کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے
Al-Risala, September 1978, pp. 18–22
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانوں کی دنیا سے دور خدا کی دنیا کتنی حسین ہے“، میری زبان سے نکلا۔ میں ایک ٹیلہ پر قدرت کے آفاقی مناظر میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ ”کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے۔ بقیہ کائنات کو خدا انتہائی محکم بنیادوں پر چلا رہا ہے۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ کرامتوں کی ایک پر اسرار دنیا بنا کر اس کے اندر طلسماتی کارنامے دکھائیں۔ خدا کو شیشم یا چنار کا ایک درخت اگانا ہو تو وہ سو سال کا ہمہ گیر منصوبہ بناتا ہے۔ مگر اپنے بندوں سے وہ چاہتا ہے کہ نعروں اور تقریروں کا طوفان اٹھا کر آنا فاناً حالات کو بدل ڈالیں۔ کائناتی کارخانہ میں ہر طرف نفع رسانی اور منفعت بخشی کا سیلاب بہہ رہا ہے۔ مگر کائنات کا مالک اپنے بندوں سے جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ کہ وہ دوسروں کو ” نقصان پہنچانے“ کا کمال دکھائیں اور خیر امت ہونے کا ٹائٹل حاصل کریں ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں وہ ہر آن متحرک ہے۔ مگر مدرسوں اور خانقاہوں میں وہ تقلید اور جمود پر راضی ہو گیا ہے ۔ پھولوں اور پتیوں میں وہ خوش ذوقی کا دریا بہا رہا ہے۔ ہوا کے جھونکوں اور پانی کے جھرنوں میں وہ لطافت کا خزانہ بکھیر رہا ہے۔ آسمان کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی میں وہ خاموش عظمتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ گدھے اور کوے کی طرح چیخیں اور احتجاج اور مطالبات کی غوغا آرائی کریں۔ ہری بھری گھاس سے لے کر نیلے آسمان تک ہر طرف اتھاہ حکمت نظر آتی ہے۔ انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر اپنے بندوں سے خدا ایسی عبادات پر راضی ہے جس میں کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرالینے سے بڑے بڑے مقامات طے ہوتے ہیں اور عالی شان جنتیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ کائنات کی سطح پر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی دنیا رنگ اور خوشبو بکھیرنے والے پھولوں اور پیار اور بے نفسی کا سبق دینے والی چڑیوں کے لئے ہے۔ مگر دین کے ٹھیکیدار آج جس دین کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی جنت گویا نکھے لوگوں کا بڑا خانہ ہے یا سحروں کی نمائش گاہ حقیقت یہ ہے کہ جو دین آج مقررین اسلام اور مفکرین ملت ہر طرف تقسیم کر رہے ہیں، اس کو دین کہنا قرآن پر اتہام ہے۔ اسامہین خدا کی اس عظیم اور حسین کائنات میں ایک مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کی جنت لطیف ترین سرگرمیوں (بس ھ ھ) کی ایک دنیا ہوگی۔ موجودہ دنیا میں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو ان اعلی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل ثابت ہوسکیں۔ یہ اہمیت حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر الہی اوصاف پیدا کرے (تخلقوا باخلاق اللہ) وہ ذاتی میلانات کی پست سطح سے اوپر اٹھ جائے اور خدائی شعور کی بلند سطح پر جینے لگے۔ تقریری چمیتکار یا عملیاتی کرشموں کو جنت کا دروازہ سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سرکس میں کمال دکھا کر سمجھے کہ وہ ملک کا وزیر اعظم بننے کا استحقاق پیدا کر رہا ہے ۔
ایک لیڈر جب وزیر ہو جائے یا کسی بڑے سیاسی عہدہ پر پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لئے اپنے محکمہ میں کوئی کام نہیں رہتا، اس کا کام ہمیشہ کسی ایسے مقام پر ہوتا ہے جو اس سے ہزاروں میل دور ہو۔ اس کے قدموں کے نیچے جو زمین ہے، وہ مسائل کا انبار لئے ہوئے کراہ رہی ہوگی ، مگر یہ کراہ اس کو سنائی نہ دے گی ، البتہ دور کے کسی مقام پر مسائل انسانی پر ایک سیمینار ہورہا ہو تو اس کا افتتاح کرنے کے لئے اس کے پاس کافی وقت ہوگا۔ حکمرانوں کی اسی روش کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک عظیم ملک اتنی لمبی مدت سے ان کے زیر انتظام ہے ، مگر وہ ملک کو اس کے سوا کوئی اور تحفہ نہ دے سکے کہ اس کو مہنگائی، رشوت ، بدعنوانی اور بے انصافی سے بھر دیں۔
