انسان بیک وقت دو چیزوں کا
Al-Risala, August 1978, pp. 2–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مادہ، دوسرے روح، جس کو موجودہ زمانے کے علمائے نفسیات ذہن سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسانی وجود کا مادی حصہ اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ موجودہ دنیا میں اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتا۔ مگر اس کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کہ اس کی روح یا جدید نفسیاتی اصطلاح میں ذہن، اپنی مجرد حیثیت کو زیادہ سے زیادہ باقی رکھ سکے اور اپنی غیر مادی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے تاکہ غیر مادی حقائق تک اس کی بے آمیز رسائی ممکن ہو۔
الرسالہ کے پیغام کو پھیلانے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ آپ الرسالہ کی ایجنسی قائم کریں اعظم گڑھ (یوپی) میں ایک ڈگری کالج ہے جس کا نام شبلی نیشنل کالج ہے ۔ ملک زادہ منظور احمد یہاں انگریزی زبان کے شعبہ میں لکچر رتھے ۔ سے ۱۹۶۷ تک یہاں استاد رہے ۔ وہ کمیونسٹ تھے دن کو وہ کالج میں انگریزی کا لکچر / لترار / شام اخبار کی پہلی اشاعت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میری جوتوں کی دکان ہے اور اللہ کے فضل سے کامیاب بھی۔ مگر مجھ کو پسند نہیں آیا کہ میں زندگی بھر چرن سیوک بنارہوں۔ آدمی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سوسائٹی میں معزز مقام حاصل کرے"۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قوم کے المیہ کی، کم از کم ایک بڑی وجہ وہی ہے جو مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارا ہر آدمی "لیڈر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے - "ہاکر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ مذکورہ مسلم نوجوان نے سادگی میں اپنے دل کی بات کہہ دی، مگر یہی سارے لوگوں کا حال ہے، کے وقت شہر کے چوراہے پر کھڑے ہو کر پارٹی کا اخبار سڑک پر ہاتھ میں اخباروں کا بنڈل لئے ہوئے جب وہ کہتے کہ ” وہ پارٹی کیوں نہ کامیاب ہوگی جس میں میرے جیسا آدمی اخبار بیچے تو سننے والوں پر عجیب
اب ایک اور مثال لیجئے ۔ چند ماہ پہلے ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے ایک اسلامی اخبار نکالنا وہ لیڈر اور ایڈیٹر، مقرر اور مصنف بن کر قوم کی خدمت کرنے کے لئے تو بہت بے قرار رہتے ہیں۔ مگر نچلی سطح پر خدمتِ قوم کا ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں۔ اگر چہ ان میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو مذکورہ نوجوان کی طرح صاف لفظوں میں اس کا اقرار بھی کر لیں۔
الرسالہ جس تعمیری اور اصلاحی مقصد کے تحت نکالا گیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اشاعت سفر ابتدا سے شروع ہوتا ہے شروع نہ کہ درمیان سے ہم کو ابتدائی نقطہ سے اپنا سفر شروع کرنا ہے، کوئی شخص اگلی منزل سے اپنے سفر کا آغاز نہیں کر سکتا۔ سفر کا آغاز جب بھی ہوگا وہیں سے ہوگا جہاں آدمی فی الواقع کھڑا ہوا ہے ــــــــ ایک شخص دہلی میں ہے اور بمبئی پہنچنا چاہتا ہے، ایسے شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ دادر سے اپنا سفر شروع کرے ۔ اس کو بہرحال دہلی سے چلنا ہو گا دادر سے سفر شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سفر کبھی شروع ہی نہ ہو۔
زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے ۔ اس سلسلہ میں ہم اپنے مسلم بھائیوں ۔ سے مذکورہ کیونٹ جیسے تعاون کی امید تو نہیں کر سکتے ۔ تاہم اس سے کم تر درجہ کے ایک تعاون کی ہم ان سے اپیل کر رہے ہیں ۔ وہ یہ کہ شخص جو ہم سے ہمدردی یا اتفاق رکھتا ہے ، وہ اپنے مقام پر رسالہ کی ایجنسی قائم کرے ۔
تجربہ یہ ہے کہ بیک وقت سال بھر کا چندہ دینا لوگوں کو مشکل ہوتا ہے ۔ مگر پرچہ سامنے ہو تو ایک پرچہ کی قیمت دے کر وہ بآسانی اسے لے لیتے ہیں ۔ حال میں الرسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر ہر جگہ اس کی ایجنسی قائم کی یہ کم سے کم تعاون ہے جو رسالہ کے ہمدرد الرسالہ کے خیالات کو عام کرنے کے لئے ہمیں دے سکتے ہیں ۔ ایجنسی لینے والے کے لئے اس کام میں کسی نقصان کا سوال نہیں ہے ۔ کیوں کہ شرائط ایجنسی کے مطابق غیر فروخت شدہ پرچے واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ عملی صورت یہ ہے کہ کم تعداد سے ایجنسی شروع کی جائے ابتداءً پانچ یا دس پرچے منگائے جائیں اور پھر حالات کے مطابق بڑھایا جاتا رہے ۔ تعاون کی یہ صورت ملکی بھی ہے اور بے خطر بھی ۔ اگر ہمارے ہمدرد اس پر عمل کریں تو چند سال میں اس کے عظیم نتائج نکل سکتے ہیں ۔ ( وحید الدین )
زندگی بہت دور خلا میں پیدا ہوئی اور پھر وہاں سے زمین پر آئی پچھلے سو برس سے ڈارونی ارتقائی نظریہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں پر حکومت کرتا رہا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق زمین پر طبعی حالات کے عمل اور رد عمل سے زندگی پیدا ہوئی اور زمینی حالات میں ارتقا کے مراحل طے کرتی مگر موجودہ زمانہ میں جو نئی تحقیقات سامنے آئی ہیں، اس نے اس نظریہ کی اعتباریت ختم کر دی ہے۔
اس کی ایک تازہ مثال وہ تحقیق ہے جو پروفیسر چندر وکر ماسنگھی (سری لنکا) اور سر فریڈ مول (برطانیہ) نے مشتر کہ طور پر پیش کی ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی دریافت حیاتیات اور فلکیات کے بارہ میں بہت سے مزعومات کو بدل دے گی ۔ دونوں سائنس داں کارڈف یونیورسٹی میں انھوں نے برطانیہ کی سائنس ریسرچ کونسل میں درخواست دی تھی کہ ان کو ۷۵۰۰ پونڈ کا عطیہ دیا جائے، تاکہ وہ اس میدان میں اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکیں۔ نے اس درخواست کو رد کر دیا۔ کیوں کہ "ان کا نظریہ ڈارونی اصول کو چیلنج کر رہا ہے"۔
دونوں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زندگی بہت دور خلا میں کسی دم دار ستارہ پر پیدا ہوئی اور اس کے بعد کسی وقت زمین پر آئی۔ انھوں نے اپنے اس نظریہ کے حق میں مقالات شائع کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں شمسی نظام میں جو دم دار ستارے تھے، انھوں نے عظیم تہذیبی مرکز کی حیثیت سے کام کیا۔ یہاں پیچیدہ قسم کے مالیکیول پانی سے ملے، ان کو گرمی ملتی رہی۔ اس طرح ابتدائی زندگی وجود پھر کسی وقت دم دار ستارے کا زمین سے ٹکراؤ ہوا اور اس کے بعد زندگی زمین پر پہنچی۔ سائنس مذہب کے تخلیقی نظریہ سے کتنی قریب آتی جا رہی ہے
مولانا وحید الدین خاں ایک تعلیم یافتہ شخص نے ”ظہورِ اسلام “کو پڑھنے کے بعد کہا: ”مجھے معلوم نہ تھا کہ اسلام کے اوپر ایسی کتاب بھی لکھی جاسکتی ہے۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ایسی عجیب و غریب کتاب میں نے آج تک نہیں پڑھی تھی۔ اسلام کو عصرى اسلوب میں سمجھنے کے لئے ”ظہورِ اسلام “ اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶
