ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے
Al-Risala, August 1978, pp. 18–25
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری طرف ہم نے ایسے ایسے "بزرگ" پیدا کر رکھے ہیں جو میدان حشر میں خدا کے سامنے ہماری طرف سے وکیل بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور اس وقت تک کسی کو جنت میں جانے نہ دیں گے جب تک اپنے تمام معتقدین کو جنت میں نہ بھیج لیں۔ معانی کے بجائے صورتوں کو مطلوب سمجھ لینا قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ۔ اس کا ترجمہ لوگوں نے ان الفاظ میں کیا؛ "ہم نے سہل کر دیا قرآن کو حفظ کرنے کے لئے، پھر کوئی ہے حفظ کرنے والا"۔ کے مطابق سمجھ لیا گیا کہ اس آیت میں قرآن کو رٹ کر یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اب بے شمار لوگ قرآن کو رٹنے میں مشغول ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس آیت کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ قرآن کی سورتوں کو یاد کرنا بجائے خود مومن کی ایک ضرورت مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ آیت کا اس قسم کے عمل سے کوئی تعلق نہیں۔
شاہ عبدالقادر صاحب نے آیت کا ترجمہ کیا ہے : "ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا" مطلب یہ کہ قرآن میں حقائق دینیہ کو مدلل اور قابل فہم انسانی زبان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ پھر کوئی ہے جو اس پر دھیان دے اور اس سے اپنے لئے نصیحت اور اصلاح کا سامان حاصل کرے ۔ اس آیت میں کتاب الہی پر غور و فکر کے لئے اکسایا گیا ہے۔ قرآن کے اندر آدمی کے قلب و دماغ کے لئے جوربانی غذا رکھی گئی ہے ، اس میں سے اپنا حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی گئی مگر ایک معنوی حقیقت کو لفظی تکرار کے معنی میں لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آیت آدمی کے لئے اس قسم کی غذا کا ماخذ نہ رہی۔ وہ الفاظ کو زبانی طور پر رٹنے کے ایک بے کیف عمل کے ہم معنی بن کر رہ گئی۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے :
مَنْ قَالَ لا إله إلا الله دخل الجنة جس نے کہا لا الہ الا اللہ وہ جنت میں جائے گا۔
اس قسم کی روایات میں لفظ "قول" کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ بس کلمہ اسلام کا تلفظ ہی جنت میں داخلہ کے کے لئے کافی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آدمی کا ایک قول اس کے لئے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔ مگر قول سے مراد ایک حقیقی انسان کا قول ہے نہ کہ کسی کمپیوٹر کا قول۔ ایک حقیقی انسان کا قول اس کی پوری ہستی سے ٹپکتا ہے نہ کہ محض حرکت لسانی سے وجود میں آتا ہے۔ ایک بندہ جب فی الواقع یہ قول دیتا ہے کہ "اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں"، تو وہ محض کچھ رسمی
الفاظ نہیں ہوتا۔ وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس نے خدا کی قدرت کاملہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کمال کو پالیا ہے۔ بول اس کی اندرونی ہستی کا لفظی اظہار ہوتا ہے نہ کہ اس کی حقیقی ہستی سے الگ محض حرکت لِسانی کی سطح پر چند کلمات کا لفظ۔ قول کی یہ حقیقت قرآن وحدیث سے بخوبی واضح ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ مائوہ میں ایک گروہ کا ذکر ہے جس نے کہا تھا کہ "اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے۔ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے اس گروہ کے متعلق قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان کے اس «قول» کی وجہ سے اللہ نے ان کو جنت دے دی فا ثا بهم اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ - ۸۵) مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول محض حرکت لسان نہ تھا بلکہ اعلیٰ نفسیاتی سطح پر عرفانِ حق کا معاملہ تھا۔ یہ ان کی پوری ہستی جو لفظوں کی صورت میں ابلی پڑی تھی۔ اس قسم کا واقعہ اگرچہ بظاہر ایک قولی اقرار ہوتا ہے مگر حقیقتاً وہ کائنات کا سنجیوہ ترین معاملہ ہوتا ہے جس کے ایک سرے پر عاجز اور حقیر بندہ ہوتا ہے اور اس کے دوسرے سرے پر دہ قادر مطلق ہستی ہوتی ہے جس کی تجلیات کو پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ صورت حال اس اقرار کو بے حد سنگین واقعہ بنا دیتی اپنی ساری لطافت کے باوجود جب یہ «قول» عالم واقعہ میں ظہور میں آتا ہے تو انسانی شخصیت کے لئے وہ اتنا سنگین ہوتا ہے کہ آنکھوں کی راہ سے آنسوؤں کا سیلاب پھٹ پڑتا ہے (تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا
وہ اقرارِ ایمان جو آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے، قرآن وحدیث کے مطابق ، آدمی کی پوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ مگر اس سے یہ مفہوم نکال لیا گیا کہ زبان سے کلمہ اسلام کا تلفظ کرو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ ٣ - قرآن میں حکم دیا گیا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (احزاب) اے ایمان لانے والو اللہ کو یاد کرو بہت زیادہ اس آیت میں ” ذکر کثیر“ کے لفظ کو کچھ لوگوں نے گنتی کے معنوں میں لے لیا۔ دہ اس فکر میں لگ گئے کہ کتنا زیادہ ذکر ہو تو وہ کثیر کہا جائے گا۔ کچھ لوگوں نے تین سو کا نصاب بنایا۔ کسی نے پچاس ہزار کا، کسی نے ایک لاکھ کا۔ اس طرح کے عددی نصاب کا یہ بھی تقاضا تھا کہ ذکر کے لئے کوئی متعین لفظ یا فقرہ ہو۔ کیوں کہ الفاظ کے تعین کی صورت ہی میں اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مقررہ نصاب کا عدد پورا ہوا یا نہیں۔
مگر اس طرح کے کسی عمل کا مذکورہ آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں اللہ کے ذکر سے مراد اللہ کی یاد ہے مطلب یہ ہے کہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرو۔ خدا کا اور خدا کی باتوں کا تصور اپنے اوپر اتنا زیادہ طاری کرو کہ وہ ہر وقت تم کو یاد آتا رہے۔ یہ ذکر دراصل گہرے تعلق باللہ کا نتیجہ ہے۔ وہ مصنوعی طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ فطری طور پر اس وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ آدمی کا اندرون خدا کے خوف ومحبت سے بھر گیا ہو۔ بندہ نفسیاتی طور پر اپنے رب سے جڑ گیا ہو۔ ذکر حقیقی کی پہچان یہ ہے کہ تنہائیوں میں بندہ اپنے خدا کو یاد کرے اور شدت یاد سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں (ذکر اللہ خاليا نفاضت عيناها) خدائے ذوالجلال کا ذکر آنسوؤں کے قطرات پر ہوتا ہے نہ کہ تسبیح کے دانوں پر۔
قرآن کا ایک حکم جس میں روح کو تڑپانے اور قلب کو پگھلانے کا سامان تھا، اس کو ورزشِ لسان کے ہم معنی سمجھ لیا گیا
جو قلب کو صرف سخت کرنے والا ہے نہ کہ وہ لطافتِ احساس کے اس مقام کو پہنچائے جس کو ذکر کہا گیا ہے۔ دعا کے بجائے عملیات دعا (اللہ سے مانگنا) اہم ترین عبادت ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے اللہ: مخ العبادة (دعا عبادت کا مغز ہے)، الدعا ، ھی العبادة (دعا ہی عبادت ہے)۔ مگر یہود کے اثر سے مسلمانوں میں دعا کے بجائے عملیات کا رواج چل پڑا ۔
دونوں کا فرق سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرتا ہے۔ دوسرا شخص اسی ملازمت کے لئے یہ کرتا ہے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ یقین کرتا ہے کہ اسی حال میں سات دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی ـــــــــ پہلی مثال درخواست کی مثال ہے۔ دوسری مثال کرتب یا عملیات کی مثال۔
