغیرہ میں ہوتے ہیں۔ اس لئے مجرم کو سزا دینے کے بجائے اس کا " علاج " کرنا چاہئے۔ حتی کہ تین درجن سے زیادہ ایسے ملک ہیں جنہوں نے موت کی سزا کو اپنے یہاں ختم کر دیا ہے۔ اگر چہ یہ خاتمہ بھی صرف اخلاقی جرائم کی حد تک ہوا ہے ۔ سیاسی اور فوجی جرائم کے سلسلے میں اب بھی ہر ملک ضروری سمجھتا ہے کہ مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے ۔ مگر جنگِ عظیم ثانی کے بعد جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کو روکنے کی تمام معالجاتی تدبیریں ناکام ہو چکی ہیں۔ چنانچہ کئی ملکوں مثلاً ڈیلاویئر ( DELAWARE ) اور شری لنکا میں پہلےسزائے موت ختم کی گئی تھی اور اب اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ماہرین قانون میں دوبارہ ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایک بیرسٹر نے کہا ہے کہ لوگوں میں یہ عام تاثر ہونا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنا، مجرم کو موت کی سزا کا مستحق بناتا ہے، اپنے اندر بہت بڑی مانع قدر (DETERRENT VALUE) رکھتا ہے " یہ تجربہ اس مفروضہ کی تصدیق کرتا ہے کہ جرم کی سزا کا مسئلہ جن پیچیدہ سوالات سے گہری واقفیت چاہتا ہے، الہیٰ قانون میں اس کی رعایت وضعی قانون سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔

اوپر جو کچھ عرض کیا گیا، اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ وضعی قانون کوئی قابل قبول اصولِ قانون دریافت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مزید یہ کہ وہ آئندہ بھی ناکام ہی رہے گا۔ کیونکہ انسان کی محدودیت یہاں راہ میں حائل ہو رہی ہے ۔ وہ واقعہ جس نے انسان کے لئے اصولِ قانون کی دریافت کو نا ممکن بنا دیا ہے ، اسی میں الہیٰ قانون کی صداقت کا قرینہ چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ ایک طرف ذہنِ انسانی کی محدودیت اور دوسری طرف حقائق کی وسعت ظاہر کر رہی ہے کہ کوئی ایسا ذہن ہو جو انسانی ذہن سے بر تر ہو اور جس کے اندر سارے حقائق موجود ہوں۔ کائنات میں ایسے واقعات ہیں جو فطرت اور جبلّت کی سطح پر الہام کا امکان ثابت کر رہے ہیں ۔ الہیٰ قانون اس میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے کہ اس الہام کو انسان تک وسیع کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس مفروضہ کو مزید موئید کرتا ہے کہ موجودہ الہی قانون میں کچھ ایسی برتر امتیازی خصوصیات ہیں جو اسی وقت قابلِ فہم ہو سکتی ہیں جبکہ یہ مانا جائے کہ وہ ایسے ذہن سے نکلا ہے جو انسان کے مقابلہ میں زیادہ وسیع طور پر حقائق کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

Printed page