جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Al-Risala, July 1978, pp. 41–46
By Maulana Wahiduddin Khan
فریڈرش انگلس نے کہا ہے ۔ ”آدمی کو سب سے پہلے تن ڈھانکنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی چاہیے، اس کے بعد ہی وہ فلسفہ و سیاست کے مسائل پر غور کر سکتا “ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے جس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے وہ یہ سوال ہے کہ ” میں کیا ہوں ؟ یہ کائنات کیا ہے، میری زندگی کیسے شروع ہوتی اور کہاں جا کر ختم ہوگی ۔ “ یہ انسانی فطرت کے بنیادی سوالات ہیں۔ آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے مگر یہی ایک چیز نہیں۔ سورج اس کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ اس کو زندگی بخشتی ہے مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کو پکڑ کر پوچھ سکے کہ تم کون ہو اور کیوں ایسا کر رہی ہو وہ اپنے وجود کو دیکھتا ہے اور نہیں جانتا کہ میں کیا ہوں اور کس لئے اس دنیا میں آگیا ہوں۔ ان سوالات کا جواب متعین کرنے سے انسان کا ذہن قاصر ہے مگر انسان بہر حال ان کو معلوم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سوالات خواہ لفظوں کی شکل میں متعین ہو کر ہر شخص کی زبان پر نہ آئیں مگر وہ انسان کی روح کو بے چین رکھتے ہیں اور کبھی کبھی اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنا دیتے ہیں۔ انگلس کو دنیا ایک ملحد
انسان کی حیثیت سے جانتی ہے مگر اس کا الحاد اس کے غلط ماحول کا رد عمل تھا جو بہت بعد کو اس کی زندگی میں ظاہر ہوا اس کی ابتدائی زندگی مذہبی ماحول میں گذری جب وہ بڑا ہوا اور نظر میں گہرائی پیدا ہوئی تو رسمی مذہب سے بے اطمینانی پیدا ہو گئی۔ اپنے اس دور کا حال وہ ایک دوست کے نام اپنے خط میں اس طرح لکھتا ہے:۔
میں ہر روز دعا کرتا ہوں اور تمام دن یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ مجھ پر حقیقت آشکارا ہو جائے جب سے میرے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں یہی دعا کرنا میرا مشغلہ ہے میں تمہارے عقیدے کو قبول نہیں کر سکتا۔ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور میرا دل آنسوؤں سے امڈا چلا آرہا ہے۔ میری آنکھیں رورہی ہیں لیکن مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ میں راندہ درگاہ نہیں ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں خدا تک پہنچ جاؤں گا جس کے دیدار کا میں دل و جان سے متمنی ہوں اور مجھے اپنی جان کی قسم ! یہ میری جستجو اور عشق کیا ہے یہ روح القدس کی جھلک ہے۔ اگر انجیل مقدس دس ہزار مرتبہ بھی اس کی تردید کرے تو میں نہیں مان سکتا۔ یہ وہی حقیقت کی تلاش کا فطری جذبہ ہے جو نوجوان انگلس میں ابھرا تھا۔ کو تسکین نہ مل سکی اور مروجہ مسیحی مذہب سے غیر مطمئن ہو کر وہ معاشی اور سیاسی فلسفوں میں گم ہو گیا۔
اس طلب کی حقیقت یہی ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک خالق اور مالک کا شعور پیدا ئشی طور پر پیوست ہے۔ وہ اس کے لاشعور کا ایک لازمی جزو ہے۔ " خدا میرا خالق ہے اور میں اس کا بندہ ہوں“ یہ ایک خاموش عہد ہے جو ہر شخص اول روز سے اپنے ساتھ لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ ایک پیدا کرنے والے آقا و محسن کا تصور غیر محسوس طور پر اس کی رگوں میں دوڑتا اس کے بغیر وہ اپنے اندر عظیم خلا محسوس کرتا ہے۔ اس کی روح اندر سے زور کرتی ہے کہ جس آقا کو اس نے نہیں دیکھا اسے پالے۔ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب کچھ اس کے
