جب خیمے اکھاڑ دیئے جائیں گے
Al-Risala, September 1978, pp. 30–32
By Maulana Wahiduddin Khan
شریمتی اندرا گاندھی کی ہار (۱۹۷۷) میں لوگوں کو صرف سیاست کا منظر نظر آرہا ہے۔ لیکن اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے لوگوں کو قیامت کا منظر دکھا دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جے ایم۔ سنہا نے ۱۲ جون ۱۹۷۵ء کو ایک فیصلہ دیا جس میں سابق کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کے الیکشن (۱۹۷۱ء) کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ مگر اندرا گاندھی کی اولوالعزم طبیعت نے ہار نہیں مانی۔ انھوں نے اپنے عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۵ جون ۱۹۷۵ء کی رات کو ایمرجنسی لاگو کردی۔ اب سارے ملک میں ایک نیا عمل شروع کر دیا گیا۔ تمام ناپسندیدہ افراد جیلوں میں بند کر دیئے گئے۔ جماعتوں کو خلاف قانونی قرار دے دیا گیا ۔ پریس پر سنسر قائم کر دیا گیا۔ ہر قسم کے اشاعتی ذرائع کو مکمل طور پر سرکاری پروپیگنڈے کے لئے وقف کر دیا گیا ۔ عدالت کو ایک آزاد ادارہ کی حیثیت سے ختم کر دیا گیا۔ دستور میں ترمیم کرکے اس کو مکمل طور پر اپنے موافق بنا لیا گیا۔ ایسے قوانین جاری کئے گئے جن کے تحت حکومت کسی بھی شخص کو جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتی تھی اور نامعلوم مدت تک کے لئے اس کو جیل میں محبوس رکھ سکتی تھی۔ اپنی پوزیشن کو یہاں تک محفوظ کیا گیا کہ دستور میں چالیسویں ترمیم کے ذریعے طے کر دیا گیا۔ وزیراعظم اپنے کسی بھی عمل کے لئے کسی بھی ملکی عدالت میں جواب دہ نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ حکومتی عہدہ سے الگ ہونے کے بعد بھی نہیں۔ اس طرح کی بے شمار تدبیروں کے ذریعہ سابق وزیر اعظم نے ملک میں اپنی پوزیشن کو اتنا زیادہ مضبوط کر لیا جتنا شاید پوری تاریخ میں کبھی کسی حکمران نے نہیں کیا تھا۔ کا نتیجہ تھا کہ ان کو یہ اعلان کرنے کی جرات ہوئی کہ ”ایمرجنسی سے پہلے والے حالات اب کبھی واپس نہیں آئیں گے“، ان کو یقین تھا کہ نہ صرف وہ آخر تک ملک کے اقتدار پر قابض رہیں گی بلکہ ان کے بعد ان کا خاندان اس کا وارث بنتا رہے گا۔ مگر چوتھے عام الیکشن نے ثابت کیا کہ تمام پیش بندیوں کے باوجود آخری عدالت کا فیصلہ ابھی باقی تھا۔ یہ ملک کے عوام کی عدالت تھی۔ ۲۷ مارچ ۱۹۷۷ء میں سابق وزیر اعظم کا مقدمہ دیس کی جنتا کے سامنے آیا۔ اور اس کے ایک فیصلہ نے اچانک سارے استحکامات کو اس طرح ڈھادیا جیسے کہ وہ ریت کی دیوار سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔ کی پچاس سالہ عظمت کا وارث صرف ایک دن میں بے یار و مددگار ہو کر رہ گیا۔
یہ واقعہ آخرت میں ہونے والی عدالت کا ایک چھوٹا سا دنیا میں آدمی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے دلائل کے پہاڑ کھڑے کرتا ہے۔ وہ دولت و عزت اور جاہ و منصب کے قلعے تعمیر کرتا ہے۔ اقتصادی ذرائع پر قبضہ کر کے اپنے مستقبل کو محفوظ کرتا ہے۔ اپنے گرد بڑی بڑی عمارتیں بنا کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے بچاؤ کا آخری انتظام کر لیا مگر جب قیامت آئے گی تو سارے مضبوط خیمے اکھڑ جائیں انسان اچانک پائے گا کہ وہ سب سے بڑی عدالت کے سامنے بالکل بے بس کھڑا ہوا ہے۔
زندگی کی سب سے زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ سارے انسان خدا کے بندے ہیں۔ ہر ایک کو بہر حال ایک روز خدا کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس آنے والے دن کی تیاری میں اپنے آپ کو لگا دے
وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے ۔
چوتھی صدی ہجری کے آخر میں جب اسپین میں طوائف الملوکی شروع ہوئی اور صوبوں کے گورنر مرکز سے بغاوت کرنے لگے تو چھوٹی چھوٹی بہت سی آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مثلاً قرطبہ میں بنوحمود، اشبیلیہ میں بنوعباد، بطلیوس میں ابن افطس، وغیرہ۔ اشبیلیہ میں بنو عباد کی حکومت سنه ۵۱۶ میں قائم ہوئی اور ۸۰ برس رہ کر ختم ہوگئی۔ یوسف بن تاشفین نے جب اسپین پر چڑھائی کی تو اس کا آخری فرماں روا معتمد بن عباد اشبیلیہ کے تخت پر تھا۔ میں اس نے معتمد کو گرفتار کر لیا اور اس کو مراکش کے ایک مقام اغمات میں قید کر دیا۔ چار سال قید میں رہ کر وہ ۴۸۸ھ میں مرگیا۔ معتمد بن عباد جس زمانہ میں قید میں تھا، عید کے دن اس کی لڑکیاں اس سے ملنے کے لئے آئیں، اس وقت اس کے غم انگیز تاثرات اشعار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ چند اشعار یہ ہیں:
فيما مضى كنت بالاعياد مسرورا فساؤك العيد في اغمات مأسورا تدی بناتك فى الاطمار جائعة يغزلن للناس ما يملكن قطميرا يطأن في الطين والاقدام حافية كأنها لم تطأ مسكا وكافورا قد كان دهرك ان تامره ممتثلا فردك الدهر منهيا و مامورا من بات بعدك فى ملك يسر به فانما بات بالاحلام مغرورا ماضی میں تو خوشی کے ساتھ عید مناتا تھا، مگر آج اغمات کے قید میں تیرے لئے عید کی کوئی خوشی نہیں۔ تو اپنی بیٹیوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ بھوکی، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے سوت کا تتی ہیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔
وہ کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتی ہیں، گویا کہ ان پیروں نے کبھی مشک اور کافور کو روندا ہی نہیں۔ ایک وقت وہ تھا کہ زمانہ تیرے حکم کا تابع تھا، آج زمانہ نے تجھ کو محروم و محکوم بنا دیا ہے۔ تیری اس حالت کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص حکومت پر خوش ہوتا ہے تو وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے۔ انسان دنیا کی عزت اور کامیابی حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ وہ تھا ہی نہیں جس میں وہ ساری عمر مشغول رہا۔ اصل مسئلہ آخرت کا تھا نہ کہ دنیا کا ________ آخرت کی رسوائی، آخرت کی محرومی، آخرت کا عذاب، آخرت میں بے جگہ ہو جانا، یہ وہ مسائل ہیں جن کے لئے آدمی کو بے چین ہونا چاہئے۔ نہ یہ کہ وہ دنیا میں الجھا رہے۔ یہاں تک کہ جب اس کو موت آئے تو معلوم ہو کہ عزت اور کامیابی کے سارے سامان جمع کرنے کے بعد بھی اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں وہ اس حال میں داخل ہو رہا ہے کہ وہاں کی ابدی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔
قریب ہے کہ کسی بھی صبح وشام وہ انسانوں کے اوپر پھٹ پڑے انڈے کے اندر زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک روز اس کے اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور جیتا جاگتا بچہ خول کے باہر آجائے۔ اسی قسم کی نسبت موجودہ دنیا کو آخرت سے ہے۔ آخرت موجودہ دنیا کے اندر سے ابلی پڑ رہی ہے۔ کائنات کے احوال پر گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو دل پکار اٹھے گا کہ بے شک آخرت آنے والی ہے (آل عمران ۱۹۱) بلکہ وہ آپ کو بالکل آتی ہوئی نظر آئے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ حاملہ کے پیٹ میں جس طرح اس کا حمل باہر آنے کے لئے بیتاب ہو، اسی طرح وہ کائنات کے اندر بو جھل ہورہی ہے اور قریب ہے کہ کسی بھی صبح و شام وہ انسانوں کے اوپر پھٹ پڑے :
"یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے قیامت۔ کہواس کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ وہی اپنے وقت پر اس کو ظاہر وہ زمین و آسمان میں بھاری ہورہی ہے۔ وہ بالکل اچانک تم پر آجائے گی (اعراف 187) وہ دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی ۔ اس دن صرف حق بات میں وزن ہوگا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو دیں گی۔ یہ فیصلہ کا دن ہو گا۔ ہمارے اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں ۔ اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لئے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لئے مقدر ہے۔ ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں۔ ایسے چند دن جن کا انجام لامحدود مدت تک بھگتنا پڑے گا جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک ۔ ہر بار جب سورج غروب ہوتا ہے تو ہماری عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے، اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں۔ ہماری زندگی کی مثال برف بیچنے والے دکان دار کی ہے جس کا اثاثہ ہر لمحہ پگھل کر کم ہوتا جارہا ہو۔ اور جس کی کامیابی کی صورت صرف یہ ہو کہ وہ وقت گزرنے سے پہلے اپنا سامان بیچ ڈالے۔ ورنہ آخر میں اس کے پاس کچھ نہ ہوگا اور دکان سے اس کو خالی ہاتھ اٹھ کر جانا پڑے گا۔ پھر قبل اس کے کی موت آکر ہم کو اس عالم سے جدا کر دے جہاں صرف کرنا ہے اور اس عالم میں پہنچا دے جہاں کرنا نہیں بلکہ صرف پانا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا صحیح مصرف سوچ لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو خدا اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے۔ وہی لوگ اس دن عزت والے ہوں گے۔ کیسے بدبخت ہیں وہ لوگ جن کو خدا خودار کر دے۔ کیوں کہ اس کے بعد ان کے لئے ذلت اور حسرت کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں۔