دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف
Al-Risala, August 1978, pp. 25–33
By Maulana Wahiduddin Khan
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی تھی کہ سابق اہلِ کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے، تم لوگ ۷۳ فرقوں میں بٹ یہ تنبیہ آج واقعہ بن چکی ہے۔ مسلمانوں میں مختلف ناموں سے بے شمار فرقے اور جماعتیں وجود میں آگئی ہیں۔ ہر ایک نے اپنا علیحدہ تنظیمی ڈھانچہ بنا رکھا ہے۔ ہر ایک کا اپنا لٹریچر ہے۔ حتیٰ کہ اپنی اپنی شرعییں اور تفسیریں تیار کر کے ہر ایک نے اپنا قرآن و حدیث بھی الگ کر لیا ہے۔ یہ صورت حکم الہی کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ نے دینی اتحاد کی تاکید فرمائی تھی (آل عمران (۱۰۳) ہم نے اس کو دینی اختلاف میں تبدیل کر لیا۔ اسی صورت میں کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی رحمتیں اور نصرتیں ہمارے اوپر نازل ہوں۔
الدینی اختلاف پیدا ہونے کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے۔ دین کے کسی اضافی جزء کو اعتقاداً یا عملاً وہ اہمیت دینا جو دین کے حقیقی اور اساسی جزء کو ہونی چاہئے ۔ دین کے حقیقی حصہ کو قرآن میں الدین (شوریٰ ۱۳) اور اس کے اضافی اجزاء کو شرعة اور منہاج (مائدہ ۴۸) کہا گیا ہے۔ دین سے مراد وہ ابدی تعلیمات ہیں جو تمام پیغمبروں کو یکساں طور پر دی جاتی رہیں۔ مثلاً توحید، اخلاص وغیرہ ۔ شرعتہ سے مراد قانونی تفصیلات اور منہاج سے مراد پیغمبر کی سنت یا تعامل ہے۔ یہ تفصیلات اور تعامل وقتی حالات کے تابع ہوتے ہیں، اس لئے ان میں مختلف انبیاء کے یہاں فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا کہ صرف پہلی چیز کو مدار دین قرار دو۔ دوسرے امور میں توسع کا طریقہ اختیار کرو۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجئے :
یا ایہا الرسل کلوا من الطيبات واعملوا صالحاً اے پیغمبرو پاکیزه چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔ انی بما تعملون علیم۔ وان هذه امتكم واحدة جانتا ہوں جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور یہ تمہارے دین کے لوگ سب ایک دین پر ہیں۔ اور میں تمہارا رب ہوں۔
اس آیت کے مطابق وہ واحد دین جو تمام پیغمبروں کے درمیان متفق علیہ ہے، یہ تھا ۔ خوراک میں حلال و حرام کا لحاظ رکھنا، نیک عمل کرنا، اللہ کو علیم وخبیر جانتے ہوئے زندگی گزارنا، اللہ کو اپنا رب اور آقا بنانا، صرف اللہ سے ڈرنا۔ بعض دوسری آیتوں میں چند اور چیزوں کا اضافہ ہے۔ مثلاً حنیفیت، انابت الی اللہ، نماز، روزہ، شرک سے پر ہیز (روم۔ ۳۱) اوپر کی آیت میں عمل صالح"، ان سب چیزوں کے لئے جامع لفظ ہے۔ میں مذکورہ متعین اعمال کے علاوہ وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو قرآن کی دوسری آیات سے بالفاظ صریح ثابت ہوتی مثلاً روزہ ، عدل، ترک ظلم وغیرہ۔