حوالے کر دے۔
خدا کی معرفت ملنا گویا اس جذبے کے صحیح مرجع کو پالینا ہے اور جو لوگ خدا کو نہیں پاتے ان کے جذبات کسی دوسری مصنوعی چیز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اندر یہ خواہش رکھنے پر مجبور ہے کہ کوئی ہو جس کے آگے وہ اپنے بہترین جذبات کو نذر کر دے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو جب ہندوستان کی سرکاری عمارتوں سے یونین جیک اتار کر ملک کا قومی جھنڈا لہرایا گیا تو یہ منظر دیکھ کر ان قوم پرستوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جو اپنے ملک کو آزاد دیکھنے کے لئے تڑپ رہے تھے۔ یہ آنسو دراصل آزادی کی دیوی کے ساتھ ان کے تعلق کا اظہار تھا۔ یہ اپنے معبود کو پالینے کی خوشی تھی جس کے لئے انہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک لیڈر جب "قوم کے باپ" کی قبر پر جا کر پھول چڑھاتا ہے اور اس کے آگے سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے جو ایک مذہبی آدمی اپنے معبود کے لئے رکوع اور سجدے کے نام سے کرتا ہے۔ ایک کمیونسٹ جب لینن کے مجسمے کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ہیٹ اتارتا ہے اور اس کے قدموں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے تو اس وقت وہ اپنے معبود کی خدمت میں اپنے عقیدت کے جذبات نذر کر رہا اسی طرح ہر شخص مجبور ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو اپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات کی قربانی اس کے آگے پیش کرے۔ مگر خدا کے سوا جن جن صورتوں میں آدمی اپنا یہ نذرانہ پیش کرتا ہے وہ سب شرک کی صورتیں ہیں۔ اور ان الشرك لظلم عظیم (شرک سب سے بڑا ظلم ہے)، ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا۔ مثلاً ڈبے کے ڈھکن سے آپ بچے کی ٹوپی کا کام لینا چاہیں تو یہ ظلم گو یا آدمی جب اپنے نفسیاتی خلا کو پر کرنے کے لئے خدا کو چھوڑ کر کسی اور طرف لپکتا ہے، جب وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنی زندگی کا سہارا بناتا ہے تو وہ اپنے اصل مقام کو چھوڑ دیتا ہے، وہ ایک صحیح جذبے کا غلط استعمال کرتا ہے۔
یہ جذبہ چونکہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اس لئے ابتداءََءََ وہ ہمیشہ فطری شکل میں ابھرتا ہے اس کا پہلا رخ اپنے اصلی معبود کی طرف ہوتا ہے مگر حالات اور ماحول کی خرابیاں اس کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہیں اور کچھ دنوں کے بعد جب آدمی ایک مخصوص زندگی سے مانوس ہو جاتا ہے، تو اس میں اس کو لذت ملنے لگتی ہے۔ برٹرینڈ رسل اپنے بچپن میں ایک کٹر مذہبی آدمی تھا۔ باقاعدہ عبادت کرتا تھا۔ اسی زمانے میں ایک روز اس کے دادا جان نے پوچھا۔ پسندیدہ دعا کون سی ہے؟ چھوٹے رسل نے جواب دیا۔ ”میں زندگی سے تنگ آ گیا ہوں اور اپنے گناہوں کے بوجھ سے دبا ہوا ہوں۔ اس زمانے میں خدا برٹرینڈ رسل کا معبود تھا لیکن جب رسل تیوہ برس کی عمر کو پہنچا تو اس کی عبادت چھوٹ گئی اور مذہبی روایات اور پرانی قدروں سے باغیانہ ماحول کے اندر رہنے کی وجہ سے خود اس کے اندر بھی ان چیزوں سے بغاوت کے رجحانات ابھرنے لگے۔ اور بالآخر برٹرینڈ رسل ایک ملحد انسان بن گیا۔ جس کی محبوب ترین چیزیں ریاضی اور فلسفے تھے ۔ ۱۹۵۹ء کا واقعہ ہے۔ بی بی سی لندن پر ایک بات چیت پروگرام میں فری مین نے رسل سے پوچھا۔ کیا آپ نے مجموعی طور پر ریاضی اور فلسفے کے شوق کو مذہبی جذبات کا نعم البدل پایا ہے؟ رسل نے جواب دیا۔ جی ہاں، یقیناً میں چالیس برس کی عمر تک اس اطمینان سے ہم کنار ہو گیا تھا جس کے متعلق افلاطون نے کہا ہے کہ آپ ریاضی سے حاصل کر سکتے یہ ایک ابدی دنیا تھی۔ وقت کی قید سے آزاد دنیا۔ مجھے یہاں مذہب ملتا جلتا ایک سکون نصیب ہو گیا۔
برطانیہ کے اس عظیم مفکر نے خدا کو اپنا معبود بنانے سے انکار کر دیا مگر معبود کی ضرورت سے پھر بھی وہ بے نیاز نہ رہ سکا اور جس مقام پر پہلے اس نے خدا کو بٹھا رکھا تھا۔ اور فلسفے کو بٹھانا پڑا۔ یہی نہیں بلکہ ریاضی اور فلسفے کے لئے وہ صفات بھی تسلیم کرنی پڑیں جو صرف خداہی کی صفت ہو سکتی ہے ۔ ابدیت اور وقت کی قید سے آزادی ! کے بغیر اسے مذہب سے ملتا جلتا رہ سکون نہیں مل سکتا تھا جو در اصل اس کی فطرت تلاش کر رہی تھی
ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے اور پرستش کو بے معنی چیز سمجھتے ہیں وہ اپنے خود ساختہ بتوں کے آگے جھک کر اپنے اندرونی جذبہ عبودیت کو تسکین دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ الا" انسان کی ایک فطری ضرورت ہے اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی ہے۔ انسان اگر خدا کے سامنے نہ جھکے تو اس کو دوسرے الہوں کے سامنے جھکنا پڑے گا کیونکہ الٰہ کے بغیر اس کی فطر اپنے خلاء کو پر نہیں کر سکتی۔
مگر بات صرف اتنی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتے ہیں وہ ٹھیک اسی طرح حقیقی سکون سے محروم رہتے ہیں جیسے کوئی بے بچہ ماں پلاسٹک کی گڑیا خرید کر بغل میں دبالے اور اس سے تسکین حاصل کرنا چاہے ایک ملحد انسان خواہ وہ کتناہی کامیاب کیوں نہ ہو۔ اس کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے جو میں نے پائی ہے ۔ آزادی سے بارہ سال پہلے 1935ء میں جب پنڈت جواہر لال نہرو نے جیل خانے میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انہوں نے لکھا :
میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا ۔ اس میں کیا ہو گا ، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا۔ P. کتاب زندگی کے اگلے ورق سر مہر ہیں۔ Nehru, an Autobiography London (1953)
نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور دنیا کی آبادی کے چھٹے حصہ پر بلا شرکت حکومت کر رہے ہیں، مگر اس یافت نے نہرو کو مطمئن نہیں کیا اور اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی وہ محسوس کرتے ہیں کہ کتاب زندگی کے مزید کچھ اوراق ہیں جو ابھی تک بند ہیں اور وہی سوال آخر عمر میں بھی ان کے ذہن میں گھومتا رہا جس کو لے کر ہر انسان پہلے روز پیدا ہوتا ہے۔
پہلے ہفتہ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈیلیگیٹ شریک ہوئے۔ پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: "میں ایک سیاستدان ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لئے ہے، ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر کو