Al-Risala · September 1978

سیاست جب نشہ بن جائے

Al-Risala, September 1978, pp. 23–29

By Maulana Wahiduddin Khan

مکھن بنانے والی کوئی کمپنی اگر اپنے مکھن کی پیکنگ پر لکھ دے : " یہ مکھن صحت کے لئے مضر ہے " تو اس کا مکھن کوئی بھی شخص نہیں خریدے گا۔ ایسی کمپنی چند ہی روز میں دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر جدید قوانین کے تحت سگریٹ کا ہر پیکٹ جو سگریٹ ساز کمپنی سے تیار ہو کر بازار میں آتا ہے، اس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہوتا ہے: CIGARETTE SMOKING IS INJURIOUS TO HEALTH سگریٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے، مگر اس سے سگریٹ کی خریداری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سگریٹ سازی کا کاروبار آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکھن ایک مفید غذا ہے۔ اس کو آدمی صحت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے کھاتا ہے۔ اس لئے جب کسی مکھن کی یہ حیثیت مشتبہ ہو جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ مگر سگریٹ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے ساتھ غذائی افادیت کا کوئی تصور وابستہ نہیں۔ سگریٹ صرف نشہ حاصل کرنے کے لئے پیا جاتا ہے اور نشہ کا فائدہ سگریٹ میں اس وقت بھی پوری طرح موجود ہوتا ہے جب کہ صحت کے اعتبار سے اس کا مضر ہونا ثابت ہو گیا ہو۔ جب اصل مقصد حاصل ہورہا ہو تو کوئی شخص کیوں اسے چھوڑے۔

اسی طرح اگر کچھ لوگوں کو "سیاست" کا چسکا لگ جائے تو خواہ کتنے ہی یقینی دلائل سے اس کا بے حقیقت ہونا ثابت کر دیا جائے بہر حال لوگ اس سے چمٹے رہیں گے۔ وہ کسی بھی طرح اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ دلائل کی کوئی بھی مقدار سیاست سے نشہ کی کیفیت چھین نہیں سکتی۔ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ سیاست تمام نشہ آور چیزوں میں سب سے زیادہ نشہ کی چیز ہے۔ سگریٹ اور بھنگ کا نشہ اتر سکتا ہے۔ مگر سیاست کا نشہ کبھی آدمی سے نہیں اترتا۔ آپ دلائل کا انبار جمع کر دیجئے۔ تجربات اس کے بے فائد ہونے کا عملی ثبوت دیتے چلے جائیں۔ مگر جن لوگوں کو سیاست کا نشہ لگ گیا ہے۔ تخیلات کی دنیا میں بدستور وہ اپنا سیاسی رومان جاری رکھیں گے ۔ سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو ان کے اور سیاست کے درمیان تفریق کرا سکے، اور اگر اتفاق سے سیاست میں کسی نے ملی ترقی کا راز دریافت کر لیا ہو یا کسی کو ایسی قرآنی ڈکشنری مل گئی ہو جس میں دین کے معنی سیاست لکھے ہوئے ہوں تو ایسے لوگوں کو سیاسی مشغلہ سے ہٹانا شاید اس وقت سے پہلے ممکن نہیں جب کہ خدا خود ظاہر ہو کر کہہ دے کہ یہ وہ دین نہیں جو مجھ کو مطلوب تھا۔ یہ تو وہ دین ہے جو تم نے خود سے گھڑ لیا تھا۔

ایسی شاندار چیزیں خدا کے یہاں کہاں !

نئی دہلی کے بین الاقوامی صنعتی میلے (۱۹۶۱) میں امریکہ کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کی نمائش کی گئی تھی۔ خصوصیت یہ تھی کہ وہ زمین پر بھی دوڑتی تھی اور ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بلند ہو کر بھی اڑتی تھی۔ سادھو جب نمائش کے مختلف عجوبوں کو دیکھتا ہوا امریکی پولین کے پاس پہنچا اور اس جادوئی گاڑی کو اڑتے اور دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس کے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا ہو گیا کہ کیا میں تیاگ اور قربانی کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیات کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈوں‘‘ سادھو نے کہا۔ گیر وے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان ۲۰ منٹ تک اس امریکی موٹر کو دیکھتا رہا جس کو نمائش کے ذمہ داروں نے " مستقبل کی کار" کا نام دیا تھا۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا: " اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھوں "۔ (ہندوستان ٹائمس ۲۰ نومبر ۱۹۶۱) اسی قسم کا ایک اور واقعہ پڑھئے۔