یہ اچنبھے کی بات ہے کہ پچھلے20 برسوں میں اسلام فرانس کا دوسرا سب سے زیادہ اہم مذہب بن گیا ہے ۔ وہ صرف رومن مسیحیت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ مسیحیت سے وہ بہت آگے ہے۔ فرانس کے ۷ اصوبائی مرکزوں میں مستقل اماموں کے ساتھ مساجد قائم ہیں ۔ رومن کیتھولک چرچ اکثر تین چوتھائی خالی رہتے ہیں مگر پیرس کی مسجد میں جمعہ کی نمازوں میں پانچ ہزار سے چھ ہزار تک آدمی جمع ہو جاتے ہیں ۔ وہ آنگن اور ملحقہ کمروں تک بھرے ہوتے ہیں تاکہ نماز اور خطبہ کو لاؤڈ اسپیکر پر سن سکیں ۔
عید الفطر کا تہوار جو رمضان کے ختم پر ہوتا ہے ، اس میں نمازیوں کا اجتماع گیارہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے ۔ مسجد کے چاروں طرف سڑکوں پر لوگ جھکے ہوئے عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ فرانس میں ۳ ملین عامل کیتھولک ہیں، بمقابلہ پتہ لینے والے کیتھولک کے کہ ان کی تعداد زیادہ مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں جن کی تعداد تقریباً دوملین اس کے بعد پروٹسٹنٹ ہیں جن کی تعداد ۱۲۵۰۰۰۰ یہودیوں کی تعداد نو لاکھ ہے اور بدھسٹ کی تعداد ۸۰ ہزار ہے۔
۱۹۳۹ء سے پہلے مسلم آبادی فرانس میں اتنی کم تھی کہ ان کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہ تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم آبادی بڑھنا شروع بہت سے مسلم خاندان فرانس میں آباد ہو گئے ، خاص طور پر شمالی افریقہ کے فرانسیسی مقبوضات کے بعض اوقات ان کو خوف وہراس کی حالت میں رہنا پڑتا تھا۔
جس نے اسلامی ملکوں کو اپنی نو آبادی بنانا چاہا تھا ، وہ اب خود اسلام کی نو آبادی ہو رہا ہے ۔
۱۹۵۴ء کے بعد مہاجرین کی سیلاب بہت تیزی سے یہ سلسلہ ۱۹۶۱ء تک جاری رہا۔ شمالی افریقہ سے آنے والے مسلم خاندانوں کے علاوہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد سیاہ افریقہ سے بھی فرانس میں داخل ہوئی۔ فرانس کے مسلمان زیادہ تر مزدور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ... ۲۵ پیرس کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ مارسیلز میں ... ۵۰۷ مسلمان ہیں اور لیونش میں ... ۳۰,۰۰ ان میں سے کچھ پروفیسر ہیں۔ ہیں جو لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ واحد چیز جو ان میں مشترک ہے وہ اسلام کا عقیدہ ہے۔
حمزہ ابو بکر پیرس کی مسجد کے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے مسلمانوں کے اس مختلف النوع طبقہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میں نے محسوس کیا کہ میں ان لوگوں کے مذہبی اختلافات کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے مجھے چاہئے کہ سب کو مشترک روحانی خورایک دینے کی کوشش کروں جو کسی ایک کے فرقہ وارانہ مزاج سے آزاد ہو۔
ان کے سامنے بہت سے مادی مسائل بھی ہیں۔
رہائش ، روزگار، تعلیم اور فرانس کے معاشرہ سے عورتیں جن کے اوپر خاندانی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے، وہ ابتداء اپنے کو اک قسم کا لسانی قید میں پاتی ہیں۔ حسن ابو بکر کے کمرہ کی دیوار پر شاہ ایران کی ایک شاہ کی حکومت پہلی حکومت تھی جس نے مادی طور پر میری مدد کی انھوں نے کہا" انھوں نے مجھ کو مسجد کے لئے قالین اور پیسہ دیا"
فرانس کے مسلمانوں کی ۵۰ تعداد مذہبی فرائض ادا کرتی ہے۔ "عبادت کے لئے سماجی دباؤ یہاں اتنا زیادہ نہیں جتنا ایک مسلم ملک میں ہوتا ہے اور حالات زیادہ موافق نہیں ہیں۔ " حسن ابو بکر نے کہا "مگر بہت سے مسلم مزدور رمضان کے روزے رکھتے ہیں حتی کہ پورے مہینے تک کے۔
