اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
Al-Risala, September 1978, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ اس کو تعریف اور تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لئے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں۔ بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر رہا ہو۔
اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کیسا ہیبت ناک دن ان کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں اور ان کے پاس بولنے کے لئے الفاظ نہ رہیں اس آئینہ میں آپ اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں خدا کے وفادار بندوں کے مشیر فرشتے ہوتے ہیں اور خدا کے باغیوں کے مشیر شیطان ۔ جو آدمی اختلاف کے وقت تواضع اختیار کرے، وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو یہ توفیق ملی ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے مشیر بنیں۔ کیونکہ فرشتوں کی صفت یہ ہے کہ وہ استکبار نہیں کرتے۔
اس کے برعکس جو لوگ اختلاف کے وقت ظلم اور ناانصافی پر اتر آئیں اور متکبرانہ روش اختیار کریں، وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھوں نے شیطان کو اپنا مشیر بنا رکھا ہے۔ کیونکہ یہ ت ۔ آن میں گھمنڈ اور سرکشی کو صرف شیطان کی صفت بتایا گیا ہے