ہم میں سے ہر شخص زندگی کے
Al-Risala, September 1978, pp. 13–16
By Maulana Wahiduddin Khan
مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب یہ احساس اگر زندہ ہو تو آدمی ہر موت کو اپنی کا جنازہ دیکھے تو ایسا معلوم ہو گویا خود اس کی لاش اٹھا کر قبر کی طرف لے جائی جارہی ہے۔
24 ا گست ۱۹۷۷ء کو دہلی کے اخبارات کا پہلا صفحہ بڑا عبرت ناک تھا۔ اس میں شری بنسی لال کی گرفتاری کی خبر تھی۔ اسی کے ساتھ ایک تصویر تھی جس میں ہندوستان کے سابق وزیرِ دفاع کو پولیس کی حراست میں دکھایا گیا تھا۔ اپریل ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں کانگریس کی شکست سے پہلے جو شخص وزیرِ اعظم آدمی اگر خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو محسوس ہو گویا خود اسی کو باندھا جا رہا ہے کر دیا گیا ہے۔ کل تک وہ وی وی آئی پی (VVIP) تھا آج وہ صرف ایک مجرم ہے ، ایسا مجرم جس کو قانون نے اپنی تمام بے رحمیوں کے ساتھ اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ موت بھی اسی قسم کی ایک گرفتاری ہے۔ تمام دوسری گرفتاریوں سے زیادہ سخت ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کے مالک کی طرف سے اس کے بندوں کی گرفتاری ہے۔ گرفتاری کا یہ دن ہر آدمی کی طرف تیزی سے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ "بنسی لال" اور "بھٹو" کی گرفتاری سے تو خوب واقف ہیں۔ مگر خود اپنی گرفتاری کی انھیں خبر نہیں۔ وہ دوسروں کے پکڑے جانے کا خوب چرچا کرتے ہیں ۔ مگر اس دن کو یاد نہیں کرتے جب کہ کے بعد ملک کا دوسرا سب سے طاقت ور آدمی سمجھا جاتا تھا، وہ یہاں ہتھکڑی میں بندھا ہو ا نظر آ رہا تھا۔ اخبار پڑھنے والوں کے لئے یہ کوئی انوکھی خبر اس قسم کی گرفتاری کی خبریں آئے دن اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص جو کل اعلیٰ اختیارات کا مالک تھا ۔ آج اس کو ایک معمولی آدمی کی طرح پکڑ کر جیل کی کوٹھری میں بند خدا کے فرشتے خود ان کو اس سے زیادہ بے رحمی کے ساتھ پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیں گے ۔ خدائی گرفتاری کا یہ دن اتنا ہولناک ہے کہ اگر آدمی کو اس کا واقعی احساس ہو جائے تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے۔ دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو ایسا محسوس ہو گو یا خود اسی کو باندھا جا رہا ہے ۔ (۹ مئی ۱۹۷۸ء)
۷۱ء، میں یورپ کے ایک شہر میں تباہ کن زلزلہ آیا۔ چند روز بعد لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی آواز لگا کر بھونچال روک گولی (ANTI-EARTHQUAKE PILL) بیچ رہا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ تمہاری یہ گولی بھونچال کو کس طرح روکے گی ۔ اس نے فوراً جواب دیا :
BUT WHAT IS THE ALTERNATIVE:
(پھر دوسری صورت کیا ہے)۔ بھونچال روک گولی کا یہ کاروبار اگرچہ آگے نہیں بڑھا۔ وہ محض لطیفہ بن کر مگر عجیب بات ہے کہ سب سے بڑے بھونچال (زلزلہ آخرت) کے لئے لوگوں نے اسی قسم کی گولیاں بنالی ہیں اور نہایت بڑے پیمانے پر اس کا کاروبار ساری دنیا میں ہورہا ہے۔
بھونچال روک گولی کے ایک بہت بڑے مبلغ لکھتے ہیں :
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان کا اہتمام کرلے ، جنت میں داخل ہو اور وہ دونوں بہت معمولی چیزیں ہیں۔ مگران پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ایک یہ کہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ پڑھ لیا کرے تو روزانہ ایک سو پچاس مرتبہ (پانچوں نمازوں کے بعد کا مجموعہ) ہو جائے گا اور دس گنا ہو جانے کی وجہ سے1500 نیکیاں حساب میں شمار کی جائیں گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ سوتے وقت اللہ اکبر 33 مرتبہ ، الحمد للہ ۳۳ مرتبہ ، سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ پڑھ لیا کرے تو 100 اکیلے ہو گئے جس کا ثواب دس گنا بڑھ کر ایک ہزار نیکیاں ہوگئیں۔ اب ان کی اور دن بھر کی نمازوں کے بعد کی میزان کل دو ہزار پانچ سو نیکیاں ہو گئیں۔ بھلا اعمال تولنے کے وقت ڈھائی ہزار برائیاں روزانہ کی کس کی ہوں گی جو ان پر غالب آجائیں (۱۳۳) “ ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اس بات کو نہ چھوڑے کہ ہزار نیکیاں روزانہ نہ کریا کرے ۔ سبحان اللہ و بحمدہ سو مرتبہ پڑھ لیا کرے۔ (دس گنا بڑھ کر یہ ہزار نیکیاں ہو جائیں گی اتنے گناہ تو انشاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں۔ اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں رہا۔
