Al-Risala · July 1978

چند سوالات

Al-Risala, July 1978, pp. 34–38

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر یہ مان لیا جائے کہ الہی قانون ہی اصول قانون کی تلاش کا جواب ہے جب بھی چند سوالات باقی رہتے ہیں ۔

ا- مختلف مذاہب " الہی قانون " کا حامل ہونے کے دعوے دار ہیں اور ان میں کافی اختلافات بھی پھر وہ کون سا معیار ہوگا جس کی بنیاد پر کسی ایک مذہب کے قانون کو الہی قانون قرار دیا جائے گا۔ ۲- کسی ایک مذہب کو معیار ماننے کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان کے اندرونی اختلافات کو طے کرنے کی صورت کیا ہوگی۔

۳- یہ الہی قانون ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم زمانہ میں آیا۔ اس دوران میں زندگی میں بے شمار تبدیلیاں پھر اس کو نئے حالات کے مطابق کس طرح بنایا جائے گا۔

یہ تین بڑے سوالات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں مختصر عرض کردوں گا۔

مذاہب کی کثرت سے یہ بات یقیناً ثابت ہوتی ہے کہ ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے اس کا قانون بھیجا گیا۔ مگر ان کا باہمی اختلاف یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ہی ہوگا جس کو الہی قانون کا صحیح نماینده قرار دیا جا سکے ۔ تعدد (PLURALISM) عقلی طور پر ناقابل فہم عقیدہ ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو مستند نمائندہ کی حیثیت سے منتخب کرنے کی صورت کیا ہو اس کا بالکل سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ ان کو تاریخ کے معیار پر جانچا جائے اور جس مذہب کا تاریخی طور پر محفوظ اور معلوم ہونا ثابت ہو جائے اس کو لے لیا جائے۔

اگر میں یہ کہوں تو یقیناً میں کسی صاحب علم کی معلومات میں اضافہ نہیں کروں گا کہ تاریخی جانچ کی کسوٹی پر صرف ایک ہی مذہب پورا اترتا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ کوئی بیا گرافیکل ڈکشنری کھولیں تو تمام پیغمبروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اکیلے ہوں گے جن کے نام کے آگے عام قاعدہ کے مطابق تو سین میں (۵۳۲- ۵۷۰) لکھا ہوا ہو گا جس طرح دوسری تاریخی شخصیتوں کے نام کے آگے ہوتا ہے۔ حضرت محمد واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی تاریخ کے تحریری ریکارڈ میں شامل ہے۔ آپ کے متعلق ہر بات معلوم ہے اور آپ کے تبرکات اور مکتوبات تک اصلی حالت میں موجود ہیں۔ حتی کہ معاصر مورخین کے یہاں بھی آپ کا نام ثبت ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر عین آپ کے زمانہ حیات میں ساتویں صدی عیسوی میں آرمینی زبان میں ایک کتاب (CHRONICLE OF SEBEOS) لکھی گئی۔ اس کتاب کا آرمینی متن پیٹرو گراڈ سے 1879 میں ۱۱۸ صفحات پر شائع ہوا اور اس کے بعد روسی اور دوسری زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے مقالہ نگار پروفیسر مارگولیتھ (D. S. MARGOLIOUTH) (۱۹۳۰- ۱۸۵۸) نے حضرت محمد کے بارے میں اس کے اندراجات کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے :

HE WAS AN ISMAELITE WHO TAUGHT HIS COUNTRYMEN TO RETURN TO THE RELIGION OF ABRAHAM AND CLAIM THE PROMISES MADE TO THE DESCENDENTS OF ISMAEL.

وہ ایک اسمعیلی تھے جنہوں نے اپنے اہل ملک کو یہ تعلیم دی کہ وہ ابراہیم کے مذہب کو اپنائیں اور یہ دعویٰ کیا کہ خدا ان

وعدوں کو ان پر پورا کرے گا جو اس نے اسمعیل کی اولاد کے ساتھ کئے ہیں۔ ) یہ صرف حضرت محمد کی خصوصیت ہے کہ جب کوئی محقق آپ پر قلم اٹھاتا ہے تو وہ لکھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے: ----BORN WITHIN THE FULL LIGHT OF HISTORY (ENCYCLOPEDIA AMERICANA)

اسی طرح وہ قرآن جس کو حضرت محمد نے یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے آیا ہے، وہ تمام و کمال تمام محققین نے اس کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ یہ صرف قرآن ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کے بارے میں جب آپ کسی محقق کو پڑھتے ہیں تو اس کے یہاں لکھا ہوا ملتا ہے :

"THE QURAN APPEARS TO BE THE MOST PART AUTHENTIC"