یہی ثابت شدہ اور متفق علیہ دین دین قیم ہے ۔ اور دین میں اصل اہمیت انھیں چیزوں کی ہے۔ مدار دعوت بنانا ہے اور انھیں کی بنیاد پر امر وہی کی مہم چلانا ہے (آل عمران (۱۰۴) ان کے سوا جو چیزیں شریعت اور منہاج سے تعلق رکھتی ہیں، ان میں اپنے حالات کے لحاظ سے اگر چہ لارج مآ کوئی نہ کوئی ضابطہ اور طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ان کی حیثیت ہمیشہ اضافی ہوگی ۔ اگر ان کے معاملہ میں وہ شدت اختیار کی جائے جو حقیقی امور کی ہے تو یہ سبل متفرقہ کا اتباع (انعام (۱۵۳) ہے جو صرف اختلاف امت پر منتج ہوتا ہے۔ کیوں کہ الدین ایک ہے۔ جب کہ شریعت اور منہاج میں فرق ہے اور لازماً فرق رہے گا۔ اس فرق کی وجہ سے ان کے معاملہ میں کلی اتحاد ممکن نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جس کی نوعیت شریعت اور منہاج کی ہے تو اس کو یہ عنوان مت (شرعة ومنهاجا) عن ابن عباس سبيلاً وسنةً وكذا روى عن مجاهد وعكرمة وحسن البصرى وقتادة والضحاك والسدى ، ابن كثير
دیجیے کہ یہ یہی تمام انبیاء کا مشن تھا، شریعت اور منہاج میں مختلف طریقوں کا امکان ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کسی کے لئے ایک طریقہ قابل ترجیح ہوگا کسی کے لئے دوسرا۔ اب اگر اسی کو انبیاء کا اصل مشن بتایا جائے تو مختلف لوگ مختلف چیزوں کو انبیاء کا مشن سمجھنے لگیں گے اور نتیجہ یہ ایک دین میں کئی دین بن جائیں گے۔ اور درہ تفریق فی الدین وجود میں آئے گی جو اللہ کی نظر میں سخت مبغوض ہے۔
اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے شّرعتہ اور منہاج کی ایک ایک مثال لیجیے۔
سیکڑوں برس سے مسلمانوں میں بار بار ایسے لوگ اٹھتے رہے ہیں جن کا کہنا تھا کہ لوگو ”نماز ادا کرو“ مگر ان کوششوں نے امت کے اندر کبھی کوئی نمازی فرقہ پیدا نہیں کیا۔ آج کوئی ایسا تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے جو اس لئے علحدہ سمجھا جاتا ہو کہ وہ لوگوں کو نماز کی تاکید کرتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ اور لوگ اٹھے جنھوں نے اس قسم کے مسائل چھیڑے کہ نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں۔ آمین دھیرے سے کہنا افضل ہے یا زور سے کہنا، رفع یدین کے ساتھ نماز درست ہے یا اس کے بغیر۔ اس قسم کی بحثوں نے ملت کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ الگ الگ مدرسے، الگ الگ مسجدیں، الگ الگ جماعتی حلقے وجود میں آگئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو مسئلہ تفرقہ کی نوعیت کا تھا، اس کو انھوں نے الدین کی حیثیت دے دی۔ دین کا وہ حصہ جس میں ایک سے زیادہ طریقوں کی گنجائش تھی، اس کو دین کے اُس حصہ کی مانند بنانا چاہا جس میں کوئی ایک ہی طریقہ درست ہوتا ہے۔ اب منہاج کی ایک مثال لیجیے۔
مسلمان قرن اول سے لے کر اب تک ہر دور میں حکمرانوں سے نبرد آزما رہے ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان سیاسی مقابلوں کی وجہ سے امت میں کوئی علیحدہ فرقہ بن گیا ہو جو اس حیثیت سے جانا جاتا ہو کہ یہ ”مسلم سیاسی فرقہ“ ہے۔ تاریخ میں صرف دو مستثنیٰ مثالیں ملتی ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو موجودہ زمانہ میں اپنے کو حکومت الہیہ کا علم بردار شیعہ گروہ پہلی صدی ہجری میں اسلامی سیاست کا جھنڈا لے کر اٹھا۔ مگر اس کی سیاست، دوسرے سیاسی لوگوں سے بنیادی طور پر مختلف تھی۔ دوسرے لوگوں نے سیاست کو صرف سیاست (بالفاظ دیگر عملی ضرورت) کے طور پر اختیار کیا تھا۔ جب کہ شیعہ حضرات نے سیاست کو مستقل عقیدہ قرار دیا۔ سیاست اپنی نوعیت کے اعتبار سے، منہاج کے ذیل کی چیز تھی جس کی صورت وقتی حالات کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ مگر شیعہ گروہ نے سیاست کو الدین کی طرح دائمی حکم ثابت کرنا چاہا۔ خاص طرح کے مزاج کے سوا عام لوگ ان سے اتفاق نہیں کر سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے اندر ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ حکومت الہیہ کے علم بردار ہیں، وہ ایک اور انداز سے اسی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کہنا ہے کہ مسلمان کی دائمی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا سیاسی نظام قائم کرنے کے لئے ”اپنی جان لڑائے“، کیونکہ یہی اصل دینی مشن ہے اور اسی کے لئے خدا نے اپنے تمام رسول بھیجے تھے۔ اسلامی حکومت بجائے خود یقیناً ایک مطلوب چیز ہے۔ وہ منہاج کے ذیل کی چیز ہے نہ کہ الدین کے ذیل کی۔ وہ دین کا اضافی جزو ہے نہ کہ حقیقی جزو۔ یہ کوئی علی الاطلاق مشن نہیں ہے بلکہ وقتی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اہل ایمان کی کیا ذمہ داری ہے۔ چنانچہ سارے قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں بالفاظ صریح اس طرح کا حکم دیا گیا ہو یا اس کو انبیاء کا مشن بتایا گیا ہو۔ ایسی حالت میں خاص طرح
کی ذہنی افتاد کے لوگ ہی اس ایچ کا سانحہ دے سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ اس عقیدہ کے گرد جمع ہوئے وہ عام امت سے الگ ایک قسم کا سیاسی فرقہ بن کر رہ گئے۔
اوپر کی آیات میں جن چیزوں کو الالدین‘‘ ، قرار دیا گیا ہے ، اگر ان کی اقامت و پیروی کے لئے جدوجہد کی جائے تو امت میں کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آئے گا۔ کیوں کہ یہ تمام کی تمام متفق علیہ چیزیں ہیں۔ ان کی تحریک سے اتحاد کی فضا ابھرے گی ۔ اس کے برعکس شرعہ اور منہاج کی چیزوں کو لے کر اٹھنا اور کہنا کہ یہی دین ہے ، صرف تفریق فی الدین کا سبب بنے گا ، مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اسی قسم کی چیزوں کو دعوت و تحریک کی بنیاد بنا کر اپنا وہ حال کر لیا ہے جس کی تصویر اس آیت میں دی گئی ہے :
اَلَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِیَعًا ؕ كُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور ہو گئے لَدَیۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ (روم ۔ ۳۲) فرقے فرقے۔
یہ فرقہ بندی کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ دین کی اصل روح کو ختم کر دینے والی ہے۔ دینی اتحاد کی فضا ہو تو آدمی خدا سے جڑتا لوگوں کی توجہ دین کے حقیقی تقاضوں پر لگی رہتی ہے۔ اس کے برعکس دینی اختلاف کی فضا ہو تو اصل دینی تقاضے دب لوگ اہم کو چھوڑ کر غیر اہم کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ اپنے حلقے سے وابستگی کا نام لوگوں کے نزدیک دین بن جاتا ہے۔ ان کو اس اعلیٰ ایمانی سطح کا تجربہ ہی نہیں ہوتا جب کہ آدمی ہر چیز سے اوپر اٹھ کر خدا کے حضور میں چلنے لگتا ہے ۔ ورنہ ہم سنت الہی کی زد میں آجائیں گے سابق اہل کتاب (بنی اسرائیل) کو خدا کی طرف سے جو مشن سپرد ہوا ، وہ مبین کتاب (آل عمران ، ۱۸) تھا یعنی اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ بعد کے دور میں جب ان پر زوال آیا تو وہ اس کام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر تاہم اپنے نعروں اور تقریروں میں اب بھی وہ تورات ہی کی زبان استعمال کرتے تھے۔ گویا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اقامت تورات کے لئے کر رہے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے موجودہ زمانہ کے یہودیوں کی صہیونی تحریک تمام ترایک قومی مگر اس کے رہنما اپنی تقریروں اور تحریروں میں تورات کے حوالے دیتے ہیں۔ ایک ایسا کام جس کا خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ، اس کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا یہ سب کچھ خدائی احکام کی تعمیل میں کیا جا رہا ہے ۔ یہود کے اس طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے :
وَيَحْسَبُونَ أَنَّ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا ، اس پر ان بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ کی تعریف ہو۔ ان کو عذاب سے بچاؤ میں نہ سمجھو۔ (آل عمران - ۱۸۸) کو درد ناک سزا ہو گی۔
یہی معاملہ ہر اس قوم کا ہوتا ہے جس کو خدا کی کتاب کا حامل بنایا گیا ہو۔ بعد کے دور میں جب اس قوم پر زوال
آتا ہے اور وہ کتاب اللہ کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب (فرقآن - ۳۰) بنا دیتی ہے تو یہ چھوڑنا صرف عملاً ہوتا ہے کہ لفظاً۔ اس کی زندگی اور اس کی سیاست حقیقۃً دوسری راہوں پر چل رہی ہوتی ہے مگر اس کے رہنما اپنی غیر خدا پرستانہ تحریکوں کو ہمیشہ خدا پرستانہ اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک غیر دینی کام پر دین کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ ہیں کہ ایک ایسے کام کے لئے ان کی تعریف کی جائے جس کا انہوں نے کیا نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے دینی الفاظ اور تصورات اس قوم کی روایات میں شامل ہوجاتے ہیں۔ قومی قیادت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ قوم کی مانوس دینی اصطلاحات میں کلام کرے۔ اس کے بغیر نہ رہنماؤں کا اعتماد قوم کے اندر قائم ہو سکتا اور نہ عوام کا پر جوش تعاون ان کو مل سکتا ــــــــــ یہی حال موجودہ زمانہ میں مسلم قیادت کا ہوا ہے۔ انھوں نے قومی جذبات کے تحت تحریکیں اٹھائیں اور ان کو اسلام کا تقاضا بلکہ انبیاء کا اصل مشن بتاتے رہے۔ انھوں نے ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہا جس کو انھوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا تھا۔
مسلم قیادت نے موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریکیں چلائیں اور ان کو "جہاد" کا حالاں کہ جہاد خدا کے دین کی اشاعت و تبلیغ کے لئے جد و جہد کا نام ہے نہ کہ کسی ایسی سیاست کا جس کا مقصد یہ ہو کہ اجنبی حکمرانوں کو ہٹا کر ملکی لوگوں کو اقتدار کے تخت پر بٹھایا جائے۔ انھوں نے سیکولر مقاصد کے تحت متحدہ قومیت کا نعرہ لگایا اور اس کو جائز نہ ثابت کرنے کے لئے "صحیفہ مدینہ" کا حوالہ دیا۔ حالاں کہ صحیفہ مدینہ کے اد پر اسلام کے غلبہ کا اعلان تھا نہ کہ کسی مشترکہ سیاسی نظام میں مسلمانوں کی شمولیت کا۔ یہ صحیفہ کوئی دو طرفہ معاہدہ نہ تھا۔ کے پیغمبر محمد کی طرف سے ایک نوشتہ تھا مہاجرین قریش اور اہل یثرب کے لئے"۔ اس میں درج تھا: وانکم مهما اختلفتم فيه من شي فان مردہ الی اللہ والی رسولہ (اہل مدینہ کے درمیان جب کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہو تو اس کے فیصلہ کے لئے خدا اور اس کے رسول سے رجوع کیا جائے گا)۔ کسی اکثریت کا سیکولر ضمیمہ بننے کی کوشش سے اس صحیفہ کا کیا تعلق۔ انھوں نے معاشی اور سماجی حقوق کے حصول کے لئے احتجاج و مطالبات کی تحریک چلائی اور اپنے منشور میں یہ لکھا کہ ہم خیر امت کا کردار ادا کرنے کے لئے اٹھے ہیں۔ حالاں کہ جن اقوام کے خلاف وہ حقوق طلبی کی مہم لے کر اٹھے تھے، وہ ان کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی تھیں اور مدعو قوم سے ’’اجر‘‘ کا مطالبہ سراسر اسلام کے انھوں نے انسانی بھائی چارہ اور دنیوی امن کے لئے تقریری مہم چلائی اور کہا کہ یہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا۔ کیونکہ دور جاہلیت کے حلف الفضول میں آپ شریک ہوئے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ مظلوموں کی مدد اور حق داروں کو ان کا حق دلانے کے اس معاہدہ میں آپ نے اپنی پندرہ سال کی عمر میں شرکت فرمائی تھی۔ نبوت ملنے کے بعد آپ نے فرمایا: لو دعيت به في الاسلام لاجبت (زمانہ اسلام میں بھی اگر مجھے اس کے لئے بلایا جائے تو میں لبیک کہوں گا) مگر ے اس معاہدہ کا نام حلف الفضول اس لئے پڑا کہ اس میں یہ جملہ تھا : تُرَدُّ الفضول الی اھلہا (سبیل، روض الانف) یعنی مال ان کے مالکوں کو لوٹایا جائے گا ۔
اولاً تو حلف الفضول تعمیری دوروں کی کوئی مہم نہ تھی۔ وہ عملی داد رسی کا عہد نامہ تھا۔ دوسرے نبوت ملنے کے بعد آپ نے خود حلف الفضول کی تجدید نہیں کی بلکہ اس میں شرکت کو دوسروں کی پکار پر مشروط رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلف الفضول بجائے خود ایک جائز اور مطلوب کام ہونے کے باوجود بہر حال فلاح دنیا کے ذیل کا ایک پر وگرام تھا۔ جب کہ نبوت کا اصل مشن فلاح آخرت کا پیغام ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ قائدین نے اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چھیڑ دی اور اعلان کیا کہ شریعت اسلامی کے نفاذ اور قیادت صالحہ کے قیام کے لئے ہم ایسا کر رہے ہیں۔ حالاں کہ صریح ہدایات کے مطابق اسلام میں یہ جائز ہی نہیں کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی منازعت کی جائے ۔
اس قسم کی تمام "اسلامی" مہمیں جن میں مسلمان موجووہ زمانہ میں مشغول رہے ہیں وہ رب کی سب "يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُ و ابِمَالَمْ يَفْعَلُوا" کا مصداق ہیں۔ یہ ایک غیر اسلامی کام کے لئے اسلام کا کریڈٹ لینے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش ہمیشہ خدا کی نصرت سے محروم رہتی ہے ، اس لئے خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے ، دہ بہر حال بے نتیجہ رہے گی ۔ وہ امت کے لئے کسی حقیقی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتی ۔ بائبل کی روایات کے مطابق دارا بادشاہ (پانچویں صدی قبل مسیح) کے زمانہ میں ایک سچی نبی گزرے ہیں۔ انھوں نے یہود کی بگڑی ہوئی حالت پر ان کو تنبیہ کی ۔ انھوں نے تمثیلی زبان میں کہا :
رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو ۔ تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے تم نے بہت کی امید رکھی اور دیکھو تھوڑا ملا اور جب تم اسے اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔ اس لئے کہ میرا گھر ویران ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے۔ اس لئے نہ آسمان سے اوس گرتی ہے اور نہ زمین اپنا حاصل دیتی ہے ۔
یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا انجام ہوا ہے۔ انھوں نے "بہت بویا پرتھوڑا کاٹا‘‘۔ عالی شان تحریکوں اور دھواں دھار کانفرنسوں کا حاصل عملاً اتنا کم ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہمارا ہر قائد اپنی "محنت کی کمائی"، کو سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے ۔
. شاہ ولی اللہ دہلوی ( - ۱۷۰۳ء) نے احمد شاہ ابدالی کے ذریعہ مرہٹوں پر حملہ کرایا۔ سید احمد بریلوی (۱۸۳۱ - نے سکھوں سے جہاد کیا۔ مگر عملاً اس کا فائدہ صرف انگریز کو پہنچا۔ سید قطب مصری (۱۹۶۶ - اور ان کے ساتھیوں نے شاہ فاروق کے خلاف قربانیاں دیں۔ مگر اس کا فائدہ تمام تر فوجی افسروں کے حصہ میں چلا گیا ۔ پاکستان میں اسلام پسندوں نے جمہوریت کے ذریعہ اسلام کا اقتدار لانے کے لئے ۳۰ سال تک سرفروشی کی ۔ مگر اس کا فائدہ مسٹر بھٹو اور جنرل ضیاء الحق جیسے لوگوں کو ملا۔ ۱۳۷۴ء میں جامعہ ازہر سے ایک جلوس نکلا جس کی قیادت شیخ حسن البنا (۱۹۴۸ - ۱۹۰۶) کر رہے تھے۔ ہزاروں پر جوش مسلمانوں نے قاہرہ کی سڑکوں پر لبیک یا فلسطین (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) کے نعروں کے ساتھ اسرائیل کے خلاف اپنی جدو جہد کا آغاز کیا۔ پچھلے ۳۵ سال میں اس مہم میں جان و مال کی اتنی زیادہ
قربانیاں دی گئی ہیں جو تین سو سالہ صلیبی جنگوں کی مجموعی قربانی سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر فلسطین کا مسئلہ نہ صرف یہ حل نہیں ہوا۔ بلکہ جہاں نہ ۴۸ میں تھا، آج اس سے کہیں زیادہ دور جا چکا ہے۔
اس مدت میں ہمارے درمیان ایسے قائدین اٹھے جن کو بادشاہوں تک کا تعاون حاصل تھا ( شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی ) ہم نے ایسی تحریکیں اٹھائیں جنھوں نے عظیم ترین آبادی والے ملک کے تقریباً تمام مسلمانوں کی تائید حاصل کرلی (مسلم لیگ) حتیٰ کہ ہمارے درمیان ایسی بھی تحریکیں اٹھیں جن کو تمام عالم اسلام کی مشترکہ حمایت حاصل تھی (فلسطینی تحریک) ایسے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ ہوسکی ۔ آج بھی یہ حال ہے کہ کسی جماعت کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ اس کے دینی اجتماعات میں دس دس لاکھ مسلمان شریک ہوتے ہیں (ہندوستان) کسی اسلامی تحریک کے اپنی مقبولیت کو بتانے کے لئے یہ پر فخر الفاظ پا رہے ہیں کہ ملک کا ہر فرد ان کے اسلامی نظام کے پروگرام سے اتفاق کرتا ہے (پاکستان) یہ سب کچھ ہے مگر وہی چیز حاصل نہیں ہوتی جو تمام قائدین اور جماعتوں کا مشترکہ مقصد ہے یعنی اسلام کا غلبہ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کی حیثیت اس دنیا میں خدا کے نمائندہ کی ہے۔ وہ آسمانی کتاب کے حامل ہیں۔ اس کے کسی گروہ کی قسمت تمام تر اس کتاب کے ساتھ بندھی ہوئی ہوتی ہے۔ خدا کی نظر میں ان کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ دنیا کی قوتوں کے سامنے خدا کی کتاب کا اعلان و اظہار کر رہے ہوں۔ اس کام کو چھوڑنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں اسی طرح بے قیمت ہو جائیں گے جس طرح پچھلے حاملین کتاب بے قیمت ہو گئے۔ کوئی دوسرا کام خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کیا جائے، خدا کی نظر میں ہم کو قیمت والا نہیں بنا سکتا۔
