نجات کا راستہ
Al-Risala, January 1978, pp. 26–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص ہمہ تن اپنے ذاتی کاروبار میں لگا ہوا ہو تو اس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے صرف رسمی آداب رہ جاتے ہیں۔ یہی معاملہ خدا سے تعلق کا بھی ہے۔ دنیوی ترقی حاصل کرنا، اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنا، دنیا میں اپنے کو عزت اور سر بلندی کے مقام پر دیکھنا، انسان کو اتنا زیاوہ مرغوب ہے کہ اس کا سارا وقت اور توجہ انھیں چیزوں میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد رب العالمین کے لیے اس کے پاس جو چیز بچتی ہے، وہ صرف رسمیات ہیں۔ خود کچھ رسمی اعمال وضع کر لیتا ہے۔ یا خدا کی بتائی ہوئی عبادات کو بے روح کر کے ان کو ایک قسم کے رسمی ضمیمہ کے طور پر اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے۔ اور پھر وقتی طور پر ان رسوم کی تعمیل کر کے اپنے دل کو مطمئن کر لیتا ہے کہ وہ خدا کا حق بھی ادا کر رہا ہے۔
قرآن اس لیے اتارا گیا کہ خدا پرستی کے طریقوں میں لوگوں نے جو فرق ڈال رکھا ہے، اس کو واضح کرے اور صحیح طریقہ کی نشان دہی کر دے (نحل۔ ۶۴) قرآن جس زمانہ میں آیا، ساری دنیا میں کوئی نہ کوئی مذہب رائج تھا۔ کوئی قوم ایسی نہ تھی جو مذہب کی قائل نہ ہو۔ مگر ہر ایک نے خود ساختہ طور پر کچھ چیزوں کو مذہب اور خدا پرستی کا درجہ دے رکھا تھا ۔ مذہب کو انھوں نے ایسی شکل دیدی تھی جو ان کی دنیا پرستانہ مصروفیات کے ساتھ جمع ہو سکے۔ جو ان کی زندگی کے بنے بنائے ڈھانچہ کو کھنڈت کرنے والا نہ ہو۔
لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی ساری تو جہاپنے دنیوی کاروبار میں لگائے رہتے اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے ایک مقدس جگہ پر جمع ہو کر تالیاں اور سیٹیاں بجا لیتے۔ ان کا خیال تھا کہ بس اتنی بات خدا کو راضی کرنے کے لیے کافی ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ عبادت خانوں کی عمارتیں بنا کر اور لوگوں کو " دیگیں " کھلا کر اپنے خدا کو خوش کر لیں گے (توبہ۔ ۱۹) کچھ لوگ خدا پرستی کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ انسانی ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے لئے تنہائی کا ایک گوشہ بنا لیا جائے اور وہاں بیٹھ کر خدا کے نام کی جپ کرلی جائے (حدید۔ ۲۷) کچھ اور لوگ تھے جو خدا پرستی کا کمال یہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں جن افکار و خیالات کا رواج ہو جائے ، انھیں کے رنگ میں رنگ کر مذہب کو بھی پیش کر دیا جائے ۔ ۳۰) حتی کہ عرب میں ملت ابراہیمی کی باقیات کے طور پر روزہ ، نماز ، حج اور قربانی وغیرہ بھی کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی تھیں ۔ مگر یہ تمام چیزیں بالکل بے روح شکل میں تھیں ۔ وہ ایسی ہی تھیں جیسے کسی کے پورے ہاتھ میں ایک چھنگلیا لٹک رہی ہو ، جس کا آدمی کی اصل ہستی سے کوئی تعلق نہ ہو۔
قرآن نے اعلان کیا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز دہ نہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہو اور جس کے کرنے والے کو وہ آخرت کے انعامات سے نوازے 177) اللہ کو اصلا جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ کہ اس کے بندے اپنے خالق کو " کبیر " مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو " صغیر " بنالیں۔ یہ اصلاً ایک قلبی کیفیت ہے ۔ انسان ، اپنی حقیقت کے
