Al-Risala · September 1978

زلزلہ

Al-Risala, September 1978, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین کا اندرونی حصہ نہایت گرم سیال کی شکل میں ہے جس کا مشاہدہ آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے لاوا کی صورت میں ہوتا رہتا ہے ۔ یہ مادہ زمین کی سطح کو متاثر کرتا ہے جس سے زمین کے اوپر زبردست گڑگڑاہٹ اور جھٹکے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی کا نام زلزلہ ہے ۔ زلزلہ انسان کے اوپر قدرت کا ایسا حملہ ہے جس میں فیصلہ کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے۔ کے مقابلہ میں انسان بالکل بے بس ہے۔ یہ زلزلے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم ایک سرخ پگھلے ہوئے نہایت گرم مادہ کے اوپر آباد ہیں جس سے صرف ۵۰ کلو میٹر کی ایک پتلی سی زلزلہ گویا چھوٹے پیمانہ کی قیامت ہے ۔ دہشت ناک گڑ گڑاہٹ کے ساتھ زمین پھٹ جاتی ہے ۔ جب پکے مکانات تاش کے پتوں کے گھروندوں کی طرح گرنے لگتے ہیں ۔ جب زمین کا اوپری حصہ دھنس جاتا ہے اور اندرونی حصہ اوپر آجاتا ہے ۔ جب آباد ترین شہر چند لمحوں میں وحشت ناک کھنڈر کی صورت اختیار کرلیتے جب انسان کی لاشیں اس طرح ڈھیر ہوجاتی ہیں جیسے مری ہوئی مچھلیاں زمین کے اوپر پڑی ہوں ــــــــ یہ زلزلہ کا وقت ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ قدرت کے مقابلہ میں کس قدر بے بس ہے ۔ بالکل اچانک آتے ہیں ۔ در حقیقت زلزلہ کا المیہ اس امر میں پوشیدہ ہے کہ کوئی بھی شخص یہ پیشین گوئی نہیں چٹانی تہ ہم کو الگ کرتی ہے جو زمین کی پوری جسامت کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے سیب کے اوپر اس کا باریک ایک جغرافیہ داں کے الفاظ میں، ہمارے آباد شہروں اور نیلے سمندروں کے نیچے ایک قدرتی جہنم دہک رہا ہے ۔

کر سکتا کہ زلزلہ کب اور کہاں آئے گا ۔

یہ زلزلے گویا آئندہ آنے والے بڑے زلزلہ (قیامت) کی پیشگی اطلاع ہیں ۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین و آسمان کا مالک کس طرح اس دنیا کو ایک روز توڑ ڈالے گا اور اس کے بعد ایک نیا عالم بنائے گا ۔ موت کے خوف نے ان سے زندگی کی راحتیں چھین لیں ۲۸ جولائی ۱۹۷۶ء کو شمال مشرقی چین میں زلزلہ آیا۔ چین کا تیرا سب سے بڑا صنعتی شہر ٹنگشن جس کی آبادی دس لاکھ تھی، کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے جاپان اور کوریا تک محسوس کئے گئے چین کی راجدھانی پیکنگ زلزلہ زدہ شہر سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر تاہم لوگوں کے خوف وہراس کا عالم یہ تھا کہ پیکنگ کی ۶۰ لاکھ آبادی نے ممکنہ موت کے ڈر سے اپنے مکانات چھوڑ دیئے اور کئی راتیں سڑکوں اور پارکوں میں گزاریں جبکہ ان کے سروں پر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔

جب مادی حالات کے اندر بھی روحانی دعائیں نکلنے لگیں حضرت موسیٰ پر قتل کا الزام عائد کر کے جب مصری سرداروں نے مشورہ کیا کہ انھیں ہلاک کر دیں، تو آنجناب مصر سے مدین چلے گئے۔ مدین اس زمانہ میں ، خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع علاقہ کو کہا جاتا تھا جہاں بنی مدیان آباد تھے۔ یہ مقام فرعون مصر کی سلطنت سے باہر تھا۔ اس لئے حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا۔

قرآن پاک میں ہے کہ جب آپ خوف اور اندیشہ کی حالت میں سفر کر رہے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا :

عَسَىٰ رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ (قصص - ۲۲)

امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستہ کی طرف رہنمائی کرے گا۔

بعض مفسرین قرآن نے اس کو محض راستہ کی تلاش کے معنی میں لیا ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیر یت مدین پہنچ جاؤں،"