خدا سے مانگنے کا طریقہ صرف دعا کا طریقہ ہے۔ دعا یا درخواست وہ چیز ہے جو بندے کو براہِ راست خدا سے ملاتی ہے۔ وہ اس کے اندر عبودیت کے جذبات ابھارتی ہے۔ وہ اس کو دین کی حقیقت اعلیٰ سے آشنا دعا میں بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ وہ اس کو پکارتا ہے۔ اس سے روتا گڑ گڑاتا ہے۔ کے قریب پہنچ کر ان ربانی کیفیات کا تجربہ کرتا ہے جو کسی اور طرح آدمی کو نہیں مل سکتیں۔ اللہ سے مانگنے کی کیفیت ابھرنا سب سے بڑا دینی حاصل ہے۔ مگر عملیاتی کرتب دکھان اتنا ہی بے معنی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ عملیات کی دو قسمیں ہیں ـ عبادتی عملیات اور ساحرانہ عملیات۔ سے مراد وہ طریقے ہیں جن کے متعلق یقین کر لیا گیا ہے کہ ان کو دہرالینے سے آخرت کی نعمتوں کے دروازے آدمی کے اوپر کھل جاتے ہیں۔ ساحرانہ عملیات وہ ہیں جو دنیا کی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے گھڑے گئے ہیں۔ راقم الحروف کی ملاقات ایک عالم سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایک کتاب کا ذکر کیا جس میں محدثین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا تھا: انھوں نے زبردست محنت کر کے تمام حدیثیں جمع کیں اور انا کو ہمیشہ کے لئے کتابی صورت میں محفوظ کر دیا؛ موصوف نے انتہائی خفگی کے ساتھ اس فقرہ کا ذکر کیا۔ تھا کہ اس فقرہ میں آخر وہ کون سی خرابی ہے جس پر وہ اتنے شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر وہ بولے " آپ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ محدثین نے تمام کی تمام حدیثیں جمع کر ڈالی ہیں"۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر صلاۃ معکوس کی روایت محدثین کو نہیں ملی۔ جب کہ فلاں بزرگ نے اس کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے صلاۃ معکوس کا مطلب ہے الٹی نماز۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ بستی کے باہر کوئی ایسا اندھا کنواں تلاش کیا جائے جس کے اوپر درخت اگا ہوا ہو۔ آدمی درخت سے رسی لگا کر اپنا پاؤں اس میں باندھ لے اور کنویں میں سر نیچے پاؤں اوپر کر کے لٹک جائے اور اسی حالت میں نماز ادا کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک بار بھی یہ نماز پڑھ لے وہ دونوں
جہان کا سعادتیں سمیٹ لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ بزرگ موصوف نے اس روایت کے ساتھ اس کی سند نقل نہیں کی اس لئے کیوں کر اس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ اس پر موصوف بگڑ گئے اور بات ختم ہوگئی۔ بعد کے دور میں، خصوصاً متصوفانہ حلقوں میں مسلمانوں کے درمیان بہت سے عملیاتی طریقے رایج ہوئے، وہ سمجھ لیا گیا کہ ان پر اسرار شکلوں کو ان کے ظاہری آداب کے ساتھ وہرا دینے سے معجزاتی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس قسم کے عملیات نے خدا کے دین کو اس سطح پر پہنچا دیا جہاں روایتی کہانی کے طلسماتی خزانہ تھا۔ وہ ”سم سم“ کہنے سے کھلتا تھا۔ دوسرا کوئی لفظ مثً جم جم یا دم دم کہنے سے نہیں کھلتا تھا۔ اسی طرح گویا اسلام کے بھی کچھ منتر یا کرتب تھے۔ انگان کو ظاہری صحت کے ساتھ دہرادیا تو اس کے بعد نجات اور سعادت کے تمام دروازے اس کے لئے کھل جائیں گے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ”سم سم“ کہنے سے طلسماتی خزانہ کا دروازہ کا کھل جانا۔ مگر یہ یہ اسلام ہے جو دوسری قوموں کے اثر سے لیا گیا ہے۔ قرآن وحدیث کے اسلام سے اس کا کوئی تعملق نہیں۔ اسلامی عبادت انابت الی اللہ (زمر ۱۷) کا نام ہے۔ اس کی حقیقت خدا کے آگے دل کا جھکا ؤ ہے نہ کہ اعضاء و جوارح کے ذریعہ کوئی کرتب دکھانا۔ قرآن میں ساحرانہ عملیات کو کفر کہا گیا تھا (بقرہ ۱۰۲) مگر ایک خوبصورت تاویل کر کے اس کو اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :
