Al-Risala · August 1978

مراسلات

Al-Risala, August 1978, pp. 9–13

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله کو میں شوق سے پڑھتا ہوں مگر ہر پرچہ میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو طرز تعمیر کی وجہ سے میرے ذوق پر کچھ بار ہوتی ہے اور اس میں کئی کئی جگہ کھٹک پیدا ہوتی ہے، مثلاً مئی کے پرچہ میں سرورق آپ کا ملفوظ ”ہمارے تمام قائدین کا انداز قائدین کو اپنی کوتاہی پر متوجہ نہیں کر سکتا البتہ آپ کی دوسری باتوں کی طرح اسے بھی ناقابل توجہ ضرور بنا دے گا، نعرے، پوسٹر، جلسے، کانفرنس، خطابت ان میں کتنی چیزیں جس کو آپ نے شجر ممنوعہ بنا رکھا ہے اور صحافت کو بھی شامل کر لیجئے ۔ تو پھر یہ کہوں گا کہ آپ صحافت کے ذریعہ نعرہ لگائیں، پوسٹر نکالیں جلسے اور کانفرنسوں کی روداد لکھیں تو صحیح اور دوسرے لوگ بھی یہی کریں تو کاٹھ کی ہنڈیا ہو جائے، تازہ پرچہ کی یہ عبارت ” دعوت دین“ جو دراصل بندوں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہے وہ تحریر و تقریر ........ وغیرہ ۔ کیا خیر خواہی کے اظہار کے لئے تقریر و تحریر بھی نہ ہونی چاہئے آخر آپ کون سی آسمانی آواز کو استعمال کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے من قال هلك الناس فهلك الناس فهو اهلكهم اور دوسری حدیث میں ہے کہ آدمی دوسروں میں عیب نکالتا رہتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک عیب میں مبتلا کر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، جب آپ اس طرح کی بات لکھتے ہیں تو مجھے اس خیر خواہی کی بنا پر جو آپ کے ساتھ ہے ڈر لگنے لگتا ہے کہ آپ خود ان باتوں میں گرفتار نہ ہو جائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو خود اپنے گھریلو ماحول سے بھی کچھ سبق ضرور حاصل کرنا چاہئے کیا ” انبیا کی آواز کا یہی نتیجہ ہوتا ہے، معاف کیجئے گا آپ حسن النبا وغیرہ کے بارے میں یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ لوگ شہادت کا ٹائٹل لے کر شاندار قبروں میں لیٹ گئے وہ بے چارے تو اب تک گورِ غریباں میں پڑے ہوئے ہیں۔ آپ تو زبانی (s) لکھ دیتے ہیں انھوں نے غُلاما (s) کے بعد بھی لکھ دیا ہے ۔

سودا قمار عشق میں خسرو سے کوہکن بازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا بہرحال میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ یہ انداز چھوڑ دیں اگر کسی آدمی پر آپ کو تنقید کرنی ہے تو بالکل نام لے کر دلیل سے لکھئے مگر عمومی نشتر زنی اچھی چیز نہیں ہے۔

ابھی ابھی جون کا پرچہ ملا ہے اس میں بہت سی عمدہ باتوں کے ساتھ بعض باتیں انتہائی قابل اعتراض آپ امت میں اتفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر بات اختلاف کی کرتے ہیں۔ آپ ان فقہی مسلکی اور ذوقی اختلافات کو دور نہیں کر سکتے البتہ اس میں نقطہ اعتدال پیدا کر سکتے ہیں اور پیار و محبت کے انداز سے یہی کرنا ممکن ہے کہ اس تیز اور غیر ادب شناس انداز سے آپ کے نفس کو اور کچھ آپ کے نادان مداحوں کو تسکین ہو سکتی ہو اور وہ اسے انبیار کی آواز بتائیں مگر امت میں جو فکر آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے نہیں

جہاد اصغر اور جہاد اکبر میں جو توازن صحابہ کرام کی زندگی میں بھی تھا وہ بعد میں نہیں رہ گیا۔ کچھ لوگ جہاد اصغر یعنی امت کے وقتی اور ہنگامی کاموں میں پڑے رہے اور کچھ لوگ جہاد اکبر کی انتہا پر رہے اور آج تک ہیں۔