یہ الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کے لئے بہت ناقص ہیں جو حضرت موسیٰ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، یہ ایک مومنانہ کلمہ ہے نہ کہ عام معنوں میں محض ایک راستہ کے مسافر کی دعا۔ حضرت موسیٰ کو اگر چہ مادی حالات نے مصر سے نکال کر مدین کے راستہ پر ڈالا تھا، مگر بندہ مومن کا یہ حال ہوتا ہے کہ مادی واقعات کے اندر بھی اس کی زبان سے روحانی دعائیں نکلتی ہیں۔ بظاہر وہ اسی زمین میں راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لئے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، وہ اس کے ذہن کو آخرت کی وادیوں میں پہنچا دیتی ہے۔ اس کے قدم دنیوی منزل کی طرف چل رہے ہوتے ہیں، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتا ہے ـــــــ " خدایا ! مجھے وہاں پہنچادے جہاں میں تجھ کو پاسکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے ؛

حضرت موسیٰ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے، اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہو جاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تلخیوں کو دیکھتے ہوئے کل کے جنت اور جہنم کو یاد کرنے مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالت غیب میں رہتے ہوئے حالت شہود میں پہنچ جائے۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب کہ غیب و شہود کا فرق مٹ چکا ہوگا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ سارے پردوں کو پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ ایمان ویقین کا ثبوت دینے کا۔

سرکس ہو رہا تھا۔ تماشائیوں کو طرح طرح کے کھیل دکھائے جا رہے تھے۔ اتنے میں ایک "انسان" لوگوں کے سامنے لایا گیا۔ اس نے عجیب عجیب تماشے دکھا کر لوگوں کو خوش کرنا شروع کر دیا۔ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا تھا کہ تماشائیوں میں سے ایک شخص نے اس "انسان" کی طرف ایک کنکر پھینک دیا۔ اس کے بعد "انسان" نے ایک زور دار چھلانگ لگائی۔ وہ شاید اپنے حملہ آور تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر وہ چاروں طرف لگے ہوئے مانگ سے ٹکرا گیا۔ اس کے ٹکراتے ہی اس کے چہرے کا مکھوٹا (MASK) گر گیا۔ اب معلوم ہوا کہ وہ حقیقتًا ایک جانور تھا جو انسانی بھیس بدلے ہوئے تماشا دکھا رہا تھا۔ سرکس کے اسٹیج پر یہ واقعہ شاید ایک ہی بار پیش آیا ہو۔ مگر انسانی بستیوں میں ایسے واقعات ہر روز سامنے آ رہے ہیں۔ لوگ بظاہر انسان جیسے چہروں کے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بات ان کو غصہ دلانے والی پیش آ جائے تو اچانک وہ اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل حیوان تھے۔ البتہ انھوں نے اوپر سے انسانی مکھوٹا پہن رکھا تھا۔ خلاف مزاج بات پیش آتے ہی وہ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ لاشعور (آدمیی کی اصل ہستی) کو سمجھنے کا بہترین نفسیاتی وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ذہنی اختلال میں مبتلا ہو۔ اسی طرح شکایت اور اختلاف کا وقت آدمی کے دین و اخلاق کا امتحان ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدم ٹھیک اسی وقت ناکام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے۔ دعا یا کرتب ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرے تو اس کا نام اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ یقین کرے کہ اسی حال میں سات دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی، تو یہ کرتب ہے، درخواست دینا ایک بالکل معقول مگر کرتب اتنی ہی بے معنی چیز ہے۔ اسی طرح خدا سے مانگنے میں بھی ایک دعا کا طریقہ ہے اور دوسرا کرتب کا طریقہ۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے حاجات و مسائل میں خدا کی طرف رجوع کرے، اس سے روئے گڑگڑائے، اس سے حاجت روائی کی درخواست کرے ۔ یہ عین مطلوب حدیث میں ہے کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگو۔

مگر کچھ لوگوں نے اسی کے ساتھ کرتب کے کچھ طریقے نکال رکھے ہیں ـــــ فلاں لفظ اتنی بار دہرادو تو بلاٹل جائے گی، فلاں وقت میں فلاں عمل کرلو تو حاجات پوری ہو جائیں گی۔ کا غذ پر لکھ کر اتنے دن تک باندھے رہو تو دشمن ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کرتب ہیں ۔ دعا (اللہ کو پکارنا) جتنا با معنی ہے، کرتب (عملیات) کے طریقے اتنے ہی بے معنی ہیں ۔ پہلا عین اسلامی ہے اور دوسرا قطعاً غیر اسلامی۔

Printed page