Al-Risala · August 1978

ہجرت ، جہاد

Al-Risala, August 1978, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بھی کوئی خدا کا بندہ یہ آمیز خدا پرستی کی دعوت دیتا ہے تو اس کا امکان رہتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرف سے اس کو نا موافق رد عمل کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ رد عمل ابتدائے الغارتئی الکلام (فصلت 26) کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی داعی کے کلام میں عیب نکالنا۔ حق کی دعوت کے ساتھ خدا کی نصرتیں ہوتی ہیں۔ وہ جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو اتنی حقیقی اور اتنی مدلل ہوتی ہے کہ سننے والے اس میں کوئی واقعی خامی نکالنے میں اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ عیب نکالنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر عوام کو اس سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ فکری کش مکش کبھی عملی ٹکراؤ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ٹکراؤ اہل ایمان کے لئے جو صورتیں پیدا کرتا ہے انہیں کی آخری اور انتہائی صورتوں کا نام ، ہجرت اور جہاد ہے ، گویا ہجرت اور جہاد دین کے وہ اجنار ہیں جو مخالفین کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں ظہور میں آتے ہیں۔

ہجرت کے معنی ہیں چھوڑنا ۔ ابتدائی طور پر اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے فرمایا ہے (مدثر ۵)۔ مگر اپنے آخری مرحلہ میں کبھی گھر بار چھوڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ داعی کے مقابلہ میں مدعو ہمیشہ طاقت ور حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اس لئے جب وہ مخالفت پر اترتے ہیں تو تمام تر دوسرے طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر یہ چیلنج دے دیتے ہیں کہ تم یا تو اپنے دین کو چھوڑ دو یا ہماری زمین سے نکل جاؤ (ابراہیم ۱۳) اس وقت اللہ کے بندے ، اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام پر چلے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے دین پر قائم رہ سکیں۔ جہاد کے معنے ہیں کوشش کرنا۔ حق کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے جو کوشش کی جاتی ہے، وہ بھی جہاد ہے (فرقان ۵۲)۔ تاہم مخالفین کی ضد اور ہٹ دھرمی کبھی بڑھ کر اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ حق کے داعیوں کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں، وہ ان کو بالکل مٹا دینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت اہل حق کو اپنے بچاؤ کے لئے اٹھنا

اس طرح جو مقابلہ ہوتا ہے ، اس کو جہاد کہتے ہیں۔

جہاد بمعنی قتال ، وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ کی اصطلاح میں دفاعی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس کے شرائط میں سے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ جنگ کی ابتدا عملاً دوسروں کی طرف سے کی گئی ہو (توبہ ۱۳)۔ اہل ایمان کے لئے ہر حال میں پر امن مبلغ کا حکم ہے۔ جنگ کی اجازت ان کے لئے صرف اس صورت میں ہے جب کہ ان کو جنگ کے لئے مجبور (حج ۳۹) کر دیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ اور بھی شرطیں ہیں ۔ مسلمانوں کی قوت مجتمع ہو، ان کا ایک امیر ہو۔ جس کی تمام لوگ اطاعت کرتے ہوں، وہ منکرین کی بستی سے الگ ہوکر اپنا ایک اجتماعی مرکز بنا چکے ہوں ۔ کی صفت اس حد تک اپنے اندر پیدا کر چکے ہوں کہ قلیل تعداد ہوتے ہوئے مخالفین کی کثیر تعداد سے جم کر مقابلہ کر سکیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں مکی دور میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کی اجازت صرف مدینہ میں ملی جب کہ مذکورہ شرائط پوری ہو چکی تھیں۔ عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق ستر سے زیادہ بار قتال کی ممانعت آتی رہی۔ اس کے بعد سورہ حج میں اجازت قتال کی پہلی آیت نازل ہوئی۔ دین کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے خوف و محبت کا تعلق جوڑے اور آخرت کی کامیابی کے لئے فکر مند ہو۔ مگر دنیا کی زندگی میں مومن کی ایک اور بھی پسندیدہ چیز (صف ۱۳) ہوتی ہے۔ اور وہ ہے اسلام کا غلبہ۔ یعنی اہل حق دوسری قوموں کے مقابلہ میں دبے ہوئے نہ ہوں بلکہ انھیں کو زمین کے اوپر سر بلندی

تاہم اہل ایمان کو یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ وہ براہ راست اسلامی اقتدار قائم کرنے کی مہم چلائیں۔ واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے (آل عمران ۲۶) ۔ انبیار میں سے کسی نبی نے بھی حکومت قائم کرنے کی مہم نہیں چلائی۔ حضرت داؤد کو حکومت ملی۔ مگر قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے داؤد تم کو یہ اقتدار ہم نے عطا کیا ہے (ص ۲۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی بابت قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اللہ کا وعدہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ عمل کریں ان کو وہ زمین میں حاکم بنائے گا جیسا کہ اگلے لوگوں مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى کو حاکم بنایا تھا۔ اور ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي کے لئے پسند کیا ہے اور ان کے ڈر کو امن سے بدل دے گا لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ وہ میری عبادت کریں گے کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے هُمُ الْفَاسِقُونَ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ اس کے بعد جو ناشکری کرے گا تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

وَ اَطِیْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ لو گ نماز کو قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

گویا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نماز قائم رکھے، بالفاظِ دیگر اللہ سے لپٹا رہے۔ زکوٰۃ ادا کرے، یعنی بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں مستعد ہو۔ رسول کی اطاعت کرے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنے درمیان منع و طاعت کے نظام کو انتہائی حد تک مضبوط کرے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو رحمتِ الہیٰ (عطیہ اقتدار) کا باعث ہوں گے۔ یہی وہ مومن گروہ ہے جس کو اللہ اقتدار سونپنے کے لئے منتخب کرتا ہے کیونکہ وہی اس کے اہل ہوتے ہیں کہ اقتدارِ ارضی کو منصوبہ الہیٰ کے ان کے لئے اقتدار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کو بے خوف و خطر خدا کی عبادت کرنے کے مواقع مل گئے۔ وہ اللہ کے سوا کسی اور شے کو اپنا مرکز توجہ نہیں بناتے۔ وہ کبر اور ظلم سے اپنے آپ کو پاک رکھتے ہیں اور اقتدار کے ملے ہوئے مواقع کو تمکین دین کے لئے استعمال کرتے ہیں نہ کہ تمکین خویش کے لئے۔

Printed page