Al-Risala · August 1978

موت کے دوسری طرف

Al-Risala, August 1978, pp. 15–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو شخص پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو موت کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے گا۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہو گی جس کو وہ چھوڑ چکا۔ جس میں اب وہ واپس نہیں اور سامنے وہ عالم ہو گا جس میں اب اسے داخل جس میں داخلہ سے وہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔ یہ فیصلہ کن روز ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس دن حیرت انگیز طور پر آدمی دیکھے گا کہ وہ اپنی اصلی صورت میں بے نقاب کر دیا گیا ہے۔

قیامت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے یوم یکشف عن ساق (جب پنڈلی کھولی جائے گی) عوفی نے اس آیت کی تشریح میں عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے: حین یکشف الامر و تبدلا اعمال (ابن کثیر) جب معاملہ کھل جائے گا اور اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ دنیا میں ہر آدمی اپنے آپ کو ایک مصنوعی خول میں چھپائے ہوئے ہے۔ ہر عمل کے اوپر خوبصورت الفاظ کا ایک پردہ ڈال لیتا ہے۔ آخرت میں یہ چیزیں ہٹ جائیں گی۔ ہر آدمی اپنی حقیقی صورت میں سامنے آجائے گا۔

دنیا میں یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی جو حقیقتاً خود پرست ہر وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرے ۔ اس کو اپنے جاہ و مرتبہ سے دل چسپی ہو مگر دنیا کے سامنے وہ اپنے کو اس انداز میں پیش کرے ، گویا وہ حق کا علم بردار ہے ، ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفادات اس کی سرگرمیوں کا مرکز و محور ہوں مگر اپنی تقریر و تحریر سے وہ لوگوں پر ایسا جادو کرے کہ لوگ اس کو مجاہد اعظم سمجھنے لگیں مگر موت انسانی زندگی کا وہ واقعہ ہے جو اس قسم کی تمام چیزوں کو باطل کر دیتا ہے۔ موت کے بعد آدمی جس دنیا میں پہنچتا ہے، وہاں اچانک اس قسم کے تمام لبادے اس کے اوپر سے اتر جاتے ہیں۔ وہ اپنی حقیقی اور اصلی صورت میں سامنے آجاتا ہے، اپنے لئے بھی اور دوسروں کے

تین ڈالر کے سو ڈالر ایک بیرل تیل جو خلیج فارس میں تین ڈالر کا خریدا جاتا ہے۔ وہ یورپ میں صارد کو ۴۵ ڈالر میں بیچا جاتا ہے اور کیمیائی مصنوعات کی صورت اختیار کرنے کے بعد اس کی قیمت سو ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

اسلام کے خلاف جدید شبہات کو ڈھا دینے والی کتاب مذہب اوپر "علم جدید کا چیلنج،، مولانا وحید الدین خاں کی مشہور کتاب ہے۔ جدید چینلچ "اسی کا نظرثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۷۰ میں اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد عربی اور ترکی زبانوں میں اس کے درجومی سے اور ایڈیشن شائع ہوئے۔ تمام عالم اسلام میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ۲۲ فروری ۱۹۷۶ کو مولانا وحید الدین خاں طرابلس میں صدر قذافی سے ملے تو لیبی لیڈر نے فورا کہا : لقد قرات کتابک الاسلام یتحدی (میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدی پڑھ لی ہے)۔ الامام الاکبر ڈاکٹر عبد الحلیم محمود (جامعہ ازہر قاہرہ) نومبر ۱۹۷۹ میں ہندوستان آے انھوں نے جامعہ ڈابھیل سورت میں تقریر کرتے ہوئے علماء سے کہا کہ آپ لوگ الاسلام یتحدیٰ کا مطالعہ کیجئے جس میں اسلام کے خلاف جدید شبہات کا کافی و شافی رد موجود ہے۔

قاہرہ کے روزنامہ الاہرام نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : مصنف کتاب نے اسلام کے مطالعہ کا ایک ایسا علمی انداز اختیار کیا ہے جو بالکل نیا اور انوکھا ہے۔ جدید مادی فکر کے مقابلہ میں دین کو وہ اسی طرز استدلال سے ثابت کرتے ہیں جس سے منکرین مذہب اپنے نظریات کو ثابت کرتے ہیں ۔ اسلام کے ظہور سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اگر تاریخ کو چھانا جائے اور اللہ کی طرف بلانے والی عمدہ کتابوں کو چھلنی سے چھان کر نکالا جائے تو کتاب الاسلام یتحدیٰ بلاشک و شبہ ان میں سے ایک ہوگی۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مصنف کتاب کے عمل کو قبول فرمائے۔ ان کے دل کو نور سے، ان کی عقل کو معرفت سے اور ان کی روح کو رضائے سے بھر دے اور ان کے قلم کو ایسی روشنائی عطا کرے جو لکھنے سے کبھی ختم نہ ہو۔ قیمت: تیرہ روپے پچاس پیسے مکتبہ الرسالة جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶

دین کیا ہے مولانا وحید الدین خاں قیمت ایک روپیہ پچاس پیسے سال اشاعت ۱۹۷۸ جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶ دین کیا ہے :

۲ دین کی حقیقت ۳ ارکان خمسه ۵ روز مرہ کی زندگی میں ۷ اشاعت دین ۸ ہجرت ، جہاد ۹ غلبه اسلام دینی روح کیوں نہیں : ۱۲ مومن کون ہے ۱۳ تحریف (غلط تعبیر) ۱۴ حقائق کے بجائے خوش خیالیال ۱۶ خالق کے بجائے مخلوق کا سہارا ۱۸ معانی کے بجائے صورتیں ۲۰ دُعا کے بجائے عملیات ۲۲ انفرادی حکم کو اجتماعیات کی طرف موڑنا ۲۵ اتحاد کے بجائے اختلاف ورنہ ہم سنت الہی کی زد میں آجائیں گے : ۲۸ بنی اسرائیل کی مثال ۲۹ مسلم تحریکیں ۳۱ نجات کی واحد صورت

Printed page