"THE VERY WORDS THAT HE UTTERED AS A REVELATION AND THAT WERE COLLECTED IN HIS LIFETIME". یعنی قرآن بالکل مستند شکل میں محفوظ ہے۔ حضرت محمد نے جو الفاظ بطور الہام اپنی زبان سے نکالے تھے۔ قرآن عین انہیں الفاظ پر مشتمل ہے جو آپ کی زندگی ہی میں مرتب کر لیا گیا تھا۔ مقدس کتابوں کی تاریخ میں یہ بات انتہائی عجیب ہے کہ ہرن کی کھال پر لکھا ہوا وہ قرآن آج بھی تاشقند کی لائبریری میں محفوظ ہے جو پیغمبر اسلام کے داماد اور خلیفہ ثالث عثمان غنی (۶۵۶ - ۶۲۳) کے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ قرآن کے ابتدائی نسخہ اور موجودہ متداول نسخوں میں ایک لفظ کا بھی فرق نہیں۔ سر ولیم میور ( ) نے لکھا ہے :

"یہی ایک نکتہ کہ مسلمانوں کے فرقے ہر زمانہ میں قرآن کے ایک ہی نسخے کے پیرو رہے ہیں، قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ جو قرآن آج ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہی قرآن ہے جسے عثمان کے حکم سے جمع کیا گیا۔ میرا گمان ہے کہ قرآن کے سوا تمام دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کا متن بارہ صدیوں تک اتنا محفوظ اور آلائش سے پاک رہا ہو ؟ EXCEPT THE QUR'AN, THERE IS NO OTHER BOOK UNDER THE SUN, WHICH FOR THE LAST TWELVE CENTURIES HAS REMAINED WITH SO PURE A TEXT. Life of Mohammed, Introduction by Sir W.-Muir, میں شاید یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ الہی قانون کی بنیادی صداقت کو تسلیم کرنے کے بعد ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کا سب سے زیادہ غیر مشتبہ علمی معیار تاریخ ہی ہو سکتا ہے اور وہ بلا شبہ قرآن کے حق میں فراہم ہو گیا ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ خود اسلام کے اندرونی اختلافات کو کس طرح طے کیا جائے۔

یہ مسئلہ جو بظاہر بھیانک معلوم ہوتا ہے اس وقت بالکل معمولی نظر آنے لگتا ہے جب ہم اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ کہ انسانی طبائع میں اختلاف کی وجہ سے تعبیرات و تشریحات میں اختلاف ناگزیر ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ زندگی کا ایک مسئلہ۔ اس کا نہایت سادہ حل قرآن نے یہ تجویز کیا ہے کہ جب کوئی اختلافی سوال کھڑا ہو تو ہر شخص اس پر طبع آزمائی نہ کرے بلکہ اس کو ان لوگوں کے پاس لے جایا جائے جو علم اور تحقیق کے مالک ہیں:

وَاِذَا جَاءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلَى اُوْلِي الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ نِسَار - ۳۸ یہ اختلاف پیدا ہونے کی شکل میں پہلا قدم ہے۔ لیکن اگر اصحاب علم کی مجلس بھی کسی ایک رائے پر نہ پہنچ سکے تو آخری تدبیر یہ بتائی گئی کہ رائے شماری کے ذریعہ کسی ایک فیصلے پر پہنچ کر اس کے مطابق عمل کرو: وَامْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (شوری - ۳۸)

اور ان کا کام باہم مشورہ سے ہوتا ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ الہی قانون کا اندرونی اختلاف صرف ایک علمی مسئلہ ہے، وہ کوئی عملی مسئلہ نہیں۔ الہی قانون میں چونکہ بنیادی اصول طے شدہ ہیں ، اس لئے علمی بحثیں اسی کے دائرہ میں ہوں گی۔ ان بحثوں سے نہ صرف یہ کہ کوئی حقیقی خرابی نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ کئی پہلوؤں سے فکری ارتقاء میں مددگار ہیں۔ جہاں تک عملی ضرورت کے لئے کسی ایک تعبیر کی تعیین کا سوال ہے، وہ اجتماعی ادارہ یا پارلیمنٹ کے ذریعہ پوری ہو جاتی ہے۔

نئے پیدا شدہ حالات کے سلسلے میں الہی قانون کی رہنمائی کس طرح حاصل ہوگی ، اس کا جواب اجتہاد ہے۔ کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ خدا نے جو بنیادی قانون ( قرآن کی صورت میں ) دیا ہے اور خدا کے رسول نے اس کی جو لسانی یا علمی تشریح کی ہے، اس کا گہرا علم حاصل کرنا اور اس کو سامنے رکھ کر پیش آمدہ مسائل میں الہی قانون کا انطباق اس انطباق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ قرآن وحدیث سے قانونی دفعات اخذ کر کے اس کو ہر زمانہ میں نافذ کیا جاتا رہے۔ بلکہ اس میں خود خارجی دنیا کے غیر متصادم قوانین کو الہی قانون کے ڈھانچہ میں قبول کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں عراق، مصر، شام فتح ہوئے تو آپ نے ان ملکوں میں سابقہ رومی، یونانی اور ایرانی قانون مال گزاری کو باقی رکھا۔ البتہ جو چیزیں ظلم نظر آئیں ، ان میں اصلاح و ترمیم کردی۔ اسی طرح درآمد و برآمد اور کسٹم کے لئے یہ قانون مقرر کیا کہ بیرونی ممالک میں مسلمان تاجروں کے ساتھ جو معاملہ کیا جاتا ہے وہی معاملہ وہاں کے تاجروں کے ساتھ اسلامی سلطنت میں کیا جائے ۔