مغفرت کا معاملہ اگر اس قسم کے سادہ حساب کا معاملہ ہوتا تو صحابہ کا یہ حال نہ ہوتا کہ وہ آخرت کے خوف سے بے قرار رہتے اور یہ کہتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا ، کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ اس قسم کا عجیب و غریب اسلام اس لئے وجود میں آیا کہ ذکر کو درد کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ اب گناہ اور ثواب دونوں گنتی کی چیز بن گئے اور یہ ممکن ہو گیا کہ ایک گنتی کی کمی کو دوسری گنتی کی زیادتی سے برابر کر لیا جائے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ذکر کوئی شمارتی ذکر اپنی شعوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو اس کی تمام عظمتوں کے ساتھ پالیتا ہے تو اس کا پورا وجود اس کی یاد میں غرق ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر آدمی کے اندر قناعت یا بے خوفی پیدا نہیں کرتا ، بلکہ وہ آدمی کو خوف و دہشت سے بھر دیتا ہے۔ خدا کے جلال و جبروت کی یاد جس کے اندر بے خوفی کی نفسیات پیدا کرے ، اس نے خدا کو یاد ہی نہیں کیا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ بندہ جب خدا کو یاد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔ خدایا ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (رَبَّنَا فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، آل عمران)
جب کسی کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ حق کو ٹھکرا کر بھی وہ حق کا چیمپین بنا رہے کسی کے اسلام نے اس کو یہ اطمینان عطا کیا ہے کہ جنت کے محلات اس کے لئے رزرو ہیں۔ اسلام نے اس کو تقریر و خطابت کا شان دار عنوان دے رکھا ہے۔ کسی کا اسلام اس کو انقلابِ عالم کا چیمپین بنائے ہوئے ہے۔
بخدا یہ وہ اسلام نہیں جس کو رسول اور اصحابِ رسول نے پایا تھا۔ لوگ اگر اس اسلام کو پالیں تو ان کی زبانیں بند ہو جائیں۔ ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور ان کے دلِ خدا کے خوف سے لرز روشنی کے بجائے تاریکی اور پر رونق مجالس کے بجائے تنہائیاں ان کی محبوب ترین چیز بن جائیں۔ دوسروں کے سامنے شاندار تقریروں کا کرشمہ دکھانا ان کو بے ہودہ فعل معلوم ہونے لگے۔ اور حماقتوں کا جائزہ لینے میں وہ اتنا مشغول ہوں کہ دوسروں کے پیچھے دوڑنے کی انھیں فرصت نہ رہے۔ آج کی دنیا میں آدمی کھاتا پیتا ہے۔ گھر بناتا ہے۔ عہدے اور مناصب حاصل کرتا ہے۔ وصول کرنے کے لئے دوڑتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو مستقل حیثیت سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک بے زر و کیڑا ہے۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ اس کی یہ تمام اضافی حیثیتیں چھین لی جائیں گی۔ حتیٰ کہ لباس بھی اتار لیا جائے گا جو آدمی کے اثاثہ کی آخری چیز ہوتا ہے۔ وہ اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ ”ننگے جسم، ننگے پاؤں اور غیر مختون“ حالت میں رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس دن ساری اونچ نیچ مٹ جائے گی۔ خوف و دہشت سے لوگوں کی زبانیں بند ہو چکی ہوں گی۔ آدمی کے اپنے وجود کے سوا ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ کسی کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ حق کے پیغام کو نظر انداز کر کے بھی حق کا ٹھیکیدار بنا رہے ۔ اس آنے والے دن کو جو آج دیکھ لے، وہی کامیاب ہے۔ جو شخص اسے کل دیکھے گا ، اُس کے لئے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ ” ابد تک روتا اور دانت پیستا رہے “
تعریف سے خوش ہونا اور تنقید سے گھبرانا، پستی کی علامتیں ہیں۔