Al-Risala · September 1978

قبل اس کے خدا کا سیلاب پھٹ پڑے

Al-Risala, September 1978, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

اعظم گڑھ شہر کے کنارے بہت بڑا بندھے ہے جو 1878ء کے سیلاب کے بعد بنایا گیا تھا۔ سیلاب آیا تو اس نے تمام تاریخی ریکارڈ توڑ دیئے۔ شہر کی قسمت تمام تراسی باندھ پر معلق ہوگئی۔ باندھ کے ایک طرف شہر تھا۔ دوسری طرف حد نظر تک پھیلا ہوا پانی جس کی بلندی چھتوں کے برابر ہورہی تھی۔ ہانا' ایک مقام پرپانی نے باندھ کو توڑنا شروع کیا۔ کلکٹر نے سیکڑوں آدمی متعین کر دیئے جو رات دن باندھ کی مرمت میں لگے ہوئے تھے۔ ہر جگہ اسی کا چرچا تھا۔ ہر شخص کی زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ وہاں تک کہ 4 جولائی 1955 کی شام آگئی۔ رات کے درمیانی حصہ میں جب کہ سناٹا چھا چکا تھا۔ ایک آواز فضا کو چیرتی ہوئی پورے شہر میں گونج گئی۔ یہ ایک اعلان تھا جو کلکٹر کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ کیا جارہا تھا :

لال ڈگی کے باندھ کی مرمت کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ باندھ ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے ۔ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لئے اونچی جگہوں پر چلے جائیں “ رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ سارا شہر جاگ اٹھا۔ عجیب سنسنی پھیل گئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اسرائیل نے قیامت کا صور پھونک دیا ہو۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باندھ کی طرف دوڑ پڑے تاکہ اس کو بچانے کی آخری کوشش کر سکیں۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریہ سنبھال لیا اور اس مقام پر مٹی ڈالنی شروع کی جہاں باندھ پھٹ رہا تھا ۔ پڑر میکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوتا رہا۔ اگلے دن دوپہر تک مٹی ڈالی جاتی رہی۔ مگر ساری کوششیں بے کار انجینئر نے اعلان کر دیا کہ باندھ قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ ہماری کوئی بھی کوشش اس کو روک نہیں سکتی ۔ دن کے بارہ بجے باندھ ٹوٹ گیا۔ پانی کا زبردست ریلا شہر کی طرف بہہ پڑا ۔ لوگ اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے سڑکوں اور گلیوں میں اس طرح دوڑ رہا تھا جیسے وہ ان کا تعاقب کر رہا ہو۔ زندگی کے تمام مسائل سمٹ کر سیلاب کے گرد جمع ہوگئے ۔

یہ سیلاب جب مجھے یاد آتا ہے تو اس میں مجھے قیامت کے عظیم تر سیلاب کا نقشہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ ہے کہ قیامت بھی اسی طرح کا ایک بہت بڑا سیلاب ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہمارے تمام حفاظتی بند ٹوٹ جائیں گے۔ اس طرح ہم کو گھیرے گا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابلہ میں پناہ دینے سے عاجز رہیں گی۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ قیامت کے اس آنے والے سیلاب سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ جس طرح ضلع کلکٹر نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اعظم گڑھ کے شہریوں کے سامنے سیلاب کا اعلان کرایا ۔ اسی طرح ہم کو بھی "لاؤڈ اسپیکر" فراہم کرنا ہے تاکہ سیلاب کے آنے سے پہلے اس کی بابت لوگوں کو باخبر کر سکیں۔ خدا کے پیغمبر اسی آنے والے "سیلاب" سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ اسی کام پر مامور ہے۔ اس کی لازمی ذمہ داری ہے کہ تمام قوموں کو اس سے خبردار کرے ۔ قبل اس کے خدا کا یہ سیلاب پھٹ پڑے اور پھر نہ کسی کے لئے خبردار کرنے کا موقع ہو اور نہ کسی کو خبردار ہونے کا۔

ڈر اس سے جو وقت آنے والا ریٹا ہے وہ اس کے کلام میں زیادہ زور دار ہے اور شاید اسی لیے ان کی یہ نغماتی کیفیات مسافر کی ٹرین اسٹیشن پر سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش کرے ، تو ہر آدمی اس کو بیوقوف کہے گا۔ مگر ایک اور سفر کے معاملہ میں ساری دنیا اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہے اور کسی کو اس نادانی کا احساس نہیں۔ حتیٰ کہ جو شخص " ٹرین" کو چھوڑ کر پلیٹ فارم کی بنچ پر اپنے لئے ایک کشادہ جگہ حاصل کرلیتا ہے، اس کو لوگ خوش قسمت کہتے ہیں اور عقل مند کا لقب دیتے ہیں۔

یہ دوسرا سفر موت کا سفر ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مرکر ہم کو یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے، اس کی تیاری کرو۔ مگر انسان دنیا کی دلچسپیوں اور جھمیلوں میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اس کو آخرت کی دنیا کے لئے تیاری کا ہوش ہی نہیں۔ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی شخص کے لئے اس دروازہ کو کھلتے ہوئے اور پھر اس کے اوپر اس کو بند ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لئے بھی یہ دروازہ ایک روز کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح بند ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے ۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کتنی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے. مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کر کے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لئے بلائے جارہے ہیں۔ مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کر لیتا ہے گویا عدالت الہی میں حاضری کا یہ دن اس کے اپنے لئے کبھی نہیں آئے گا ۔

طلی کیا ھے کا دُعاۓ صَلیب تِیاغے جاڑے کے موسم میں سانپ ٹھٹھرا پڑ رہتا ہے لیکن ذرا سا بھی دُم چھوئیے تو وہ فوراً پھن نکال کر کھڑا ہوجائے گا۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ بظاہر نہایت شریف اور معقول نظر آئے گا۔ اس کی انا کو ضرب لگائیے، اس سے کسی معاملے میں اختلاف کر دیجئے تو اچانک وہ ایسا نامعقول بن جاتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے اب تک آپ واقف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر خدا بننے کی ایک تمنا چھپائے ہوئے ہے۔ جب آپ اس سے عقیدت مندی کے ساتھ ملتے ہیں، جب اس سے اس کی پسندیدہ باتیں کرتے ہیں تو اس کی خاموش تمنا کو تسکین ملتی رہتی ہے۔ اس کا لاشعور آپ کو قدردانی کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ کیونکہ اس کے نزدیک گویا آپ اس کے خدائی کے دعوے کو تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر جب آپ ناقد کی حیثیت سے اس کے سامنے آئیں تو اس کا ردّعمل بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ اس کے دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں، وہ غصہ سے بھر کے آغاز میں بسم اللہ کو لیکن اگر اُن کی انّا پر ضرب لگائیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا اُنھوں نے برعکس نہند نام زنگی کافور کے اصول پر اپنے لیے یہ القاب تجویز کئے تھے۔ اپنے خلاف تنقید کو سن کر جو پس ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں اس سے ہرگز یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فی الواقع وہ اپنے کو حقیر یا خاکسار یا کچھ نہ جاننے والا سمجھتے ہیں۔ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ یہ کبر ہے اور خدا کے یہاں کبر کی معافی نہیں ۔

Printed page