Al-Risala · August 1978

دینی روح کیوں نہیں

Al-Risala, August 1978, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن گون ہے ۔ قرآن کے الفاظ میں مومن وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کی ہیبت سے اس کا دل دہل اٹھے ۔ جب اس کو قرآن کی آیتیں سنائی جائیں تو اس میں اس کو اضافہ ایمان کی غذا ملنے لگے ۔ جس کے لئے خدا ایک ایسی لازوال ہستی بن جائے جس پر وہ کامل بھروسہ کر سکتا ہو ایمان ، خدا اور بندے کا مقام اتصال ہے ۔ اس اتصال کا حقیقی طور پر وقوع میں آنا ہی ان کیفیات کے ظہور میں آنے کی یقینی ضمانت ہے ۔ یاور ہاؤس اور لیب کا ملاپ اگر نتیجہ پیدا کئے بغیر نہیں رہتا تو خدا اور بندے کا ملاپ کیوں کر نتیجہ سے خالی رہ جائے گا۔

مگر موجودہ زمانہ میں اسلام کی ایسی عجیب و غریب قسم وجود میں آئی ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو حقیقتاً اسلام کہا گیا ہے۔ ہمارے زمانہ کے عجائب میں یہ عجوبہ سب سے زیادہ حیرت ناک ہے کہ ہر طرف اسلام کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مگر حقیقی اسلام کا کہیں وجود نہیں۔ تعداد بڑھ رہی ہے مگر صلاۃ خشوع سے مسجدیں خالی ہیں۔ اسلامی مدرسوں کی تعمیرات بلند ہو رہی ہیں مگر وہ لوگ نہیں پیدا ہو رہے ہیں جو اپنی زندگیوں میں بھی اسلام کی تعمیر کی ضرورت محسوس کرتے ہوں ۔ اسلام کے غغروں سے فضائیں کو نج رہی ہیں مگر اس اسلام کا وجود نہیں جو تنہائیوں میں آدمی کو بے چین کر دے ۔ دوسروں کی پیٹھ پر اسلامی کوڑے لگ رہے ہیں مگر اپنی پیٹھ کو خدا کے حوالے کرنے والا کوئی نہیں۔ اسلامی تقریروں کی بہار آ رہی ہے مگر خدا کی زمین ایسے لوگوں سے خالی ہے جن کو خدا کے خوف نے بے زبان کر رکھا ہو۔ احتساب کائنات کے ہنگامے ہر طرف برپا ہیں مگر احتساب نفس کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے جسم سے اس کی روح نکال دی گئی ہے۔ خود ساختہ طور پر اسلام کا ایسا ایڈیشن تیار کر لیا گیا ہے جو بظاہر اسلام سے مگر وہی چیز اس میں موجود نہیں جو خدا اور رسول کے نزدیک اسلام کا اصل مقصود تھی۔

اس کو سمجھنے کے لئے یہود کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے ۔ کیونکہ جو قومیں کتاب الہی کی حامل ہوں، ان کے بگاڑ کے اسباب ہمیشہ یکساں ہوتے ہیں۔ یہود کی بابت قرآن میں کہا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ان کے اندر قساوت (سخت قساوت کی حالت یہ نہیں ہے کہ دین اپنی صورت کے اعتبار سے باقی نہ رہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ صورتیں ہمیشہ مکمل طور پر باقی رہتی ہیں۔ البتہ قوم کے اندر سے ان کی روح نکل جاتی ہے۔ قساوت دراصل ذکر اور خشیت کے خاتمہ کا نام ہے (زمر ۲۲-۲۳) نہ کہ ظواہر دین کے خاتمہ کا۔

قوم کے اندر یہ بگاڑ انکار دین کے نام پر نہیں آتا، بلکہ اقرار دین کے جلو میں آتا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق شیطان ان کو ایسی ایسی تاویلات سمجھاتا ہے جس کی روشنی میں ان کو اپنا انحراف عین دین نظر آنے لگے۔ وہ اپنے اعمال