آپ کی تحریروں میں اعتدال ہونا چاہئے ۔ آپ وعظ تو اعتدال کا کرتے ہیں مگر آپ جہاور اصغر کو بالکل شجر ممنوعہ قرار دینے کے درپے ہیں حتی کہ اب چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی کا وعظ کہتے ہیں اور غلام احمد قادیانی کی تحریک کو سراہتے ہیں اور ایک زمانہ میں آپ لکھ چکے ہیں کہ ہندوستان کو سمجھنے کے لئے سنجے اور اندرا کو سمجھنا ضروری ایک طرف آپ دین میں سادگی کی بات کرتے ہیں اد فقہ اور فنی علوم پر تنقید کرتے ہیں مگر دوسری طرف موجودہ دور کے علوم کے حصول کو سب سے بڑا کام دین سمجھتے ہیں اور اسی پر اپنے پورے ماحول کے ساتھ کار بند آپ دوسروں کو جو چاہیں لکھ دیں مگر خود اپنے بارے میں کوئی بات انتہائی گراں گزرتی ہے جس کا اظہار نہ ناقدین کے بارے میں) آپ نے پچھلے خط میں قسی القلب کے لفظ سے

قرآن وسنت کی روشنی میں محقق صوفیانے جو " کورس" مقرر کیا وہ عوام کے لئے ہے خواص کے لئے نہیں ذکر میں شخصیت کے گھٹنے کی کیفیت اخص الخواص میں پیدا ہو سکتی ہے عوام کی ذہنی سطح کو اس پر لانا نہ تو آپ کے بس کی بات ہے نہ اور کسی کے ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔

اس سے پہلے کے بزرگ اگر لفظی ورزش میں مبتلا تھے تو آپ قلمی ورزش میں مبتلا ہیں میں کہاں تک لکھوں اگر میرا بس چلتا تو آپ کی تحریروں کے ایک ایک ٹکڑے کے بارے میں لکھتا کہ آپ کو اپنی صحیح بات “ کہنے کے لئے انداز یہ اختیار کرنا چاہئے۔

شاید میرے خط سے آپ کو ناگواری ہو مگر میں آپ کا بد خواہ نہیں ہوں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تحریریں مقبول ہوں اور خدا نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے وہ پا در ہوا ہو کر نہ رہ جائے جیسا کہ ابو الکلام اور عنایت اللہ مشرقی وغیرہ کی تحریروں کے ساتھ ہو چکا ہے، میرا مقصد یہ ہے کہ امت کے سارے کاموں پر خطِ نسخ پھیرنے کے بجائے اس کے مفید پہلو سے کام لیا جائے۔

جب سے ”الرسالہ“ نکلا ہے اس میں آخرت طلبی کے بار بار اظہار کے باوجود مجھے انتہائی خود نمائی کا مظاہر نظر آتا ہے آخرت طلب انسان کی تواضع اور فنائیت نظر

آپ یہ بات نوٹ کر لیں کہ دین سے محبت اور چیز ہے اور دین میں غلو اور چیز ہے۔ اس زمانہ میں سب سے بڑا غلو یہ ہے کہ امت کے عام (عوام نہیں) آدمیوں کو انبیاء کے معیار پر رکھ کر اور ان کے حسن وقبح کا فیصلہ کیا جائے دوسرے ان کی خوبیوں سے کام لینے کے بجائے ان کو بالکل یکوناتھابت کیا جائے۔

زبانی یا کاغذ کے اوپر فاران کی چوٹی جیسا وعظ کہنا آسان ہے مگر عملی طور پر آپ کوئی چھوٹا سا کام بھی کریں تو آپ کو معیاری اور روایتی فرق معلوم ہو جائے گا اور شاید لیڈری اور بزرگی کی دوکان لگانے والوں کی کچھ اہمیت آپ کے ذہن میں بیٹھ جائے ، میں بحث کر کے آپ کو منوا نہیں سکتا اور نہ ضرورت ہے اور دل سے غلاف اٹھانے کی صلاحیت بھی اپنے اندر نہیں پاتا۔ نئے مداحوں کے ہجوم میں میری یہ سخت تنقید آپ کو اچھی نہیں لگے گی مگر اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور اپنی تلخ نوائی کی معافی مانگتے ہوئے اپنا خط ختم کرتا ہوں ۔ (مولانا) مجیب اللہ ندوی ۔ رشاد نگر ۔ ۲ رجب ۱۳۹۸ (۹ جون ۱۹۷۸ء)