لا سحر میں اگر کلمات کفریہ ہوں مثل استعانت بہ شیاطین یا کواکب وغیرہ تب تو کفر ہے. اور اگر کلمات مباحہ ہوں تو اگر کسی کو خلاف اذن شرعی کسی قسم کا ضرر پہنچایا جائے اور کسی غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو فسق اور معصیت ہے۔ اور اگر ضرر نہ پہنچایا جائے اور کسی غرض ناجائز میں استعمال کیا جاوے تو اس کو عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عل یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں اور وہ مباح (تفسیر بیان القرآن)
اس تاویل کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن جو فلاح آخرت کا راستہ دکھانے کے لئے آیا تھا، اس کو فلاح دنیا کا موضوع بنا لیا گیا ۔ ہر قسم کے دنیوی مقاصد میں قرآن کو استعمال کیا جانے لگا۔ اسرائیلی روایات کے تحت عملیات کا جو علم سینہ بہ سینہ چلا آرہا تھا، اس کے علاوہ خود "کتاب محفوظ " بھی طرح طرح کے عملیاتی نسخوں کی قیمتی ماخذ بن گئی ۔ " اعمال قرآنی" کے نام پر مسلمانوں نے جو سفلی طریقے رایج کئے ان میں سے ایک دہ ہے جس کو قرآنی سورتوں کے "خواص" کہا جاتا ہے۔ یہ خواص سب کے سب دنیوی نوعیت کے ہیں۔ حتیٰ کہ یہود کی تقلید میں ہر سورہ کے اعداد مقرر کئے گئے ہیں اور ان کے نقوش بنا کر حاجات دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بے شمار لوگوں نے تعویذ گنڈوں کی دکانیں کھول لی ہیں اور قرآن کو ایک تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ سورہ مریم کے اعداد دو لاکھ ننانوے ہزار چھ سو چالیس ہیں۔ اس کے اعداد کا نقش حسب ذیل ہے۔
ایک بہت بڑے بزرگ لکھتے ہیں۔ "اگر باغ ویران شدہ میں درختوں کے ساتھ سورہ مریم کا نقش باندھ دیں تو باغ گلہائے شگفتہ اور ثمر سے بھر پور ہو جائے‘‘ "۔ ان اعمال کے نتیجہ میں نہ صرف قرآن ایک سستا دنیوی نسخہ بن کر رہ گیا بلکہ وہ قوم کے اندر توہمات پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ کیوں کہ اس قسم کے نقش تعویذ سے کبھی کوئی ویران باغ پھولوں اور پھلوں سے لدا ہوا چمن نہیں بن سکتا۔ مزید یہ کہ جس قوم میں اس قسم کی عملیات کا رواج ہو جائے اس کے اندر کبھی صحیح معنوں میں خدا پرستانہ مزاج پیدا نہیں ہو سکتا۔ آدمی جب دعا کرتا ہے تو وہ اللہ سے مانگتا ہے اس کی توجہ تمام تر اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس جب وہ عملیات کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کی توجہ اس عمل کے پر اسرار خواص پر لگی رہتی دعا میں آدمی اللہ سے جڑتا ہے اور عملیات میں خود عملیات سے یا ان پر اسرار اسباب سے جن کے متعلق اس کا گمان ہوتا ہے کہ وہ عملیات کے پیچھے کام کر رہے ہیں ۔ صلاۃ التسبیح اور ختم خواجگان سے لے کر نقش تعویذ تک ۔ بے شمار عملیات مسلمانوں میں رائج ہوئے ، انھوں نے دین خداوندی کو دین یہودیت بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ذاتی حکم کو خارج کی طرف موڑ دینا قرآن میں اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے : وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَان رسیدھی ترازو تولو انصاف سے اور مت گھٹاؤ تول کو) اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ باہمی تعلقات میں عدل پر قائم رہیں۔ کسی پر زیادتی نہ کرے نہ کسی کا حق دبائے ۔ ترازو کی طرح ہر ایک سے انصاف کا معاملہ کیا جائے۔ یہ آیت آدمی کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو عدل و انصاف کی راہ پر ڈال دے۔ لیکن اگر کسی کے ذہن میں اس آیت کا یہ مطلب بیٹھ جائے کہ "لوگوں کے ترازو کو سیدھا کرو" تو سارا معاملہ الٹ جائے گا ۔ اب اس آیت میں اس کی اپنی ذات کے لئے کوئی غذا نہ ہوگی۔ وہ اس حکم کا مطلب یہ سمجھے گا کہ دوسروں کے اوپر " داروغہ انصاف " بن کر کھڑا ہو جائے ۔ وہ اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں سے لڑنا شروع کر دے گا ۔ خواہ اس لڑائی کا نتیجہ عملاً شدید تر بے انصافی کو لانے کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے ۔
