Al-Risala · August 1978

Edited by Dr. Kohen, P. 404

Al-Risala, August 1978, pp. 14–18

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹھیک یہی حال آج مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ کتاب اللہ کے بجائے کتاب الامانی ان کے دین کا ماخذ بنی فضائل اعمال کی بے اصل روایات اور بزرگوں کے کشف و کرامت کی فرضی داستانیں بے شمار تعداد میں قوم کے اندر پھیلا دی گئی ہیں اور قوم کی قوم انھیں خوش خیالیوں کے سہارے جی رہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں وضع حدیث کا سلسلہ ابتدائی سیاسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ اپنی سیاست کے حق میں دینی تصدیق حاصل کرنے کے لئے ہر فرقہ نے بے شمار حدیثیں گھڑیں اور ان کو رسول اور اصحاب رسول سے منسوب کرکے عام میں پھیلا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اہل بیت کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے جو حدیثیں وضع کی گئیں ، صرف ان کی تعداد تقریباً تین سو ہزار ہے۔

یہی زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں میں "فضائل اعمال" کی حدیثیں وضع کرنے کا رجحان ابھرا۔ اس کا محرک

وہی تھا جس نے اس سے پہلے عیسائیوں میں مقدس جھوٹ (Pious Fraud) کا نظریہ پیدا کیا تھا۔ کے بعد ابتدائی صدیوں میں مسیحیت بڑی ابتر حالت میں تھی۔ اس زمانہ میں مسیحی بزرگوں نے سوچا کہ مسیحیت کی ترقی کی ایک تدبیر یہ ہے کہ اس کی افضلیت ثابت کرنے کے لئے عجائب و غرائب باتیں گھڑی جائیں اور ان کو عوام میں اس مقصررد کے لئے وضع حدیث کا ثبوت خود موجودہ مقدس انجیل میں موجود ہے۔ سینٹ پال نے رومیوں کے نام اپنے خط (رومیوں، ۳: ۷) میں لکھا:

’’اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اُس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے۔ اور ہم کیوں برائی نہ کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو‘‘ قرن اول کے بعد جب مسلمانوں میں باہمی لڑائیاں اور سیاسی جھگڑے بہت بڑھ گئے تو کچھ لوگوں نے ’’فضائل‘‘ کے نام پر جھوٹی حدیثیں وضع کرنی شروع کیں تاکہ لوگوں کو دینی اعمال کی طرف راغب کیا جاسکے ظاہر ہے کہ یہ فضائل جہاد نفس اور اتفاق مال جیسی چیزوں کے لئے کارآمد نہ تھے۔ چنانچہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے طلسماتی فائدے بتائے مثلاً کوئی شخص فلاں سورہ روزانہ پڑھے تو وہ خدا کے مقابلہ میں آدمی کا حصار بن جاتی ہے۔ فرشتے جب اس کو عذاب دینے کے لئے آتے ہیں تو وہ ان سے لڑ کر ان کو بھگا دیتی ہے۔ ایک شخص نے سیکڑوں کی تعداد میں اس مضمون کی حدیثیں‘‘، گھڑ کر پھیلائیں کہ فلاں سورہ فلاں وقت‘‘ پڑھو، لو تو اتنا ثواب ہے اور فلاں وقت پڑھو تو اتنا ثواب ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم نے دین کے معاملہ میں یہ جرات کیسے کی۔ اس نے جواب دیا : قصدت ان اشغل الناس بالقرآن عن غيره میں نے چاہا کہ لوگوں کو دوسرے مشاغل سے ہٹا کر قرآن پڑھنے میں لگا دوں۔

کسی نے حدیث گھڑی کہ کسی شخص کے ایک اولاد ہو اور اس کا نام وہ محمد رکھے تو باپ بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے (من ولد له مولود فسماه محمد اكان هو والوالد في الجنة) کسی نے حدیث بنائی کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت میں سات ہزار شہر ملیں گے۔ ہر شہر میں سات ہزار محل ہوں گے۔ ہر محل میں سات ہزار حوریں ہوں گی (من قال لا اله الا الله اعطى في الجنة سبعين الف مدينة في كل مدينة سبعون الف قص في كل قص سبعون الف حوراء) کسی نے کہا کہ جس شخص نے 15 شعبان کو ۱۲ رکعتیں پڑھیں، اس طرح کہ ہر رکعت میں ۳۰ بار قل ھو اللہ احد پڑھا تو وہ نہ صرف خود جنت میں جائے گا بلکہ اپنے خاندان کے دس ایسے آدمیوں کو بھی خدا سے کہہ کر جنت میں لے جائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی (من صلى ليلة النصف من شعبان ثنتی عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة ثلاثين مرة قل هو الله أحد شفع في عشرة من اهل بيته قد استوجبوا النار) سخاوی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: القول البدیع في الصلوٰـة على حبيب الشفیع ۔ یہ کتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے بارے میں ہے۔ پوری کتاب عجائب و غرائب قصوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک قصہ، و سیکون في آخر امتي اناس يحدثونكم مالم تسمعوا انتم ولا آباؤكم فإياكم د ايا هم (رواه مسلم عن ابي هريرة )