ہماں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا این ج است ایک بات کہوں برا نہ مانے گا"، کالج کے طالب علم نے کہا "میں آج کل قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں۔ جہاں سے بھی کھول کر پڑھتا ہوں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہی سورہ پڑھ رہا ہوں۔ قرآن میں ہر جگہ آخرت اور جنت اور جہنم ہی کی باتیں ہیں۔
ایک سادہ ذہن کے طالب علم کو جو بات قرآن میں اتنی زیادہ نظر آئی وہ بڑے بڑے اہل علم کو اس میں دکھائی نہیں ان کا کہنا ہے کہ قرآن کی سب سے بڑی تعلیم یہ ہے کہ سیاست الہیہ کا جھنڈا اٹھاؤ اور تمام قوموں سے لڑ کر اسلام کی حکومت قائم کرو۔ حالاں کہ سارے قرآن میں کہیں بھی اس قسم کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ جو بات قرآن میں لکھی ہوئی نہیں ہے، وہی لوگوں کے لئے سب سے اہم بات بن گئی ہے : ہماں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا این ج است ہہ ہما ابتداء اپنے دایک مں سناں یدیں پاں ہیں وہ خارجی دنیا سے ربط قائم نہیں کر پاتیں۔ صر یہ صفحہ مذراہ میں جاتا ہے
زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے مقابلہ آرائی میں کہا جاتا ہے کہ جاپانی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو کام کے مفہوم کو بتاتے ہیں۔ مگر ابھی حال تک جاپانی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہ تھا جو ”فرصت“ کے مفہوم کو ادا کرتا ہو۔ غالباً یہ واحد عامل ہے جس نے جاپانی قوم کو دنیا میں سب سے زیادہ محنتی قوم بنا دیا ہے۔ عالمی جنگ میں جاپان کی اقتصادیات بالکل برباد ہوگئی مگر جاپانی محنت نے معجزہ دکھایا۔ جنگ کے صرف ۲۵ سال بعد جاپان نے اقتصادی حیثیت سے دنیا کے چند انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں جگہ حاصل کرلی۔ مسلمانوں کا معاملہ ایک اور پہلو سے دل چسپ مثال پیش کرتا ہے ۔ ہماری زبان میں اختلاف اور ٹکراؤ کے مفہوم کو بتانے کے لئے درجنوں الفاظ ہیں ــ مگر کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ADJUSTMENT لئے کوئی لفظ نہیں ۔
پچھلے دو سو برس سے ہندوستانی مسلمانوں پر احتجاج اور ٹکراؤ کی سیاست اتنی زیادہ چھائی رہی ہے کہ اردو زبان میں اُس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی لفظ ہی بن سکا جس کو انگریزی میں ADJUSTMENT کہا جاتا ہے۔ ’’با زمانہ ستیز کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ہمارے یہاں درجنوں الفاظ ہیں ۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ADJUSTMENT ہمارے یہاں کوئی ایک لفظ بھی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان آج سب سے زیادہ لڑنے جھگڑنے والی قوم بن گئے ہیں ۔ حالات سے ہم آہنگی کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالنا جیسے ان کو آتا ہی نہیں۔ ان کی جنگ جویانہ تحریکوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انھیں خبر ہی نہیں کہ زندگی کا راز ایڈ جسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں ۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں ایک عجیب مشکل یہ پیدا ہوئی ہے کہ کوئی خدا کا بندہ اگر یہ کہتا ہے کہ ملی مقاصد کے حصول کے لئے بنو منصوبَہ بناؤ ، حالات سے ہم آہنگ ہو کر بناؤ تو یہ بات ان کی سمجھ میں آتی ہی نہیں۔ اس قسم کی آواز حقیقتاً ایڈ جسٹمنٹ کی آواز ہوتی ہے مگر سننے والے اس کو ”چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ کے معنی سمجھ لیتے ہیں ۔ کیوں کہ جن الفاظ سے وہ مانوس ہیں انھوں نے ان کو وہی مفہوم سے آشنا کیا ہے : زمانہ سے لڑنا یا ہوا کے رخ پر چلنا۔ ان دو کے علاوہ کسی تیسرے رویہ کو وہ جانتے ہی نہیں ۔