اگست ۱۹۷۵ء میں بہار میں ہولناک سیلاب آیا تھا۔ اس میں بہت سے خاندان بے گھر ہو کر مجبور ہونے کہ کسی دوسری جگہ اپنے لئے پناہ گاہ تلاش کریں۔ انھیں مصیبت زدگان میں ایک غریب مسلم خاندان دہلی آیا۔ گھر کا مرد طوفان میں ختم ہو چکا تھا۔ 12 سال کے یتیم لڑکے شریف اور اس کی دہلی اور بیمار ماں کو جو امید دہلی لائی ، وہ یہ تھی کہ اس کا داماد یہاں رکشا چلا کر اپنی روزی کما رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ رکشا کھینچنے والا ایک شخص دو خاندانوں کی پرورش کس طرح کر سکتا تھا۔ کو ملازمت تلاش کرنی پڑی۔ اولاً کچھ دنوں ایک معمولی ہوٹل میں پلیٹیں دھوتا رہا۔ اس کے بعد ایک خوش حال مسلم خاندان میں اس کو گھر یلو کاموں کے لئے ۵۰ روپے ماہوار پر جگہ مل گئی۔

شریف ایک انتہائی غریب خاندان کا لڑکا تھا۔ اس دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد اسے جو بستر ملا وہ زمین پر بچھا ہوا ایک ٹاٹ تھا۔ اب تک کی زندگی اس نے اس طرح گزاری کہ نہ کبھی اس کے پاؤں میں جوتا پڑا اور نہ جسم پر پورا لباس پہننے کو ملا۔ سردیوں کی رات کے معنی اس کے نزدیک صرف یہ تھے کہ لکڑی کے ٹکڑے اور پتیاں جمع کر کے کچھ دیر آگ اور دھولیا میں گزارے جائیں اور اس کے بعد ایک پھٹا ہوا ٹاٹ بچھا کر دوسرا پھٹا ہوا ٹاٹ اوپر سے لپیٹ لیا جائے ۔ دسمبر کی ایک صبح کو جب کہ شریف مالک مکان کا بستر سمیٹ رہا تھا۔ اچانک ایک خیال اس کے دماغ میں رینگا۔ مستری کے اوپر بچھا ہوا موٹا نرم گدا، اس کے اوپر خوبصورت چادر اور مخملی کپڑے میں بنا ہوا شان دار لحاف، ان چیزوں نے اس کو تھوڑی دیر کے لئے مبہوت کر دیا۔ " آپا،، وہ مالک کی لڑکی سے بولا " کیا اللہ میاں کے یہاں ایسا بستر ہو گا۔ وہ اپنے اس سوال میں اتنا گم تھا کہ وہ یہ بھی نہ سن سکا کہ لڑکی کی کہتی ہوئی چلی گئی ہے " بیوقوف وہاں تو اس سے بھی اچھے بستر ہوں گے "

گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو موجودہ زمانے میں سارے لوگ اسی نفسیات میں مبتلا نظر آئیں گے۔ امیر غریب، عالم جاہل، سب کے سب دنیا کی دلفریبیوں پر ٹوٹے پڑے ہیں۔ لذت، دولت، شہرت، عزت، مرتبہ اقتدار، غرض دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کا ایک ذرہ بھی اگر کسی کے سامنے آگیا ہے تو وہ اس کی طرف اس طرح دوڑ رہا ہے

گویا زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو" خدا کے یہاں بھلا اسی شان دار چیزیں کہاں ملیں گی ، پھر کیوں نہ ایسی دنیا میں جو کچھ ملے اس کو حاصل کر لیا جائے ۔

سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مذہبی لوگوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے اہل دنیا موجودہ زمانے میں جو دنیوی امکانات ان کے لئے کھلے ہیں ان کی طرف دوڑ بھاگ میں وہ دوسروں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہیں۔ عہدوں اور مناصب کی دھوم، صدارت و نظامت کے اعزازات، جلسوں اور جلوسوں کی نمائش ، بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے پروانہ، ایڈرس اور استقبال کے تماشے، اخبارات کی سرخیوں میں چھپنا اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا شوق ان کو بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی عام دنیا دار کو ہو سکتا ہے۔ ہوتا ہے کہ جو شخص آخرت پر تقریر کر رہا ہے اس کو بھی آخرت کا یقین نہیں، اگر ہے تو بہت کم۔ ایک کامیاب ترین انسان جب موت کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ دروازہ کے دوسری طرف اس کے لئے مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوورڈ ہیوز امریکہ کا ایک ممتاز ترین کی یہ دہشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کر رہی ہے جو ایک آدمی ارب پتی تھا۔ اپریل ۱۹۷۶ء میں ایک ہوائی سفر کے دوران کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس کے ہوائی جہاز کو فوراً ہاؤسٹن اس کے پیچھے وہ زندگی ہو چکی وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو میں اتار گیا ۔ مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہو چکا تھا۔ جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔ اپنے قانون داں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالر بطور وراثت ملے تھے۔ مگر اس نے اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو ۴۰۰،۲۰ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھا لیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تا ثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکہ تیار کیا ہے۔ خاکے میں اس کے سفر حیات کے آخری لمحات کو مصور کیا گیا ہے ۔ امریکہ کا کامیاب ترین تاجر اس خاکہ میں وحشت ، مایوسی بے چارگی ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے۔

اپنے معاملے میں ہوشیار دوسرے کے معاملے میں بیوقوف یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کو مبارک باد کا خط بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا ہے جس میں اس بات کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ہندوستان اور یوگنڈا کے درمیان اچھے تعلقات قائم رکھے۔

صدر عیدی امین نے اندرا گاندھی کے نام اپنے خط میں لکھا ہے:

I personally support those who have described you as a very intelligent leader, because soon after accepting defeat you and your government lifted at the right time the 21 month state of emergency imposed by yourself and which brought im- prisonment without trial. This timely decision by yourself and your government to lift the emergency relieved our minds because it would have been possible for the same emergency regulations to be used against those who have now lost power. Hindustan Times, March 30, 77 " میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے اتفاق کرتا ہوں جن کی رائے یہ ہے کہ آپ نہایت ذہین لیڈر ہیں کیونکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے فوراً بعد آپ نے اور آپ کی حکومت نے نہایت صحیح وقت پر اکیس ماہ کی ایمرجنسی کو ختم کر دیا جس کو آپ نے نافذ کیا تھا اور جس کے تحت لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کیا جا سکتا تھا۔ ایمرجنسی کو ختم کرنے کے بارے میں آپ اور آپ کی حکومت کے اس بروقت اقدام کے بعد ہم نے اطمینان کا سانس لیا، کیونکہ یہ ممکن تھا کہ اسی ایمرجنسی کے قوانین کوئ حکومت ان لوگوں کے اوپر استعمال کرے جنہوں نے اب اقتدار کھودیا ہے۔ اندرا حکومت سے الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ایمرجنسی ہٹانے کے لئے کہا جاتا تھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایمرجنسی کے جاری رہنے سے کسی کا کیا نقصان مگر 3 مارچ کی شب کو جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو اس حکومت کو ایمرجنسی کی حقیقت سمجھنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگی۔ اس نے راتوں رات میٹنگ کر کے ایمرجنسی کے مکمل خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاملہ میں آدمی کتنا ہوشیار ہوتا ہے اور دوسرے کے معاملہ میں کتنا بے وقوف۔ آج کی دنیا میں جس شخص کا بھی تجربہ کیجئے، تقریباً بلا استثناء آپ پائیں گے کہ وہ اپنے موافق پہلو کو سمجھنے کے لئے انتہائی ذہین ہے۔ برعکس جب معاملہ دوسرے کے موافق پہلو کو سمجھنے کا ہو تو وہ ایسا بے وقوف بن جاتا ہے، جیسے اس کو کچھ آتا ہی جیسے کہ وہ اینٹ پتھر ہے نہ کہ انسان۔ ہوشیاری کی قسم آدمی کے اوپر بہت بڑا وبال ایسا کر کے دراصل وہ حاکم حقیقی کے آگے اپنے خلاف خود حجت قائم کر چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی باتوں میں بھی بے وقوفی ظاہر کرتا تو شاید وہ خدا کی پکڑ سے مگر اپنی باتوں میں ہوشیاری اور دوسرے کی باتوں میں بے وقوفی اس کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ کیونکہ اپنی باتوں میں ہوشیاری دکھا کر وہ ثابت کر رہا ہے کہ دوسرے کی باتوں میں بھی وہ اتنا ہی ذہین اور ہوشیار ہو سکتا تھا۔

