میں نے سمجھاتھا - - -
Al-Risala, September 1978, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے سمجھا تھا کہ دلیل میں وزن ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ طاقت اپنے اندر اس سے بھی زیادہ وزن رکھتی ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ کار کردگی سے انسان تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ لیاقت کا سب سے بڑا سرٹیفکٹ موقع پرستی ہے۔
میں نے سمجھا تھا کہ عہدے اور مناصب کام کرنے کے مواقع ہیں مگر معلوم ہوا کہ یہ سب محض اعزاز کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں۔
میں نے سمجھا تھا کہ لوگ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں وہی ان کے دل میں بھی ہوتا ہے مگر معلوم ہوا کہ ان دونوں میں کوئی تعلق نہیں۔
میں نے سمجھا تھا کہ لوگ مقاصد کے علم بردار ہیں مگر معلوم ہوا کہ اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے سوا لوگوں کو کسی چیز سے دل چسپی نہیں۔
میں نے سمجھا تھا کہ جو لوگ خدا کی باتیں کرتے ہیں وہ خدا سے ڈرتے بھی ہیں مگر معلوم ہوا کہ خدا ان کے لئے ایک تجارتی عنوان کے سوا اور کچھ نہیں ۔
میں نے سمجھا تھا کہ لوگ اصلاح چاہتے ہیں مگر معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اپنا مفاد عزیز ہے خواہ وہ دوسروں کو برباد کر کے ہی کیوں نہ حاصل ہو۔
میں نے سمجھا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کا خیر خواہ ہے مگر معلوم ہوا کہ ہر ایک دوسرے کا استحصال کر رہا ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ جنت کا راستہ وسین اور جہنم کا راستہ تنگ ہے مگر معلوم ہوا کہ سب سے وسیع راستہ وہ ہے جو جہنم کی طرف جاتا ہے۔