یہی صورت ان لوگوں کے ساتھ پیش آئی ہے جو دین کو " اسٹیٹ کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ذہن کی وجہ سے دین کو ایک ریاستی نظام کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں۔ دین ان کے لئے حکومتی امور کا موضوع ہے نہ کہ حقیقۃ ذاتی اصلاح کا موضوع ۔ اپنی دینی ذمہ داری کا تصور ان کے ذہن میں یہ ہے کہ دین کو ایک ریاستی نظام کی حیثیت سے زمین پر جاری و نافذ کیا جائے ۔ چوں کہ سارے قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں جس سے اس قسم کا دینی مشن اخذ ہوتا ہو۔ ان کے ذہن نے نہایت آسان سبیل یہ نکالی کہ انفرادی احکام کو اجتماعیات کی طرف موڑ دیا۔ "ترازو صحیح تولو، کو اس مفہوم میں لے لیا کہ "لوگوں کے ترازو صحیح کرو" نتیجہ یہ ہوا کہ جن احکام میں فرد کے لئے اپنی ذات کی غذا رکھی گئی تھی، وہ دوسروں کے خلاف تقریر اور ایجی ٹیشن کی خوراک لینے کا ماخذ بن کر رہ گئی۔
قرآن میں حکم دیا گیا ہے ۔ اَقِيمُو الدّين (شوری ۱۳) اس کا نشانہ آدمی کی اپنی ذات ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی کو پوری طرح دین کے سانچے میں ڈھال لو۔ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرو اور بندوں کے جو حقوق تمہارے اوپر آتے ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک پورا کرو۔ مگر جن لوگوں کے ذہن میں دین کا مذکورہ ”انقلابی“ مفہوم بیٹھا ہوا ہے، ان کے لئے یہ آیت اس قسم کی ذاتی غذا کا سبب نہ بن سکی۔ انھوں نے اپنے ذہنی شاکلہ کے مطابق اس کا مطلب یہ نکال لیا کہ ۔ دین کو بحیثیت ایک ریاستی نظام کے زمین پر نافذ کرو۔ وہ آیت جو آدمی کے اپنے اندرون کو جھنجوڑنے والی تھی، وہ صرف خارجی ہنگامہ آرائی کا عنوان بن کر رہ گئی ۔ اس آیت کو پڑھ کر مذکورہ ذہن نے فوراً اس قسم کی تقریر شروع کر دی :
”قرآن مجید کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر پڑھے گا۔ اسے یہ بات صاف نظر آئے گی کہ یہ کتاب اپنے ماننے والوں کو کفار اور کفار کی رعیت فرض کر کے مغلوبانہ حیثیت میں مذہبی زندگی بسر کرنے کا پرو گرام نہیں دے رہی ہے۔ بلکہ یہ علانیہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ اپنے پیروؤں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دین حق کو فکری ، اخلاقی، تہذیبی اور قانونی وسیاسی حیثیت سے غالب کرنے کے لئے جان لڑا دیں اور ان کو انسانی زندگی کی اصلاح کا وہ پروگرام دیتی ہے جس کے بہت بڑے حصہ پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جا سکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔ یہ تقریر صرف اس لئے وجود میں آئی کہ وہ حکم جس کا مطلب تھا "دین پر قائم ہو"، اس کو اس معنے میں لے لیا گیا "دین کو دوسروں کے اوپرقائم کرو"
۲- قرآن میں حکم دیا گیا ہے : یَا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْط (نساء ۱۳۵) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو! تم میں سے ہر شخص انصاف کو اختیار کرے، عدل کی روش پر خوب خوب قائم ہو جائے۔ اس حکم کا نشانہ آدمی کی اپنی ذات ہے۔ وہ انسان کو خود اپنی اصلاح کے بارے میں پوری طرح متحرک کرنا چاہتی ہے۔ مگر مذکورہ ذہن کے سامنے یہ آیت آئی تو اس نے اس کا ترجمہ کیا: ”اے ایمان والو! علم بردار بنو! اور اس کے بعد اس نے ان الفاظ میں اس کی تفسیر شروع کر دی :
”یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو۔ بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علم بردار بنو۔ صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے۔ تمھیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہئے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل وراستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لئے جس سہارے کی ضرورت ہے، مومن ہونے کی حیثیت سے تمھارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔ اس تقریر کو پڑھنے والا اس آیت سے جو اثر لے گا وہ یہ کہ آدمی انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھے اور لوگوں کے اوپر انصاف کا نظام قائم کرے۔ بالفاظ دیگر یہ آیت ، مذکورہ تشریح کے خانہ میں خارجی مشن کا پیغام بن جاتی ہے۔ حالاں کہ آیت کا اس قسم کے خارجی مشن سے کوئی تعلق نہیں۔ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ : ”اے ایمان والو! پر خوب قائم رہنے والے بنو۔ “ یہ آیت ہر بندہ مومن کو ذاتی طور پر خطاب کر رہی ہے اور اس کو خدا کا یہ پیغام پہنچا رہی ہے کہ تم اپنی زندگی کے معاملات میں انصاف کی روش پر قائم رہنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرو۔ اپنے آپ کو انتہائی
حد تک انصاف کا عامل بناؤ۔ آیت کے اگلے الفاظ مزید تاکید کر ر ہمیں کہ جب کسی سے اختلاف ہو جائے اس وقت بھی انصاف کی روش کو نہ چھوڑو۔ ایک حکم الہی جس میں ہدایت کی ذاتی غذا تھی، زاویہ نگاہ بدل جانے کی وجہ سے وہ خارجی دنیا کے خلاف تقریری کمال دکھانے کا عنوان بن گیا ۳- قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً (بقره - ۲۰۸) یہ آیت بھی اہل ایمان کو انفرادی طور پر خطاب کر رہی ہے اور ہر شخص سے کہہ رہی ہے کہ تم اپنی زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگ لو، اپنے عقائد اور اپنے اخلاق و معاملات میں اسلامی تعلیمات کو پوری طرح اختیار کر لو۔ اس میں ہر بندہ مومن کے لئے ذاتی ہدایت کا سامان ہے۔ اس آیت میں شخص اپنے رب کو اپنے آپ سے خطاب کرتے ہوئے پاتا ہے۔ مگر مذکورہ دینی مزاج پیدا ہو جائے تو آیت کو پڑھتے ہی آپ کا ذہن خارجی دنیا کی طرف مڑ جائے گا، آپ اس کو تلاوت کر کے حسب ذیل تقریر شروع کر دیں گے : "لوگو، قرآن کی یہ آیت ہیں ایک عظیم انقلابی پروگرام دے رہی ہے۔ وہ مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اٹھیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی حکومت کا نظام قائم کر دیں۔ خاندان سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور بین اقوامی زندگی تک کوئی گوشہ حکومت خداوندی سے باہر نہ رہے ، بظاہر یہ تقریر بڑی شان دار معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک ایسے تقریری ریکارڈ کی مانند ہے جو خالی میدان میں بجایا جا رہا ہو، جس کا نہ کوئی سننے والا ہو اور نہ اثر لینے والا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف - (۶)
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : ﴿ حکم تو بس اللہ ہی کا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس عالم میں طاقت و اقتدار کے تمام سرے خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کچھ بھی سوچے اور کتنی ہی تدبیریں کرے ۔ مگر وہی ہوگا جس کی اجازت خدا دے گا۔ خدا کی مرضی کے بغیر اس کائنات میں کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ یہ آیت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر عاجز ہے۔ وہ یہ سبق دیتا ہے کہ انسان گھمنڈ کی روش ترک کر دے۔ وہ مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرے۔ اپنے معاملات میں اسی سے مدد کی درخواست کرے۔