ان کے بیان کے مطابق، یہ ہے :

" ایک عورت حسن بصری کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ میری تمنا ہے کہ میں اس کو خواب میں دیکھوں۔ حسن بصری نے کہا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر چار رکعت نفل نماز پڑھ اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد انھم التکاثر پڑھ اور اس کے بعد لیٹ جا۔ اور سونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتی رہ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس نے لڑکی کو خواب میں دیکھا کہ بے حد سخت عذاب میں ہے۔ تارکول کا لباس جسم پر ہے۔ دونوں ہاتھ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ پاؤں آگ کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ عورت صبح کو اٹھ کر حسن بصری کے پاس گئی۔ اور جو کچھ دیکھا تھا، ان کو بتایا۔

اگلے دن حسن بصری نے خواب میں دیکھا کہ جنت کا ایک باغ ہے ۔ اس میں ایک بہت اونچا تخت ہے۔ ایک حسین و جمیل لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے سر پر ایک نور کا تاج ہے۔ وہ کہنے لگی حسن ! تم نے مجھ کو پہچانا، کہا نہیں ۔ بولی، میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں تم سے ملی تھی۔ حسن بصری نے کہا تیری ماں نے تو تیرا حال اس کے برعکس بتایا تھا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ لڑکی نے جواب دیا، میری حالت وہی تھی جو ماں نے بیان کی ۔ میں نے پوچھا، پھر یہ مرتبہ کیسے حاصل اس نے کہا، ہم ستر ہزار آدمی اسی عذاب میں مبتلا تھے جو میری ماں نے آپ سے بیان کیا۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک بزرگ کا گزر ہمارے قبرستان پر ہوا۔ انھوں نے ایک دفعہ درود پڑھ کر اس کا ثواب ہم سب کو پہنچا دیا۔ ان کا درود اللہ کے یہاں ایسا قبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب اس عذاب سے آزاد کر دیئے گئے اور ہم کو وہ رتبہ نصیب ہوا، تم دیکھ اس قسم کی بے شمار روایات گھڑ کر ساری امت میں پھیلادی گئیں۔ اب اگر کچھ لوگ یہ کریں کہ ان "حدیثوں" کو جمع کر کے فضائل اعمال کا صحیفہ مرتب کریں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو دین دار بنانا شروع کریں تو ایک عجیب و غریب قسم کا دین وجود میں آئے گا۔ لوگ بظاہر ہر ذکر اور درود اور تلاوت اور نماز میں مشغول ہوں گے مگر یہ مشاغل ان کے سینہ میں خوف خدا سے کانپنے والا قلب نہیں بنائیں گے۔ بلکہ ایک ایسا قلب وجود میں آئے گا جو اپنے کو خدا کی پکڑ سے بالکل مامون معمولی معمولی باتوں سے جب ہر صبح و شام جنت کے محلات رزرد ہو رہے ہوں تو آخرت کے خوف سے کانپنے کی کیا حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ”امانی" نے اللہ کے دین کو عملاً مذاق بنا کر رکھ دیا۔ وہ دین جس کا مقصد بندوں میں خشیت اور اندیشہ کی کیفیت پیدا کرنا تھا۔ وہ صرف قساوت میں اضافہ کا سبب بن گیا۔

خالق کے بجائے مخلوق کا سہارا پکڑنا قرآن کی ایک آیت ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کا وسیلہ الْوَسِيلَةَ (مائدہ ۳۵) تلاش کرو۔