اجتہاد کا عمل اسلام کی ہزار سالہ تاریخ میں مسلسل جاری رہا ہے۔ مدینہ کی ابتدائی ریاست - ۶۲۲) ایک ایک سادہ عرب ریاست تھی جس میں پیغمبر اسلام نے الہی قانون کو نافذ کیا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے زمانہ میں جب اطراف کے متمدن ممالک اسلامی ریاست میں شامل ہوئے تو بہت سے نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ اس وقت عمر فاروق (۴۴ ق - ۶۳۴) نے اجتہاد سے کام لے کر نئے حالات کے مطابق الہی نظام کو قائم کیا جس کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵) کی کتاب الفاروق میں دیکھی جاسکتی ہے۔ پھر خلافت عباسیہ کے زمانہ میں جب اسلامی سلطنت کو مزید وسعت ہوئی اور نظام زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو گیا تو امام ابو یوسف (۱۹ - ۷۸۲) سامنے آئے جو نہ صرف وقت کی سب سے بڑی سلطنت کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے بلکہ موجودہ زمانہ کی اصطلاح میں وزارت قانون کا عہدہ بھی انھیں حاصل تھا۔ انھوں نے الہی قانون کو نئے وسیع تر حالات سے ہم آہنگ کر دیا جس کا ریکارڈ خود ان کی اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے، امن کی یا خوف کی تو اس کو پھیلا دیتے ہیں ، اگر چہ یہ اس کو رسول تک اور اپنے اصحاب تک پہنچات تو اس کو وہ لوگ جان لیتے جو تحقیق کرنے والے ہیں۔

لکھی ہوئی "کتاب الخراج" میں موجود ہے۔ اس بعد انیسویں صدی میں جب دنیا کے حالات میں دوبارہ انقلابی تبدیلیاں ہوئیں تو ترکی کے سلطان عبد العزیز عثمانی (۱۸۶۷-۱۸۷۰) کے حکم سے ماہرین قانون، فقہا اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدہ داروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے وہ مجموعہ قانون مرتب کیا جو مجلۃ الاحکام الشرعیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مجلہ میں فقہ اسلامی کے اس حصہ کو، جس کو سول یا دیوانی قانون کہا جاتا ہے، دفعہ وار قوانین کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔ یہ قانون ۱۹۱۸ تک خلافت عثمانیہ میں رایج رہا اور مصر، سوڈان، شام، حجاز، عراق اور شرق اردن کی عدالتیں اسی کے بموجب فیصلے کرتی رہیں۔ آج بھی اردن اور سعودی عرب میں یہی قانون کسی قدر ترمیم کے ساتھ رایج ہے۔ الاحکام الشرعیہ ابتداءََءََ عربی اور ترکی زبانوں میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ترجمے انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔

اجتہاد کا یہی طریقہ اختیار کر کے آج بھی الہی قانون کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے اور آئندہ بھی بنایا جاتا رہے گا۔

نوٹ: یہ مقالہ مذہب ۔ قانون پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار (نئی دہلی ۱۱ - 16 دسمبر ۱۹۷۴) INTERNATIONAL SEMINAR ON RELIGION-MORALITY-LAW کے موقع پر پڑھا گیا۔

--- مگر ان کے دل مردار سے زیادہ متعفن ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذى نفسی بیدہ لا تقوم الساعة حتى اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ يبعث الله امراء كذبة ووزراء فجرة قائم نہ ہوگی جب تک وہ دور نہ آجاۓ جس میں جھوٹے حکمران، واخوان خونة وعرفاء ظلمة وتراع بڑے وزیر، بد دیانت ملازمین حکومت، ظالم قائدین ظہور فسقة سيماهم سيمى الرهبان وتلوبهم میں نہ آجائیں۔ اس زمانہ میں ایسے فاسق علماء ہوں گے جن انتن من الجييف اهوا ئهم مختلفة کا ظاہر پارساؤں جیسا ہوگا اور ان کے دل مردार से زیادہ فيتيح الله لهم فتنة غبراء مظلمة متعفن ہوں گے۔ ان کی خواہشات ایک دوسرے سے الگ فيتها دكون فيها . اس زمانہ میں اللہ ایک ایسا اندھا فتنہ برپا کریگا جس میں لوگ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائیں گے۔

Printed page