کو خوبصورت الفاظ میں بیان کر کے اس کو اپنے لئے تزین کر لیتے ہیں (انعام - ۷۳) اس تزئین کی سب سے زیادہ معروف صورت وہ ہے جس کو قرآن میں یُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (مائدہ - ۱۳) فرمایا گیا ہے۔ معنی ہیں پھیر نا۔ کلام کو اس کے محل سے پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ کلام کا وہ مطلب وعمنی بیان کیا جائے جو متکلم کی مراد نہ ہو۔ گویا یہود کی تزئین یہ تھی کہ وہ اپنی قساوت، بالفاظ دیگر اپنی بے روح دین داری ، کو لفظی تاویلات سے ایسا خوش نما بنا لیتے تھے کہ وہی اصل دین نظر آنے لگے۔

تحریف کی صورت عام طور پر وہی ہوتی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں غلط تعبیر (MISINTERPRETATION) کہا جاتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ یہود کو یہ خبر دی گئی تھی کہ تم کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی گئی ہے (بقرہ47) اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے تم کو دنیا میں اپنی نمائندگی کے لئے چن لیا ہے۔ تم کو اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تم خدائی تعلیمات کے حامل بنو اور اس کو خدا کی طرف سے دوسری اقوام تک پہنچاؤ۔ اپنے اصل مفہوم میں یہ آیت نظریاتی فضیلت کے معنی میں تھی ۔ مگر یہود نے اس کو نسلی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ یہود کی نسل میں پیدا ہونا اس بات کے لئے کافی بن گیا کہ آدمی اس فضیلت کا مستحق ہو اور خدا کے انعامات اس کو حاصل ہوں۔ کتاب الہی کی اس تحریف (لفظ کو اس کے موقع ومحل سے پھیرنے) کو قرآن میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:

وَقَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرَى تَهْتَدُوْا ؕ قُلْ بَلْ وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت یاب مِلَّةَ اِبْرَاهِيمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ہو جاؤ گے۔ کہہ دو نہیں۔ بلکہ ہم پیروی کرتے ہیں دین (بقرہ - ۱۳۵)

ابراہیم کی اور وہ شرک کرنے والوں میں نہ تھا۔

گویا ملت ابراہیمی کا فرد وہ ہے جو شرک سے اپنے کو بچائے اور سچی توحید پر قائم ہو۔ محض نسل ابراہیمی میں ہونے سے کوئی ملت ابراہیمی کا فرد نہیں بن جاتا۔ یہود کو جو "فضیلت" دی گئی وہ اپنے اصل مفہوم میں ایک سنگین ذمہ داری کو یاد دلانے والی چیز تھی مگر موقع ومحل سے ہٹانے کے بعد وہ بے خوفی کا محرک بن گئی۔ اللہ کا ایک حکم جو خشیت پیدا کرنے کا سبب بنتا، وہ قساوت پیدا کرنے والا بن گیا ــــــــــــ یہ تھی یہود کی تحریف ۔ اپنی اس قسم کی تحریفوں کے ذریعہ انھوں نے دین خداوندی کو ایک بے روح ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا تھا۔

حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ تم لوگ پچھلی امتوں کے راستہ پر چلو گے ـــــــــ (تتبعن سنن من كان قبلكم) چنانچہ مسلمانوں میں آج وہ سارے انحراف دیکھے جاسکتے ہیں جو سابق اہل کتاب میں پائے جاتے تھے۔ جس طرح یہود نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اللہ کے خصوصی بندے ہیں اور وہ ضرور نجات پائیں گے۔ اسی طرح ہم نے یہ عقیدہ قائم کر لیا ہے کہ "مسلمان خیر امت ہیں اور وہ سب کے سب مرحوم و مغفور ہیں یہ بات بجائے خود صد فی صد درست ہے۔ مگر وہ مسلم امت کے بارے میں ہے نہ کہ کسی مسلم نسل کے بارے میں ۔ امت کو نسل کے معنی میں لینا بلاشبہ يحرفون الكلم عن مواضعه کا اپنے نظریاتی مفہوم میں یہ بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ مگر جب اس کو نسلی مفہوم میں لے لیا گیا تو وہ صرف قساوت اور بے خوفی کا محرک بن کر رہ گئی۔

Printed page