اس آیت میں ”وسیلہ“ کے لفظ کو کچھ لوگوں نے اس مفہوم میں لے لیا جس میں وہ اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح دنیوی حکمرانوں کے یہاں ذریعے اور وسیلے ہوتے ہیں، اسی طرح خدا کے یہاں بھی وسیلے ہیں۔ یہ وسیلے انبیاء، اور اولیاء ہیں۔ ان وسیلوں کو پکڑلو، ساری خدائی تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔ یہ عقیدہ چونکہ عوامی مزاج سے قریب تھا، اس کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب یہ حال ہے کہ خدا کے بالمقابل بے شمار زندہ اور مردہ ”خدا پیدا ہو گئے ہیں جن کا دامن لوگوں نے تھام رکھا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ یہ خدائی وسیلے دنیا سے لے کر آخرت تک ان کے سارے کام بناتے چلے جائیں گے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کے عقیدہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی زبان میں ”وسیلہ“ کا مفہوم سرے سے نہیں آتا۔ لفظ وسیلہ مذکورہ آیت میں، اردو (ذریعہ) کے مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ اپنے عربی مفہوم (قرب) کے معنی میں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرڈراور اس کی فرماں برداری اور اس کے پسندیدہ عمل کے ذریعہ اس کی قربت اور نزدیکی حاصل کرو (تقربوا اليه بطاعته والعمل بما یر ضہ، قتاده) ابن جریر طبری نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : (اطلبوا القربة اليه بالعمل بما يرضيه (اللہ کی نزدیکی اس عمل کے حاصل کرنے کی کوشش کرو جس عمل کو وہ پسند کرتا ہے)

کسی بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے قریب پہنچ سکے۔ اس آیت میں یہ راز کھولا گیا تھا کہ اس مطلوب کو پانا ہر بندہ کے لئے ممکن ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے کو اپنے رب کے پسندیدہ راستہ پر مگر غلط تعبیر نے آدمی کو اس خزانہ سے محروم کر دیا جو اس کے اندر رکھا گیا تھا۔ جس آیت میں خدا کو پانے کا راز بتایا گیا تھا، اس نے لوگوں کو صرف قبروں اور آستانوں تک پہنچانے کا کام انجام دیا۔ وہ آیت جس میں خوف خدا کی غذا تھی، ایک خود ساختہ تشریح کے ذریعہ اس میں بے خوفی کا سامان تلاش کر لیا گیا۔ جو قرآن اللہ کی پرستش کی تعلیم دینے آیا تھا، اس سے لوگوں نے غیر اللہ کی پرستش کا حکم نکال لیا۔ اس عقیدہ کے تحت جو مذہب بنا، قدرتی طور پر اس میں قبروں کی پرستش اور زندہ ”بزرگوں“ کی عقیدت نے خوب ترقی کی ” اولیاء اللہ، کی فضیلت و کرامت کی بے شمار فرضی کہانیاں گھڑی گئیں۔ تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہ حضرات بھی اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیں۔ بزرگوں کی کراماتی داستانوں کی مقدس طلسم ہوشربا تیار ہو گئی ہے اور ساری قوم اس کی تلاوت میں مشغول ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے خوف و محبت، ،گناہوں سے بچنے کی تڑپ، آخرت کی بازپرس سے بچنے کا فکر بالکل ختم ہو گیا ہے۔ کیوں کہ ”وسیله“ حاصل کر لینے کے بعد ان چیزوں کے لئے فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔

اس قسم کے تمام عقائد دراصل خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ (Underestimation) ہیں۔ جو لوگ زندہ یا مردہ انسانوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں، انھیں خبر نہیں کہ یہ ہستیاں ایک مکھی پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں (حج ۷۳)، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اکابر کا دامن تھام کر جنت میں پہنچ جائیں گے، ان کو خدا کے قانون جزا وسزا کی سنگینی کا اندازہ نہیں (انعام ۹۱) جو لوگ آخرت کے دن کو اپنے بڑوں کی جلوہ گاہ سمجھتے ہیں، ان کو خبر نہیں کہ آخرت جب آئے گی

تو عالم یہ ہوگا کہ سارا آسمان، خدا کے ایک ہاتھ میں بیٹھا ہوا ہوگا ۔ اور زمین کو خدا اپنی مٹھی میں لے کر فرمائے گا : انا الملک انا الجبار انا المتکبر، این الجبارون این المتکبرون این ملوک الارض (میں ہوں بادشاہ میں ہوں جبار میں ہوں کبریائی والا، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں جبار کہاں ہیں متکبر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے یہ الفاظ دہرائے تو راوی کا بیان ہے کہ :

فرجفت برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المنبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ حتی ظننا لیکونن به ابن کثیر)

Printed page