۱۹۶۲ میں چین نے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر حملہ کیا۔ چینی فوجیں آسام کے علاقہ میں گھس آئیں۔ اس وقت تیز پور (آسام) میں جو ہندوستانی کمشنر تھا وہ اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگ گیا اور اپنے وطن میں آکراپنے بیوی بچوں کے ساتھ مقیم ہو گیا۔ حکومت کو معلوم ہوا تو اس نے کمشنر کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس پر سرکاری ڈیوٹی چھوڑنے کا مقدمہ چلایا گیا اور اس کو سخت سزا دی گئی۔ بچوں میں رہنا یا اپنے گھر کا انتظام سنبھالنا عام آدمیوں کے لئے کوئی غلط بات نہیں۔ مگر کمشنر کے لئے یہی بات نا قابل معافی جرم بن گئی۔ کیوں کہ کمشنر کی قیمت ”تیز پور“ میں تھی۔ گھر کے اندر نہ تھی۔ اگر وہ اپنے ڈیوٹی کے مقام پر جمارہتا تو اس وقت وہ حکومت کا نشان ہوتا۔ بلکہ وہ حکومت کے لئے عزت کا سوال بن جاتا حکومت اس کو بچانے کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دیتی۔ مگر جب اس نے اپنی وہ جگہ چھوڑ دی جہاں اس کو رکھا گیا تھا تو حکومت کی نظر میں اس نے اپنی قیمت کھو دی ۔ اب وہ ہر حال میں مجرم تھا خواہ کسی اور میدان میں وہ کتنی ہی سرگرمیاں دکھار ہا ہو، خواہ وہ بظاہر صحیح اور مفید ہی کام کیوں نہ کر رہا ہو۔
ہماری نجات اور کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم خدا کی کتاب کی طرف لوٹیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح سنت الہی کی زد میں آجائیں جس طرح اس سے پہلے یہود آگئے ۔ اور اس کے بعد نہ دنیا میں ہماری کوئی قیمت ہو اور نہ آخرت میں۔ دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت قرآن اور احیاء سنت کا نام دینا صرف ہمارے وزر (بوجھ) میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ہماری نجات کا سبب نہیں بن سکتا۔
12.00 " " الاسلام 2.00 " " تجدید دین 12.00 " " ظہور اسلام " " حالات صحابہ 3.00 " " زلزلہ قیامت " " تاریخ کا سبق " " تعمیر ملت 13.50 " " مذہب اور جدید چیلنج " " اسلامیات " " عقلیات اسلام 24.00 زر تعاون سالانہ تعمیری اور اصلاحی مضامین کے مستقل مطالعہ کے لئے ماہنامہ الرساله مكتبہ الرساله جمعیة بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶ MAKTABA AL-RISALA, JAMIAT BUILDING, QASIMJAN STREET, DELHI 110006
رمضان المبارک میں روزہ داروں کے لیے طاقت و توانائی کا ذریعہ جب آپ روزے رکھ رہے ہوں تو آپ کو اپنی صحت کا خاص طور سے خیال سنکارا روزہ رکھنے والوں کے لیے توانائی اور طاقت کے حصول کا بہترین وسیلہ ہے۔
اس میں وہ تمام ضروری وٹامن اور معدنی اجزا شامل ہیں جن کی آپ کے جسم کو ضرورت ہے اور انہی کے ساتھ وہ قدرتی اجزا بھی شامل ہیں جن کی مدد سے روز مرہ کی خوراک کی پوری غذائیت جسم میں پہنچ کر تندرستی اور قوت کو بڑھاتی ہے۔ اس طرح سنکارا سے آپ دوہرا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ سحری اور افطار کے وقت سنکارا کی ایک ایک خوراک لینے سے تھکاوٹ دور ہو کر چستی پیدا ہوگی اور آپ رمضان المبارک کے فرائض آسانی سے ادا کرنے کے لیے چست و مستعد ہو جائیں گے۔ وٹامنوں اور قدرتی اجزا سے بھر پور ہر موسم میں گھر بھر کے لیے