جو اپنے کو جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے وہی جنت میں داخل ہو گا۔ جو چپ رہنے لگے اس کو بولنا آگیا۔

جو بے عزتی پر راضی ہو جائے اس نے اپنی عزت کو بچا لیا۔ جو خاموش آوازوں کو سننے لگے وہی کان والا ہے۔ جس کو اپنی برائیاں دکھائی دینے لگیں وہی قابل تعریف ہے۔ جو اپنے سے آغاز کرے وہی دوسروں تک پہنچے گا۔ جو اپنی غلطی کو مان لے وہی صحیح راستہ پر ہے جس کی نظر میں تمام چیزیں بے لذت ہو جائیں اس نے لذت کا راز پالیا۔ جو اپنے کو بے علم جانے وہی علم والا ہے۔ وہی آدمی باشعور ہے جس نے اپنے لاشعور کو جان لیا۔ جو کمزوروں سے ڈرے وہی طاقت ور کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ جو دوسروں کو دیتا ہے اسی نے اپنے آپ پر خرچ کیا۔ جو اپنے معاملات میں نادان ہو جائے وہی ملت کے معاملات میں ہوشیار ثابت ہوگا ۔ جس کو اپنے منافق ہونے کا اندیشہ ہو وہی ایمان والا ہے۔ جو کھونے والا ہے اسی نے در اصل پایا۔

جس کو ہارنا آجائے اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔

کوئی تحریک کیسی ہے، اس کو جاننے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں ان میں کیسا مزاج بنتا ہے۔ دورِ اول میں قرآن نے صحابہ کے اندر جو مزاج پیدا کیا، وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کا مزاج تھا۔ ان میں کے چند آدمی جب ایک جگہ بیٹھتے تو وہ خدا اور آخرت کے چرچے کرتے ، ان کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو ان کو خدا یاد آتا۔ ہوا اگر تیز ہو جاتی، تب بھی وہ کانپ جاتے کہ کہیں قیامت نہ آگئی ہو۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں اور ان سے جو لوگ متاثر ہوئے، ان کو دیکھئے توکسی میں یہ مزاج دکھائی نہ دے گا۔ کسی تحریک نے یہ مزاج پیدا کیا ہے کہ اس کے چند وابستگان جب کہیں اکٹھا ہوتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے بزرگوں کی فضیلتیں اور کرامتیں بیان کسی تحریک نے اپنے لوگوں کو ایک قسم کا عملیاتی اسلام تقسیم کر رکھا ہے اور اس کا ہر فرد اس کے طلسماتی فوائد کا ٹیپ ریکارڈ بنا ہوا ہے۔ کسی تحریک نے اسلام کے نام پر ایک عجیب و غریب قسم کا سیاسی مزاج بنایا اس کے متاثر افراد کا لذیذ ترین موضوع گفتگو صرف وہ چیزیں ہوتی ہیں جن میں سیاست کی چاشنی ہو۔ وہیں متحرک ہوتے ہیں جہاں کوئی سیاسی اقدام کا موقع ہو۔ خواہ یہ سیاسی اقدام عملاً سیاسی خندق میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔

آج کل جس اسلامی گروہ کو دیکھئے سب کا یہی حال نظر آئے گا۔ ان کی مجلسوں میں اپنے "حضرت" کے چرچے مگر خدا کے چرچے نہیں۔ ان کی زبانوں پر کراماتِ اسلام کی داستانیں ہیں۔ مگر اس اسلام کی گونج نہیں جو خدا کا خوف اور بندوں کی خیر خواہی پیدا کرتا ہے۔ ان کے یہاں سیاسی مسائل پر بحثیں ہیں۔ مگر قیامت میں قائم ہونے والی عظیم عدالت کے ذکر سے ان کی صحبتیں خالی ان حالات میں بڑی بڑی اسلامی تحریکوں کے وجود میں آنے کے باوجود اگر اسلام سر بلند نہ ہو رہا ہو تو تعجب کی کوئی بات نہیں، کیونکہ خدا کی نصرت خدا والے دین پر نازل ہوگی نہ کہ ہمارے اپنے بنائے ہوئے دین پر۔ خدا سے ڈر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی انسان سے ڈرنے اس معنی میں نہیں کہ جو زور آور ہو یا جس سے کوئی مفاد وابستہ ہو، اس سے آپ ڈریں. یہ تو دنیا پرستی بلکہ شرک ہے۔ ڈرنے کا مطلب صاحبِ حقوق سے ڈرنا ہے۔

یہ سمجھ کر لوگوں سے معاملہ کرنا کہ ہر آدمی کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا ہے جس کی حق تلفی کی جائے۔

جو شخص ایک کمزور صاحبِ حق کو اس بنا پر نظر انداز کر دے کہ اس کی طرف سے اس کو کسی نقصان کا خوف نہیں ہے، وہ یقیناً خدا کے خوف سے بھی خالی ہے ۔

بہت سے چمک دار سکّے آخرت کے بازار میں کھوٹے ثابت ہوں گے سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے بزرگ زاده ناداں به شهر واماند که در دیار غریبش به هیچ نستانند „پشہر وانہ“ کے معنی میں رواج دادۂ حکومت۔ سے مراد وہ نقود یا سکے ہیں جن کو کسی حکومت نے رائج کر رکھا ہو۔ ایسے سکے کی قیمت صرف اس حکومت کے حدود میں ہوتی ہے۔ اس سے باہر اس کی کوئی قیمت سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ بڑے آدمی کے کوئی صاحبزادے جو خود نادان ہوں، وہ اپنے وطن میں اپنے باپ کی وجہ سے عزت دار بنے رہتے ہیں، مگر اپنے وطن سے باہر اسی طرح بے قیمت ہو جاتے ہیں جس طرح ایک ملک کا نوٹ دوسرے ملک میں اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔

موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو آزاد خواہ دنیا میں وہ کتنے ہی کامیاب دکھائی دیتے ہوں چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ شیطان کے پسند کئے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں ، ان کو یہاں بہت جلد عزت اور ترقی حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس قسم کے لوگ جیسے ہی اگلی دنیا میں داخل ہوں گے وہ بالکل بے قیمت ہو جائیں گے کیونکہ اگلی دنیا وہ ہے جہاں شیطان کی عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ شیطان کی سر پرستی کی وجہ سے موجودہ دنیا میں عزت دار بنے ہوئے تھے وہ وہاں مکھی اور مچھر سے زیادہ بے قیمت ہوں گے کیوں کہ وہاں عزت صرف اس کے لئے ہے جس کو خدا اپنی سر پرستی میں لے لے۔

موجودہ صدی کے ربع اول کے آخر میں خلافت تحریک اٹھی اور سارے ملک میں طوفان کی طرح یہ تحریک اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سیاسی تھی۔ مگر تحریک نے جو نعرے اور دلائل استعمال کئے وہ سب مذہبی تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس تحریک سے متاثر ہوئے ان میں مذہبیت اتنے زور شور کے ساتھ پیدا ہوئی کہ " قرآن کی تلاوتیں اور تہجد کی نمازیں بھی عام فیشن بن گئیں۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ کس طرح ایک سیاسی تحریک بھی مذہبی اخلاقیات پیدا کر دیتی ہے۔ اگر چہ اس قسم کی اخلاقیات کی کوئی اسلامی قیمت نہیں۔ اسلامی قیمت صرف ان اخلاقیات کی ہے جو جہنم کے شعلوں کو دیکھ کر آدمی کے اندر ابھری ہو نہ کہ سیاسی مسائل کو دیکھ کر ۔ دنیا کے لحاظ سے ان اخلاقیات کی اہمیت ہے جو دیر پا ہوں اور آخرت کے لحاظ سے وہ اخلاقیات اہمیت رکھتی ہیں جو خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس سے ابھری ہوں۔ مگر ہنگامی تحریکوں میں دونوں میں سے کوئی قدر بھی موجود نہیں ہوتی۔

Printed page