یہی روایت ہمارے ملی رہنماؤں میں بھی گھس آئی ہے۔ ہمارے رہنماؤں کی پہنچ اتنی بلند نہیں جتنی ملک کے سیاسی عہدہ داروں کی ہوسکتی ہے۔ تاہم اپنے دائرہ میں وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہرارہے ہیں جس کا نمونہ ان کے حکمرانوں نے ۳۰ سال سے قائم کر رکھا ہے۔ ہمارے ہر رہنما کا یہ حال ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے اس کے لئے کوئی کام نہیں۔ چھوٹے رہنماؤں کی پرواز چند سو میل کے دائرہ تک محدود ہے۔ جو اس سے بڑے ہیں ان کا کام ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہوتا ہے اور جو اور بڑے ہیں وہ بین اقوامی دائرہ میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے کام پارہے ہیں ۔ غرض ہر ایک کا کام دور کے کسی علاقہ میں واقع ہے جہاں وہ چند روز کے لئے مہمان بن کر جائے اور اعزازات کے ماحول میں شان دار تقریر کر کے اس طرح لوٹے کہ دوبارہ اسی قسم کے کسی دور دراز مقام پر واقع ایک اسٹیج اس کے جلووں کا انتظار کر رہا ہو۔
مگر یہ کام کرنے کا طریقہ نہیں۔ اگر ہمارے رہنماؤں کی یہ روش باقی رہی تو ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور کو بھی ہم اسی طرح کھودیں گے جس طرح اس سے پہلے کے دور کو ہم کھو چکے ہیں۔ کام کا یہ طریقہ صرف عالی شان قیادتیں وجود میں لاسکتا ہے وہ عالی شان قوم وجود میں نہیں لاسکتا۔ اس قسم کی قیادتیں قوم کو جو آخری دراشت دے سکتی ہیں، وہ صرف شان دار مقبرے ہیں۔ کو شان دار مستقبل تک نہیں پہنچا سکتیں۔
کیا لوگوں کو یہ ڈر نہیں کہ خدا کے یہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ جو مواقع انہیں دیئے گئے تھے ان کو انھوں نے کہاں خرچ کیا۔ یا وہ اتنے نادان ہیں کہ انھیں خبر ہی نہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے انھیں کیا کرنا چاہئے۔
ہار آخرت کی ہار ہے اور جیت آخرت کی جیت قرآن کی سورہ نمبر ۶۴ میں ارشاد ہوا ہے :
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ جب اللہ تم کو جمع کرے گا۔ جمع ہونے کے دن ۔ یہی دن ہے ہار جیت کا۔
تغابن کا لفظ ایسے معاملے کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ ایک فریق نیچا رہے اور دوسرا فریق اونچا ۔ ایک کو گھاٹا ہو اور دوسرا نفع اٹھا لے جائے ۔ مطلب یہ کہ لوگ غلط فہمی سے اسی دنیا کو ہار جیت (تغابن) کا دن سمجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہار جیت کا دن دراصل آخرت ہے۔ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مقاتل بن حیان نے کہا ہے : لَا غَبْنَ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يُدْخِلَ هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ کوئی ہار جیت اس سے بڑی نہیں کہ ایک گروہ کو جنت دِينَ ذَهَبَ بِالثَّلِثِ إِلَى النَّارِ (ابن کثیر) میں داخل کیا جائے اور دوسرے گروہ کو جہنم میں ڈالا جائے ۔ دنیا میں شہرت ، عزت، دولت، اقتدار اور عیش کے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہیں ۔ ہر شخص اپنے اپنے حالات کے مطابق ان کی طرف دوڑ رہا ہے۔ جو شخص ان مواقع میں سے کوئی حصہ اپنے لئے پالیا ہے اس کے اندر فخر کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ان کو نہیں پاتا، اس کو لوگ حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ عام خیال یہ ہو جاتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اسی دنیا کو ہار جیت کی جگہ سمجھتے ہیں۔ ان کا ذہن یہ ہو جاتا ہے کہ اسی دنیا کی جنت ، جنت ہے اور یہیں کی دوزخ ، دوزخ ۔ قرآن نے بتایا کہ محض دھوکا ہے ۔ ہار جیت تو دراصل وہ ہے جو اگلی زندگی میں سامنے آنے والی ہے ۔ وہ لوگ جو دنیا میں اپنے کو فاتح سمجھتے ہیں ، جب پردہ ہٹے گا تو یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اصل حقیقت تو کچھ اور تھی۔ وہاں جا کر معلوم ہوگا کہ کون گھاٹے میں رہا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔ کون زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا اور کون آگے بڑھنے والا ثابت ہوا۔ کس نے اپنی صلاحیتوں کو نتیجہ خیز کام میں لگایا اور کون تھا جس نے اپنی تمام تو توانائیوں کو وقتی تماشوں میں برباد کر ڈالا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہار اسی کی ہے جو آخرت میں ہارا اور جیت صرف اس کی ہے جس کو آخرت میں جیت حاصل ہوئی۔ وہ لوگ جو دنیوی مصلحتوں میں مہارت دکھا کر آج کی دنیا میں عزت اور ترقی حاصل کر رہے ہیں ، کل کی دنیا میں ان کی یہ مہارتیں بالکل بے کار ثابت ہوں گی۔ مرنے کے بعد جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں کے حالات میں عزت کی جگہ پانے کے لئے وہ اسی طرح اپنے آپ کو نا اہل پائیں گے جس طرح ایک قدیم طرز کا دستکار روایتی ماحول میں باکمال نظر آتا ہے لیکن اگر اس کو ٹیکنکل معاشرہ میں پہنچا دیا جائے تو وہ بالکل بے قیمت ہو جائے گا۔
ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے چنالا (دھنباد) میں ایک پرانی کوئلہ کی کان تھی جو ۱۹۰۹ء سے بند تھی ۔ ساڑھے چار سو فٹ گہری اس کان میں دھیرے دھیرے پانی بھر گیا۔ اس سے ۸۰ فٹ کے فاصلہ پر دو سال پہلے ایک اور کان کھودی گئی۔ عالمی بنک اور بیرونی ماہرین کی مدد سے تیار کی ہوئی یہ کان جدید طرز کی مشینوں سے آراستہ تھی ۔ 27 دسمبر ۱۹۷۶ء کو اس کان میں ایک بھیانک حادثہ ہوا۔ دونوں کانوں کے درمیان ۸۰ فٹ کا فاصلہ کافی محفوظ فاصلہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اچانک اس کے اندر تقریباً ۶۰ فٹ چوڑا شگاف ہو گیا اور اس کے اندر سے پرانی کان کا پانی نئی کان میں اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ صرف تین منٹ کے اندر نئی کان بھر گئی ۔ مزدور اور انجینئر جو اس وقت کان کے اندر کام کر رہے تھے ایک سوطین گیلن سے بھی زیادہ پانی کے سیلاب میں غرق ہو گئے ۔ صرف ایک شخص بھگوان سنگھ (مونگیر) بچا جو حادثہ سے صرف چند منٹ پہلے باہر آگیا تھا ۔ یہ واقعہ حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی کی تصویر ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے ۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ دیوار ٹوٹ جائے اور آخرت کے حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازی گری کام نہ آئے گی۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہوگا۔ وہ سارے لوگ ناکامی اور بربادی کے دائمی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہ ہوتے تھے صرف وہ شخص بچے گا جس نے مالک کائنات کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر لیا ہوگا۔ بہت سے دیوار اٹھانے والے اپنی دیوار کو گرارہے ہیں۔
بہت سے لوگ جو اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھ رہے ہیں، وہ دوسروں کے پیروں تلے روندے جائیں گے۔
یہ اس دن ہوگا جب خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا، جب سارے انسانوں سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا اور اپنے آگے کے لیے کیا روانہ کیا۔
آخرت کے لئے کوئی شخص جو کچھ کر سکتا ہے ، اسی موجودہ زندگی ہی میں کر سکتا ہے۔ اور اس زندگی کی مدت بہت کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ طرح جو لوگ آج ہم کو دیکھ رہے ہیں ، ایک وقت آئے گا کہ ہم ان کے دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ ہوں گے۔ ہم اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ہوں گے۔ ہماری موجودہ زندگی وہ پہلا اور آخری لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے ابدی مستقبل کی تعمیر کے لئے کچھ کر سکتا ہے۔ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی موقع انسان کو ملا تھا اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی موقع انسان کو ملے گا۔ ہم ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جس کا ایک لازمی نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ اور بہت جلد ہم ایک ایسے نتیجہ سے دوچار ہوں گے جس کے بعد پھر کسی تیاری کا کوئی موقع نہیں۔ زندگی کا ہر لمحہ جو آپ صرف کر رہے ہیں ، آخری طور پر صرف کر رہے ہیں ۔ وہ پھر واپس آنے والا نہیں ہے۔