اعتبار سے ایک نفسیاتی وجود ہے، اس لئے اس سے جو آخری عمل مطلوب ہو سکتا ہے، وہ بھی نفسیاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے بندوں کے دل کو دیکھتا ہے۔ دل کا جھکاؤ، دل کا خوف، دل کی فروتنی ہی وہ چیز ہے جو کوئی بندہ اپنے رب کو پیش کرتا ہے ـــــ "اللہ کو تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (حج۔ تاہم انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے دل میں جو کیفیت وہ ضرور اس کے جسم اور اس کی خارجی سرگرمیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے سے پیار ہو تو اس کے عمل سے بھی اس پیار کا اظہار ہوگا۔ کوئی شخص سانپ سے ڈر رہا ہو تو اس کی حرکات بھی ضرور اس کی اس کیفیت کی گواہی دیں گی۔ اسی طرح خدا کے آگے اپنے آپ کو صغیر (چھوٹا) بنانا اگر چہ باعتبار حقیقت ایک قلبی حالت ہے۔ لیکن جب وہ کسی دل کے اندر واقعی معنوں میں پیدا ہو جائے تو اس کے اعضا و جوارح اور اس کے حرکات واعمال سے بھی لازماً اس کا اظہار ہو گا۔ نتیجہ پوری زندگی اس کے دائرہ میں آتی چلی جائے گی۔
حقیقی خدا پرستی، جو آدمی کے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہوگی، یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو پورے معنوں میں خالق، مالک، رب اور محاسب و مجازی تسلیم کرے، اس کے ساتھ کسی معاملہ میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ پھر دل و دماغ میں اس کی بڑائی کے احساس کو جگہ دے۔ اس کا اندرونی وجود، اس کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہو اور اسی کی طاقت وقوت کے خوف سے کانپتا رہے ۔ پھر اس کا ہاتھ ہو، اس کا پاؤں ، اس کی آنکھ ، اس کی زبان اور اس کے تمام اعضا و جوارح اسی دائرہ کے اندر اپنے وظائف ادا کریں جو خدا نے اپنی شریعت میں ان کے لئے مقرر کیا ہے۔ اس کی پوری ہستی اس دعا کی عملی تفسیر بن جائے، جو رکوع اور سجدہ میں پڑھنے کے لئے ہمیں تلقین کی گئی ہے: اللَّهُمَّ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي و بصری ومخی و عظمی و عصبی خدایا تیرے لئے جھک گیا میرا کان، میری آنکھ، میرا مغز میری ہڈی اور میرے اعصاب اسی طرح انسانوں سے تعلقات اور دنیا کے مختلف معاملات میں وہ اسی رویہ کو اپنائے جو خدا نے بتایا ہے۔ رویہ سے پوری طرح بیزار ہے جس سے خدا نے منع کیا ہے ــــــــــ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دنیا کے پیچھے اپنی پوری زندگی لگا دے۔ اسی طرح آخرت کی نجات کا حق دار بھی وہی ہوگا جس نے اپنی زندگی کو اس کی راہ میں پوری طرح کھپا دیا ہو۔
پچھلے مذاہب میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ تھی کہ انھوں نے دیکھا کہ دنیا میں غلطی کا نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچنا ممکن نہیں۔ کوئی شخص غصہ میں آکر اپنے بیٹے کا ہاتھ کاٹ ڈالے تو وہ ہمیشہ کے لئے بے ہاتھ ہو جائے گا۔ اس کے بعد کا کوئی بھی عمل اس کے بیٹے کو دوبارہ ہاتھ والا نہیں بنا سکتا۔ اس پر قیاس کر کے سمجھ لیا گیا کہ اعمال کے اخروی نتائج بھی لازمی ہیں۔ ان سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
اس ذہن نے مذاہب میں دو بڑے مدارس فکر پیدا کئے۔ ایک وہ جس کو تناسخ ارواح کہا جاتا ہے۔ اس فکر کے ماننے والوں نے یہ گمان کر لیا کہ آدمی بار بار جنم لے کر اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتتا رہتا ہے۔ انسان کی حالت میں اگر وہ غلطی کرے تو
