شمارہ ۲۱ اگست ۱۹۸۷ء
Al-Risala, August 1978, pp. 12–2
By Maulana Wahiduddin Khan
جمعیۃ بلڈنگ . قاسم جان اسٹریٹ . دہلی ۶ عن ابی قلابة عن ابن مسعود قال :
ستجدون اقواما يدعون الى كتاب الله وقد نبذوه وراء ظهورهم جامع بیان العلم ، جزء ثانی ، صفحہ ۱۹۳ عنقریب تم ایسے لوگ دیکھو گے جو تم کو کتاب الله کی طرف بلائیں گے۔ حالاں کہ انھوں نے کتاب الله کو پس پشت ڈال دیا ہوگا ۔
یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدت خریداری ختم براہ کرم اپنا زر تعاون بذریعہ منی آرڈر بھیج کر شکریہ کا - - - - مینیجر الرساله بسم اللہ الرحمن الرحیم زیر نظر شمارہ میں صفحہ16کے بعد آخر تک جو مضمون شامل کیا گیا ہے، وہ ایک بے حد اہم مضمون اس بنا پر اس کو علیحدہ ٹائٹل لگا کر مستقل پمفلٹ کی صورت میں چھپوالیا گیا ہے۔ اس کا نام ہے " دین کیا ہے ؟ اس پمفلٹ کی عام قیمت ایک روپیہ پچاس پیسے رکھی گئی ہے۔ تاہم عمومی اشاعت کے لئے جو لوگ اس کو زیادہ تعداد میں منگائیں، ان کو ادارہ کی طرف سے خصوصی کمیشن دیا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ اس پمفلٹ کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ ادارۂ الرسالہ کی طرف سے تحریری اجازت نامہ دکھا کر الرسالہ کے نام پر رقمیں وصول کر رہے ہیں۔ سلسلہ میں اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم نے کسی کو ایسا اجازت نامہ نہیں دیا ہے۔ ایسی کوئی بھی تحریر محض فرضی قارئین کرام نوٹ فرمائیں۔
ہم کو الرسالہ ماہ جولائی ۱۹۷۷ء کے شماروں کی شدید ضرورت ہے۔ جن لوگوں کے پاس یہ شمارے ہوں اور وہ الگ کرنا چاہیں۔ براہ کرم اپنے شرائط سے ہم کو مطلع فرمائیں۔
الرسالہ کے دفتر سے نمونہ کا پرچہ مفت روانہ کیا آپ، اپنے کسی عزیز یا دوست کو اگر الرسالہ دکھانا چاہتے ہوں تو ان کا پتہ لکھ کر بھیج دیں۔ یہاں سے ان کو نمونہ کا پرچہ بھیج دیا جائے گا۔
آدمی اگر موت کے دوسری طرف دیکھ لے ایک شخص نے دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات کا مطالعہ کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اس نے ان لوگوں کے حالات کا بھی جائزہ لیا ہے جنہوں نے خودکشی کا اقدام کیا۔ مگر کسی وجہ سے مرنے سے محفوظ رہ گئے ۔ پایا ہے کہ اس قسم کے لوگ عام طور پر اپنی بعد کی زندگی میں نہایت کامیاب رہے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر جب انھوں نے موت کے بھیانک روپ کو دیکھا تو زندگی ان کو بے حد قیمتی معلوم ہونے لگی۔ نے نئی لگن اور نئے اعتماد کے ساتھ زندگی کو قبول کر لیا۔ ان کی نا امیدی دوبارہ امید میں تبدیل ہوگئی۔ ”اس سے اچھے تو ہم پہلے ہی تھے ،“ یہ احساس ان کے اندر زندگی اور عمل کی نئی امنگ پیدا کر دیتا ہے ۔ ”موت تو کامل بربادی ہے۔ جب کہ موت سے پہلے ہم اس پوزیشن میں تھے کہ بربادی سے نکلنے کی جدوجہد کر سکیں “ یہ صرف اس ابتدائی تجربہ کا نتیجہ ہے جو جسم سے جان کی علیحدگی کے وقت آدمی پر گزرتا ہے۔ اگر آدمی اس سے آگے بڑھ کر یہ دیکھ لے کہ علیحدگی کی تکمیل (موت) کے بعد آدمی جس دوسرے عالم میں داخل ہوتا ہے، وہاں اس پر کیا کچھ گزرے گا تو اس کی زندگی میں اس سے بھی زیادہ بڑا انقلاب آجائے۔ وہ اپنی زندگی کو تمام تر آخرت کی طرف موڑ دے ۔ وہ ہر دوسرے پہلو کو چھوڑ کر آخرت کے پہلو کو ترجیح دینے لگے۔ آخرت کا معاملہ اتنا سخت ہے کہ آدمی جب اس سے دوچار ہوگا تو ہر وہ چیز اس کو ہلکی معلوم ہوگی جس کی خاطر آج وہ اپنی آخرت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