خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ
Al-Risala, August 1978, pp. 13–15
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض اسلامی حلقے اپنے افراد کو منع کر رہے ہیں کہ وہ الرسالہ کا مطالعہ نہ کریں۔ ایسا کر کے وہ دراصل اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ الرسالہ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ان لوگوں کا تصور خدا بھی کیسا عجیب ہوگا جو اپنے اندر اس بات کی ہمت پاتے ہیں کہ وہ عالم الغیب کا سامنا اس حال میں کریں کہ انھوں نے ایک ۱۹۷۷ء میں ہندوستان میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے مل کر جنتا پارٹی بنائی۔ اسی زمانہ میں پاکستان میں نو سیاسی پارٹیوں نے مل کر "پاکستان قومی اتحاد" قائم کیا۔ کا مقصد مسز اندرا گاندھی کو اقتدار سے ہٹانا تھا اور ثانی الذکر کا مقصد مسٹر بھٹو کو۔ جب تک اپنے سیاسی حریف کو ہٹانے کا سوال تھا، دونوں ملکوں کی جماعتیں باہم متحد رہیں۔ مگر جب یہ مرحلہ طے ہو گیا تو اب دونوں ملکوں کا سیاسی اتحاد، اختلاف انتشار کا شکار ہو رہا ہے منفی نعرہ انھیں متحد کر سکتا تھا۔ مگر مثبت مقصد ان کو متحد کرنے میں ناکام رہا۔
مختلف سیاسی چہروں کے ملنے سے اتحاد کی جو بڑی چھتری بنی تھی وہ پارہ پارہ ہورہی ہے کیوں کہ ہر ایک اپنی اپنی چھتری کو الگ کر کے اس کے سامیہ میں کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
عورت اور مرد کا فرق حیاتیاتی بناوٹ میں فرق کا نتیجہ ہے نہ کہ محض سماجی اسباب کا عورتوں کو مساوی مواقع دیئے جانے کے ایک پر جوش حامی کی حیثیت سے میں مسلسل طور پر ان کی تخلیقی صلاحیت کے بارے میں شبہ کا شکار رہا ہوں ۔ ایسا کیوں ہے کہ عورتوں نے اعلیٰ درجہ کے ادیب ، شاعر ، آرٹسٹ اتنی کم تعداد میں پیدا کئے ۔ ایسا کیوں ہے کہ ان شعبوں میں بھی جو روایتی طور پر عورتوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں، مثلاً طباشی اور لباس سازی، وہ مردوں کے مقابلہ میں دوسرے درجہ پر ہیں ۔ تمام مشہور طباخ اور لباس ساز (حتیٰ کہ عورتوں کے لباس کے بھی) مرد ہی ہیں۔
اب تک میں سماجی علماء کے اس نقطہ نظر کو مانتا رہا ہوں کہ یہ روایت اور ماحول ہے جس نے ان کے خلاف کام کیا ہے۔ مگر سماجی توجیہہ سے مجھے پورا اطمینان نہ ہو سکا۔ میں محسوس کرتا رہا کہ ماحول یا مواقع کے فقدان کے علاوہ بھی کچھ اسباب ہیں جنھوں نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے کر رکھا ہے۔
پروفیسر آئی سنگ جنھوں نے ذہانت کا حسابی پیمانہ ایجاد کیا ہے، اور جن کا کہنا ہے کہ کالے اور سانولے رنگ کی نسلیں، سفید فام نسلوں کے مقابلہ میں کم تر ذہانت رکھتی ہیں، اب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہی بات عورتوں کے لئے بھی صحیح ہے۔ ان کے جین دراصل ان کو بناتے ہیں۔ حمل کے وقت ہی سے ان کا زنانہ پن اسی طرح متعین اور مقرر ہوتا ہے جس طرح کسی کمپیوٹر میں ۔ علمائے سماجیات کے دعویٰ کے برعکس، یہ روایت اور ماحول کا اثر نہیں ہے کہ ایک چھوٹی بچی گڑیوں کے کھیلنے کا شوق رکھتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ سپاہی کی صورت والے کھلونے سے کھیلتا ہے۔ بناوٹ کا اثر ہے۔ حتیٰ کہ ایک لڑکی جب کہ ابھی وہ رحم مادر میں ہوتی ہے وہ لڑکے کے مقابلہ میں زیادہ کشادہ پیٹ بنانے
پیرو جتنا زیادہ کشادہ ہوگا، اتنا ہی اس میں زنانہ پن زیادہ ہوگا۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ جن مردوں کے پیرو چوڑے ہوتے ہیں ان میں زنانہ پن ، انفعالیت ، حتیٰ کہ ہم جنسی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح جن عورتوں کے پیرو کم چوڑے ہوتے ہیں ان میں مردانہ اوصاف جارحیت اور ہم جنسی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات اتنے قطعی ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے قریبی لوگوں کا جائزہ لے کر ان کی تصدیق کر سکتا ہے۔
آئی سنگھ اس سے پہلے نسلی مساوات کے حامیوں کا نشانہ تنقید رہا ہے ۔ اب مساوات نسواں کے حامیوں نے بھی اس کے خلاف قلم اٹھا لیا ہے اور اس پر سخت تنقیدیں کی جارہی ہیں خشونت سنگھ