Ticketless Travel is a Social evil.
Al-Risala, July 1978, pp. 47–48
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جب اس کے باوجود بے ٹکٹ سفر ختم نہیں ہوتا تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ سماجی گناہ " کا حد ار وہ احساس پیدا نہیں کر سکتا جو نظم و ضبط کی تعمیل کے لئے محرک بن سکے ۔ کے ذریعہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جرم کا انجام اچھا نہیں ہوتا ، مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی رفتار
بتاتی ہے کہ دنیوی نقصان ہے اندیشہ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ آدمی کو جرم سے باز رکھے۔ تمام دفتروں کی دیواریں مختلف زبانوں کے ان الفاظ سے رنگین کر دی جاتی ہیں۔ لینا، اور رشوت دینا پاپ ہے"۔ مگر جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ ہر محکمے میں عین انہیں الفاظ کے نیچے رشوت کا کاروبار پورے زور و شور سے جاری ہے تو وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے، کہ اس قسم کے سرکاری پر وپیگنڈے رشوت کو روکنے میں کسی درجہ میں بھی مفید نہیں ہیں۔ کے تمام ڈبوں میں اس مضمون کے کتبے لگائے جاتے ہیں کہ "ریلوے قوم کی ملکیت ہے اس کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہے"، مگر اس کے باوجود جب لوگ کھڑکیوں کے شیشے توڑ ڈالتے ہیں اور بجلی کے بلب غائب کر دیتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ "قوم" کے مفاد میں اتنا زور نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ایک شخص اپنے ذاتی مفاد کو قربان کر دے۔ "اجتماعی ذرائع کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا ملک و قوم سے غداری ہے۔ " ایک طرف لیڈروں اور حکمرانوں کی زبان سے یہ اعلان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف بڑے بڑے قومی منصوبے اس لئے ناکام ہو رہے ہیں کہ سرمایہ کا بڑا حصہ اصل منصوبہ پر لگنے کے بجائے متعلقہ کارکنوں کی تحویل میں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح ساری قومی زندگی انتہائی کوشش کے باوجود ان معیاروں سے محروم ہو گئی ہے جو قومی تعمیر کے لئے ضروری ہیں اور ان معیاروں کو پیدا کرنے کے لئے جتنے ذرائع استعمال کئے گئے وہ سب کے سب قطعی ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
یہ علامتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بے خدا تہذیب نے انسانیت کی گاڑی کو دلدل میں لا کر ڈال دیا ہے اس کو اس پٹری سے محروم کر دیا ہے جس کے اوپر چل کر وہ اپنا سفر بخوبی وخوبی طے کر سکتی ہے۔ زندگی کی کشتی بے لنگر اور بغیر بادبان ہوگئی ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ انسان خدا کی طرف پلٹے ۔ وہ زندگی کے لئے مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرے ۔ یہی وہ تنہا بنیاد کے جس پر زندگی کی بہتر تعمیر ممکن ہے اس کے سوا کسی بھی دوسری بنیاد پر زندگی کی تعمیر نہیں کی