مگر مذکورہ ذہن کے لئے آیت میں اس قسم کی ذاتی غذا نہیں ہوگی۔ آیت میں ایک ایسے اقتدار کا ذکر ہے جو بالفعل قائم ہے۔ مگر وہ اس سے ایک ایسا اقتدار نکال لے گا جو اسے اپنی انقلابی جدوجہد کے ذریعہ قائم کرنا ہے۔ بس حکم کا لفظ لے لے گا اور پھر اپنی تقریر شروع کر دے گا :
" اقتدار صرف خدا کا ہے۔ کسی شخص یا گروہ کو حق نہیں کہ زمین پر اپنا قانون جاری کرے، حکومتی اقتدار تمام تر خدا کا ہونا مومن کا مشن یہ ہے کہ غیر خدائی سیاست کی جتنی قسمیں زمین پر قائم ہیں ان کو ختم کر دے اور زندگی کے تمام شعبوں میں خدا کا اقتدار اعلیٰ قائم کر دے۔ آیت کا مدعا یہ تھا کہ خدا کی برتری یاد دلا کر انسان کو اس کا عبادت گزار بننے پر اکسایا جائے۔ مگر فوق الفطری حکم کو سیاسی حکم کے معنی میں لے کر اس سے سیاسی مشن نکال لیا گیا ۔ اسی طرح مثال کے طور پر لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ کو لیجئے ۔
الہٰ کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی طرف اپنی حاجتوں کے لئے رجوع کیا جائے‘ جائے۔ اور عبادت کے معنیٰ میں پیش۔ یہ مفہوم انسان کے اندر جڑ و افتقار کا مزاج پیدا کرتا اس میں اس کو یہ سبق ملتا ہے کہ بنانے بگاڑنے کا سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ مجھے اپنی فلاح و نجات کے لئے ایسی کی طرف دوڑنا چاہئے اور اسی کے آگے اپنے کو ڈال دینا لیکن مذکورہ ذہن اس آیت میں اللہ کے معنی حاکم لے لے گا اور عبادت کو سیاسی اطاعت کے ہم معنی سمجھنے لگے گا۔ اس آیت کو پڑھ کر اس کے اندر جو جذبہ ابھرے گا وہ یہ کہ خدا ہی سیاسی حکمراں ہے اور اسی کی سیاسی اطاعت زمین پر قائم ہونی چاہئے ہے۔ بظاہر یہ ایک اچھی اور صحیح بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس تشریح کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آیت سے عبودیت کی جو غذا ملنی چاہئے‘ وہ آدمی کو نہیں ملے گی۔ اس کو پڑھ کر اس کے اندر سیاست آرائی کا ذہن ابھرے گا۔ کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کو کام سمجھے گا۔ اس آیت سے اس کو سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کی غذا ملے گی نہ کہ اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دینے کی۔
ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کے مذکورہ تصور کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے ذہن میں حکم الہی کا نشانہ بدل جائے گا۔ اب اپنی ذات کے بجائے خارج کی دنیا وہ جگہ ہوگی جہاں وہ حکم الہی کی تعمیل کرنا چاہے گا۔ وہ اپنی زندگی کو بدلنے کے بجائے "نظام" کو بدلنے پر اپنی ساری نظریں جما دے گا۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہوں گے۔ مگر مسائل عالم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے ان کی زبان کبھی نہیں تھکے گی۔ نماز کی "اقامت" سے انھیں زیادہ دلچسپی نہ ہوگی مگر وہ حکومت الہیہ قائم کرنے کا نعرہ بلند کریں گے۔ ان کا گھر جہاں وہ آج بھی قوام کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں اہل باطل کی روش کی تقلید ہو رہی ہوگی۔ مگر ملک کے اندر وہ قوام بننے کا نعرہ لگائیں گے تاکہ ملک سے باطل نظام کو ہٹایا جا سکے۔ ان کا سینہ خدا کی یاد سے خالی ہوگا مگر وہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی تحریک چلائیں گے تاکہ دنیا بھر میں خدا پرستی کا چرچا کیا جا سکے۔ "جزء دین" پر عمل کرنے میں وہ کوتاہ ہوں گے مگر "کل دین" کے نفاذ کے لئے وہ بین اقوامی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ خواہ اس کا انعقاد عملاً وقت اور مال کے ضیاع کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