اسلام وہی ہے جو زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو
Al-Risala, September 1978, pp. 8–12
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کے بعض ملحد مفکرین نے دیکھا کہ انسان کسی طرح مذہب کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ انھوں نے مذہب کو ایک ناگزیر نفسیاتی ضرورت کے طور پر مان لیا۔ البتہ انھوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد خدائی الہام پر نہیں ہونی چاہئے۔ اس فکر کی ترجمانی کرتے ہوئے جولین ہکسلے نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : RELIGION WITHOUT REVELATION مذہب بغیر الہام) ۔ اس قسم کا مذہب تو ابھی عملاً وجود میں نہیں آیا۔ تا ہم ” اسلام بغیر آخرت“ کے بہت سے نسخے ہمارے یہاں رایج ہو گئے ہیں۔ اس اسلام میں سب کچھ ہے مگر جہنم کا اندیشہ نہیں۔ اصحاب رسول کو جو اسلام ملا تھا، اس نے انھیں اس درجہ بے قرار کر دیا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا جہنم کی آگ انھیں کے لئے بھڑکائی گئی ہے۔ اب اسلام کے مجاہدین نے ایسا اسلام دریافت کر لیا ہے جس کے خزانے میں صرف جنت ہی جہنم کا اس میں کہیں گزر نہیں ۔
کچھ لوگوں کے لئے ان کی دنیا کی کامیابی ہی اس بات کی یقینی علامت ہے کہ ان کی آخرت بھی ضرور کامیاب ہو گی ۔ کچھ لوگوں نے ایسے زندہ یا مردہ بزرگ پالیے ہیں جن کا دامن تھام لینے کے بعد اب ان کے لئے آخرت کا کوئی خطرہ نہیں۔ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت ہیں کہ معمولی معمولی باتوں پر صبح و شام ان کے لئے جنت کے محلات رزرو ہو رہے ہیں ، پھر ان کو آخرت سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔ کچھ لوگوں کو اسلام نے عالیشان سیاسی منصوبے دیئے ہیں اور وہ قائدانہ اعزازات کے زیر سایہ جنت کا راستہ طے کر رہے ہیں ۔ نے اور بھی زیادہ آسان راستہ تلاش کر لیا ہے ۔ جگمگاتے ہوئے پنڈالوں میں تقریر کے کرتّب دکھاؤ اور سیدھے جنت الفردوس میں پہنچ جاؤ۔
اس قسم کا اسلام خواہ دنیا میں کتناہی دلفریب نظر آتا ہو ، آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ آخرت میں کام آنے والا اسلام وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو۔ جو قیامت کے زلزلہ سے پہلے آدمی کے لئے زلزلہ ثابت ہو۔ اس قسم کا اسلام جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے لئے ہر معاملہ خدا کا معاملہ بن جاتا ہے ۔ ” چھوٹے “ کو بے عزت کرتے ہوئے اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ رب العالمین کے سفیر کو بے عزت کر رہا ہے ۔ ” بڑے کی خوشامد کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کر رہا ہے ۔ حق واضح ہونے کے بعد اس کو نظر انداز کرنا اس کے نزدیک ایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کوئی شخص جنت اور جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے ، پھر بھی جنت کو چھوڑ کر جہنم میں کود پڑے ۔
امریکہ میں انسانی حقوق کے عنوان پر ایک بین اقوامی سیمینار ہو، اس کے لئے آپ کے پاس دعوت نامہ آئے، آپ ہوائی جہاز سے اُڑ کر امریکہ پہنچیں اور وہاں شان دار اسٹیج پر ایک تقریری ریکارڈ دہرادیں۔ تو یہ خبر فوراً اخبار میں چھپ جائے گی۔ اس کے برعکس اگر آپ کو آخرت کا ڈر ہے۔ اور جہنم کے اندیشے کے تحت آپ لوگوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو یہ واقعہ کبھی اخبار کی سرخی نہیں بنے گا۔ آخر الذکر عمل کی حقیقی سطح ہے۔ اول الذکر عمل کی مصنوعی سطح۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر شخص ، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، عمل کی مصنوعی سطح پر زندگی گزار رہا ہے۔ امور میں تو خوب کارنامے دکھاتا ہے جن میں نیوز ویلو " ہو، جن سے اس کی امیج بنتی ہو، جن میں عزت و جاہ کے استقبالئے وصول ہوتے ہوں، جن میں حق کی علم برداری کا عالمی کریڈٹ ملتا ہو، جو اس کو اخبار کی سرخیوں میں جگہ دینے والے ہوں۔ مصنوعٰی سطح کی چمک دمک نے لوگوں کو اتنا زیادہ اپنی طرف کھینچ رکھا ہے کہ عمل کی حقیقی سطح کی طرف توجہ دینے کی کسی کو فرصت نہیں۔ دوسری طرف لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی معاملہ پڑ جائے تو وہ کچے ثابت ہوں، کسی سے اختلاف پیدا ہو تو انصاف پر قائم نہ رہ سکیں ، ان کی غلطیاں روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں جب بھی وہ اعتراف نہ کریں۔ ایک مظلوم ان سے بے لاگ فیصلہ کی امید نہ کر سکے۔ کھلی کھلی نشانیاں ظاہر ہوں مگر وہ عبرت نہ پکڑیں۔ وہ اپنے دل کو حسد ، بغض ، کینہ ، نفرت ، عصبیت سے پاک نہ کریں۔ وہ طاقت کے آگے جھک جائیں ، مگر دلیل کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ خدا کی آیتیں سن کر ان کے دل نہ دہلیں اور آخرت کی جواب دہی کے خوف سے ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوں۔
لوگ عمل کی مصنوعی سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ اور عمل کی جو حقیقی سطح ہے وہاں ناکامی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ جلسوں اور کنونشنوں کی دھوم ہے، جہاداور انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں۔ دوسری طرف خاموش تعمیری کام کا سارا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور اس کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔
دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ محض زبانی الفاظ سے حضرت مسیح نے اپنے ایک وعظ میں فرمایا: مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈ و تو پاؤ گے۔ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے۔ اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے، اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اس کو پتھر دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اس کو سانپ دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا۔ (متی ۷: ۷۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو "خدایا مجھے اپنا بنالے"، مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں۔ کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی۔ خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے۔ آپ اگرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔ آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دین داری میں تیار رہنے دے آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کر دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی آخر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ تھیلی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی تو نے مجھے نہ دی۔ بخدایہ نا ممکن ہے، یہ نا ممکن ہے۔ یہ نا ممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے ۔ " کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، مگر جنہیں لینا ہے وہ اندھے بہرے بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔
" میرے لئے ایک سائیکل خرید دیجئے " بیٹے نے باپ سے کہا۔ باپ کی آمدنی کم تھی۔ وہ سائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا " میں نے کہہ دیا کہ میں سائیکل نہیں خریدوں گا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔
یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا: " آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں " اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا۔ اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمہارے لئے سائیکل خریدوں گا۔ اور کل ہی خریدوں گا یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کر کے بیٹے کے لئے نئی سائیکل خرید دی ۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی ۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سر پرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سر پرست کے لئے بھی اتناہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا خود اس کے لئے۔
اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ذکر الہیٰ کی وہ کون سی قسم ہے جو میزان کو بھر دیتی ہے اور جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی " نصاب " ہے۔ یہ ذکر کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل جب بندے کی آنکھ سے عجز کا نہ زہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ "بیٹا" اور "باپ" دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ذکر محض لغت کا لفظ نہیں ہوتا بلکہ ایک شخصیت کے کھلنے کی آنسا نہ ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتی ہیں۔ عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔
مارشل اسٹالن (۱۹۵۳-۱۸۷۹) تاریخ کے پہلے ملحدانہ نظام کے سربراہ تھے۔ ان کو ۳۰ سال تک انتہائی مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ مگر ان کی موت اتنے بھیانک حالات میں ہوئی کہ ان کی اکلوتی لڑکی سویتلانا نے الحاد کو چھوڑ کر مذہبی زندگی اختیار کرلی۔
"میرا باپ ایک شکل اور بھیانک موت مرا، سویتلانا لکھتی ہے " یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی شخص کو مرتے ہوئے ہیمورج آہستہ آہستہ اس کے دماغ کے بقیہ حصوں میں پھیل رہا تھا۔ چوں کہ اس کا دل صحت مند اور مضبوط تھا۔ اس نے سانس کے مرکز کو بتدریج متاثر کیا اور اس کی وجہ سے گلا گھٹنے کی سی کیفیت پیدا ہوگئی اس کی سانس کم سے کم ہوتی جارہی تھی۔ آخری بارہ گھنٹوں میں آکسیجن کی بڑی سنگین تھی۔ اس کا چہرہ بدل گیا اور کالا ہوگیا۔ اس کے ہونٹ بھی سیاہ پڑگئے اور شکل پہچاننی مشکل ہوگئی۔ آخری لمحات میں اس اوپر اختناق کی حالت طاری تھی۔ موت کی تکلیف ہولناک دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
بالکل آخری لمحات میں اچانک اس نے آنکھ کھول دی اور کمرہ کے ہر شخص پر ایک نظر ڈالی۔ یہ دیکھنے کا منظر بھی بڑا بھیانک تھا۔ وہ پاگلوں سا ہنستا یا غصہ میں تھا۔ اس پر دہشت طاری تھی۔ شاید موت کے ڈر سے اور ڈاکٹروں کے نامانوس چہروں سے جو اس کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔ اس کی نظر ایک سیکنڈ میں سب کے اوپر سے گزر گئی۔ تب ایک ہولناک اور ناقابل فہم جس کو آج تک نہ میں بھلا سکی ہوں اور نہ سمجھ سکی ہوں۔ اس نے اچانک اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا جیسے وہ پر کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا چاہتا تھا ۔ اور کوئی آتا ہوا عذاب ہم سب پر ڈال دینا چاہتا تھا۔ اشارہ ناقابل فہم تھا اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس کی طرف یا کس چیز کی جانب اشارہ کرنا چاہتا تھا۔ اگلے لمحہ ایک آخری کوشش کے بعد، جھٹکا ہوا اور جان اس کے جسم سے نکل گئی۔ (انڈین ایکسپریس ۱۲ ستمبر، ۱۹۶۷) غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا رخ دنیا کی طرف ہوجائے۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دلچسپی ہو، وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو۔ وہ انہیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں، جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو، جس میں اس کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہو۔
اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) ہوتی ہے۔ کی دلچسپیوں کا مرکز آخرت ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں اپنی امیج بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت غیر مومن مرنے کے بعد اپنی آخرت کو دیکھے گا اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جاتا ہے۔