ا - ہم تقريری مظاہروں کے خلاف ہیں نہ کہ نصیحت ملت کے مسائل پر ” احتجاجی کانفرنس “ کرنا تقريری جبکہ افراد قوم کے اندر تعمیری اور دینی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کرنا نصیحت ہے۔

۲- عیب نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر اس کی شخصیت کو مجروح کیا جائے۔ مگر الرسالہ میں اساسی امور پر تنقید ہوتی ہے۔ کی تنقید بلا شبہ غیر مطلوب ہے ۔ جب کہ دوسری قسم کی تنقید عین مطلوب ۔

۳- موجودہ زمانہ کی انقلابی تحریکوں پر ہماری تنقید یہ ہے کہ اسلامی تحریک کو عملاً انھوں نے سیاسی تحریک بنا دیا۔ اور اسلامی تحریک کی یہ تصویر یقیناً خدا کے دین میں

یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم سیاست کو شجر ممنوعہ قرار ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ اجتماعی استحکام سے پہلے عملی سیاست میں کودنا صرف طاقت کے ضیاع کے ہم معنے ہے ۔

۵- قادیانی تحریک کو سراہنے کی بات سراسر خلاف ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے آغاز میں باعتبار طریق کار اس کے اندر ایک صحیح رہنمائی وہ یہ کہ انگریز سے سیاسی تصادم نہ کرتے ہوئے غیر مسلموں اور خود انگریزوں میں دعوتی کام کیا جائے ۔ ہم کو نہیں معلوم کہ اس طریق کار نہ کہ موجودہ قادیانیت) کی درستگی کے خلاف کون سی عقلی یا نقلی دلیل قائم کی جاسکتی ہے ۔

۶- " موجودہ دور کے علوم کے حصول کو سب سے مرا دی ۴ ، ہم نے کب قرار دیا ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف یہ کہ وہ جدید دریافتیں جو اسلامی معتقدات کی تائید کرتی ہیں ، ہم کو چاہیے کہ ہم انہیں جانیں اور ان کے ذریعہ اسلام کو مدلل کریں۔ دوسری چیز جس کو اپنانے پر ہم نے زور دیا ہے وہ عصری اسلوبِ کلام (سائنٹفک اسٹائل) سائنٹفک اسلوب سے مراد حقیقت نگاری کا اسلوب ہے ، بمقابلہ خطیبانہ یا شاعرانہ یا بیانیہ اسلوب کے ۔ اسلامی تربیت میں عوام و خواص کی تقسیم بلا شبہ درست ہے ۔ مگر اس تقسیم کو اسی حد تک محدود رہنا چاہئے جس کا نمونہ سنت رسول میں موجود ہے، بطور خود کسی کے لئے کوئی عبادتی طریقہ وضع کرنا بلا شبہ بدعت ہے خواہ وہ ایجاد ہو یا استنباط ۔

ہمارے نزدیک یہ کوئی صحیح اسلامی طریقہ نہیں ہے کہ آدمی ’’شاعر اسلام" بن جائے اور ایسی تقریریں کرے جس سے ہر مذاق کے لوگ خوش رہیں۔ سچی بات کہہ کر غیر مقبول ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ عام پسند باتیں کہہ کر عوامی مقبولیت حاصل کی جائے ۔

الرسالہ کی تنقیدوں کو "نشتر زنی کہنا انصاف کے خلاف ہے۔ الرسالہ میں ہمیشہ علمی اسلوب میں مسائل کا تجزیہ کیا جاتا ہے ، نشتر زنی کو ہم کمینہ پن سمجھتے ہیں جبکہ تجزیاتی تنقید اعلیٰ ترین دینی و ملی ضرورت ہے ۔

"تسکینِ نفس "، اور " انتہائی خودنمائی" کا مظاہرہ " وغیرہ کے متعلق صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدو د تنقید سے با ہر قدم رکھنا ہے۔ یہ نیت کو زیر بحث لانے کی بات ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ کر سکتا ہے کہ خارجی حقائق کو دیکھے اور دلیل کی زبان