دوسرے جنم میں وہ کسی نچلی مخلوق کے شکل میں اٹھتا ہے۔ اس طرح بے شمار جنموں میں اپنے اعمال کی پاداش بھگتنے کے بعد بالآخر جنت میں پہنچتا ہے۔
دوسراذہن جو اتنی لمبی سزا کو بھگتنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس نے کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا۔ اس عقیدہ کے مطابق، انسان کے گناہوں کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ گناہ ایک ایسا عمل ہے جو ایک مرتبہ سرزد ہو جائے تو اس کے نتائج سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ انسان کو اس لازمي عذاب سے بچانے کے لئے خدا نے یہ کیا :’’کہہ اس نے اپنے بیٹے کو دنیا میں خدا کے بیٹے نے انسان کی صورت میں مجسم ہو کر تمام نوع انسانی کے گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا اور اس کی تلافی کی لئے خود سولی پر چڑھ گیا ۔ اس طرح گویا خدا خود قربان ہو کر نسل انسانی کے گناہوں کا کفارہ بن گیا۔ قرآن نے انسان کو اس عظیم الشان گمراہی سے نکالا اور صاف لفظوں میں اعلان کیا : " کہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، یقیناً اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے (زمر۔ ۵۳) اسلام نے بتایا کہ انسان اور اس کے عمل کے درمیان ایک اور ہستی ہے۔ ہے جو ساری قوتوں کا مالک ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ جو چیز چاہے باقی رکھے، جو چیز چاہے مٹا دے ۔ آدمی گناہ کرنے کے بعد اگر پلٹ آئے۔ وہ اپنی روش کی اصلاح کر کے خدا سے معافی مانگے تو وہ دوبارہ پاک صاف ہو جاتا ہے، حتی کہ ایسا ہو جاتا ہے گویا آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے (کیوم ولدتہ امہ) اسلام کے ذریعہ اللہ نے اپنی جن رحمتوں کا اعلان کیا ہے، وہ یہیں تک محدود نہیں ۔ ان کا سلسلہ اس سے بہت آگے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی رحمتیں اتنی وسیع ہیں کہ وہ کبھی خود تمہارے گناہوں کو نیکیوں کے خانہ میں لکھ دیتا ہے۔ اس کی قدرت کا ملہ تمہاری غلطیوں کے اندر سے تمہارے لئے نئی کامرانی کے مواقع کھول دیتی ہے۔ صرف رحمت خداوندی کا انتہائی اعلیٰ تصور ہے۔ بلکہ یہ اصول خود انسانی نفسیات کو سمجھنے کا نیا دروازہ کھولتا ہے۔ انسان کو ان بے پایاں امکانات سے باخبر کرتا ہے جو اس کے خدا نے اس کے لئے اس کائنات میں رکھ دیئے ہیں۔ زید بن ثابت انصاری عربی زبان کے علاوہ فاری موسیٰ بن سبار اسواری کے متعلق جاحظ نے لکھا رومی، قبطی، حبشی اور سریانی زبانیں جانتے تھے۔
ہے کہ ان کو عربی اور فارسی دونوں پر یکساں عبور حاصل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیگر زبانوں میں جو ان کی مجلس میں دائیں جانب عرب ہوتے تھے اور خطوط آتے تھے ، ان کا جواب لکھتے تھے۔
بائیں جانب ایرانی ۔ وہ قرآن کی ایک آیت پڑھ کر عربوں وہب بن منبہ عربی کے علاوہ یونانی زبان جانتے کے لئے اس کی شرح عربی میں بیان کرتے، اور پھر انھوں نے یمن میں رہ کر یہودیوں اور عیسائیوں بائیں جانب منہ پھیر کر ایرانیوں کے لئے فارسی میں تفسیر کی تاریخ معلوم کی ۔ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسلام اور یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کس زبان میں زیادہ میں انبیاء کے قصے لکھے۔
خوبی کے ساتھ بول رہے ہیں۔