میں ان کا تجزیہ کرے ۔

آپ نے راقم الحروف کے " گھریلو ماحول " پر بھی اعتراض کیا ۔ اگر چہ متعین طور پر آپ نے نہیں بتایا کہ وہ کیا چیز ہے جو آپ کے نزدیک قابل اعتراض تاہم میں آپ کو یا کسی بھی مرد یا عورت کو یہ حق دیتا ہوں کہ وہ میرے گھر میں آکر ایک مہینہ یا اس سے زیادہ مدت تک قیام کرے اور دیکھے کہ میں اور میرے گھر کے لوگ کس طرح رہتے ہیں۔ جو دین میں نے قرآن و حدیث میں پڑھا ہے اس کے مطابق میں اس کو حرام سمجھتا ہوں کہ قطعی معلومات کے بغیر کسی کو اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں متہم کیا جائے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو شخص اس قسم کی ذمہ داری لینا چاہتا ہو وہ اس سے پہلے اس کی براہ راست تحقیق بھی کرلے۔

تعارف و تبصره آسان قرآن (مترجم)

ناشر: ورلڈ قرآن سوسائٹی ۱۸ پیلا تالاب، رام پور (یوپی)

مذکورہ اداره ایک نان کمرشیل اداره ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ "قرآن کا ترجمه مختلف قوموں کی زبان میں شائع کیا جائے ۔ اور اس کام سے کوئی دنیوی فائده پیش نظر نه هو۔ کتاب کا ترجمه آسان زبان میں صورت یہ ہوتی ہے کہ پورا قرآن ایک ہی جلد کی صورت میں شائع کیا جاتا۔ کتابت کو کم جلی کر کے ضخامت گھٹائی جاسکتی عمدہ کتابت کے ساتھ باریک کا غذ پر ایک جلد کی صورت میں اگر اس کو شائع کیا جائے تو موجودہ صورت کے مقابلہ میں کہیں زیادہ مفید ہوگا۔

دوسری بات یہ کہ اس پر مترجم کا نام درج نہیں ہے۔ ذاتی طور پر مجھے معلوم ہے کہ یہ ترجمہ مولانا محمد فاروق خان ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ آسان ہوتے ہوئے اصل کا اثر قائم رکھے،، زیر نظر “ آسان قرآن “ اسی کوشش کا پہلا جزء ہے۔ ادارہ کا منصوبہ یہ ہے کہ اردو کے علاوہ ہندی، انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں اسی طرح سادہ اور آسان ترجمے شائع کئے جائیں۔ ہے کہ دائیں صفحہ پر متن ہے اور بائیں صفحہ پر ترجمہ اس میں شک نہیں کہ زیر نظر ترجمہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہے، وہ سادہ بھی ہے اور مؤثر بھی زیر نظر حصہ پانچ پاروں کے ترجمہ پر مشتمل ہے۔ بقیہ حصے شائع کئے جائیں گے۔ تبصرہ نگار کے لئے اس تجویز سے اتفاق مشکل معلوم ہوتا ہے۔ غالباً زیادہ بہتر ایم اے نے کیا ہے، موصوف اس سے پہلے قرآن کا ہندی زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ متعدد علمی و دینی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اگر ان کا نام ترجمہ میں دے دیا جائے تو یہ یقیناً اس کے استناد میں اضافہ کا باعث ہوگا اسلام میں حلال و حرام صفحات: :432 قیمت پندرہ روپے پتہ: الدار السلفیہ، حامد بلڈنگ ، مومن پورہ مولانا آزاد روڈ، بمبئی ۱۱ مشہور عرب عالم یوسف قرضاوی کی کتاب ہے جس کا نام ہے الحلال والحرام في الاسلام - زیر نظر کتاب اس کا اردو ترجمہ ہے جو مولانا شمس پیرزادہ نے کیا ہے۔ کتاب اپنے موضوع پر نہایت جامع اور تحقیقی ہے ۔

ایسے دین کو پکڑ رکھا تھا جس کی بابت انھیں خود یہ شبہ تھا کہ کتاب وسنت کے کافی دلائل اس کے حق میں موجود نہوں ہیں اور اُس پیغام کی طرف سے انھوں نے آنکھیں بند کر لیں جو واضح دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے آگیا تھا۔ ایسے واضح دلائل جن کی بابت وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر انھوں نے ان کو اپنے ذہن میں داخل ہونے دیا تو وہ اُن کے "عقائد" کو متزلزل کر دیں گے۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا حیرت ناک کمتر اندازہ کر رہے ہیں۔

Printed page