لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ
Al-Risala, September 1978, pp. 38–42
By Maulana Wahiduddin Khan
مثقال حبۃ خردل من کبر، قیل وما الکبر قال : بطر الحق وغمط الناس۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہو، پوچھا گیا کبر کیا فرمایا: حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو
انسان کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کی خاطر اُکھٹتا ہے اور رچاہتا ہے کہ آپ کو مٹا ڈالے جس طرح نمرود اور فرعون نے اپنے خدائی کے دعوے کا انکار کرنے والوں کو مٹا دینا چاہا تھا۔
بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کسی تحریر میں اپنے نام کے ساتھ "خاکسار"، "عجمدان" ، "احقر العباد" جیسے الفاظ کو لکھنا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا تحریر پیدا کیا ہے۔ اس لئے اس کے اندر نفس بھی رکھ دیا ہے جو اس کو بُرائیوں پر اکساتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ تمیز کی قوت بھی انسان کے اندر موجود ہے جو اس کو حق و ناحق بتاتی رہتی ہے۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ کبھی کوئی ناموافق بات سن کر آدمی پر جھنجھلاہٹ اور غصہ طاری ہو جائے اور اس کی
زبان سے نامناسب الفاظ نکل جائیں۔ مگر مومن کی شان یہ ہے کہ ایسے واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتا ہے۔ اپنے رویے کی اصلاح کا عزم کرتا اس کی ذات سے کسی کو نقصان پہنچ گیا ہے تو اس کی تلافی کرتا ہے، جس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا اس سے معافی مانگتا ہے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ صرف اس کا جرم بخش دیا جاتا ہے بلکہ خود جرم کو بھی نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کیلئے ایک ز یادہ بڑی نیکی کے کرنے کا مگر جو لوگ اختلاف کو عناد اور کینہ کے مقام تک پہنچا دیں۔ جو اپنی "خدائی" تسلیم نہ کرنے والے شخص سے ہمیشہ کے لئے بدگمان ہو جائیں اور جنہیں یہ توفیق نہ ملے کہ اس معافی مانگ کر اس کی طرف سے اپنے دل کو صاف کر لیں وہ بد ترین مجرم ہیں، وہ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے خواہ دنیا میں اپنے اتفاقی حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کی گندگی کو چھپانے میں کامیاب ہو جائیں۔ خدا پرست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے اس کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کے تمام احساسات کو بالکل ختم کر دے یہ حساس اگر چہ خدا کے مقابلہ میں مطلوب ہے مگر اس کا امتحان بندوں کے معاملات ہی میں ہوتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ تعلقات میں جو شخص یہ ثابت کرے کہ اس کے دل میں جھکاؤ وہی دراصل خدا کے آگے جھکا ہوا ہے اس کے برعکس انسانوں سے ٹھیس پہنچنے کے وقت جو شخص ظالم اور متکبر بن جائے وہ خدا کے مقابلہ میں بھی ایسا ہی ہے خواہ وہ فرائض و نوافل میں کتنا ہی تواضع کا اظہار کرتا ہو۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کبھی ایک بھوکے اور پیاسے کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک معمولی آدمی کو نظر انداز کر رہا ہوں۔ رب العالمین کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح آدمی کبھی ایک پیغام کو نظر انداز وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک معمولی آدمی کی بات کو نظر انداز کر رہا ہوں۔ حالاں کہ وہ رب العالمین کی بات کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نفسیات دنیا میں تو یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو ہوشیار اور کامیاب سمجھتے اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے فاتحانہ انداز سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ جب وہ مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں کھڑے کئے جائیں گے تو انھیں دکھائی دے گا کہ ان سے زیادہ نادان اور کوئی نہ تھا۔ ان کو ایسا محسوس ہوگا گویا زمین و آسمان نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس وقت وہ جانیں گے کہ دنیا میں اپنی جس زندگی پر وہ نازاں تھے، خدا کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی سنت امتحان تھی جس نے ان کو زمین میں زندگی کا موقع دے رکھا تھا۔ مدت ختم ہونے کے بعد ان کو اپنا وجود اس سے بھی زیادہ بے حقیقت نظر آئے گا جتنا کہ مکھی اور مچھر۔
یہ ایک خدائی تاکہ ظالموں اور متکبروں کا مجرم ہونا ثابت ہو جاتے اور اللہ کے وفادار بندوں کو خدائی گواہ بننے کا اعزاز حاصل ہو ہجرت کے تیسرے سال احد کا معرکہ پیش آیا ۔ اس جنگ میں ابتداءََءََ مسلمانوں کو کامیابی ہوئی ، مگر بعد کو اہل ایمان کی ایک اتفاقی غلطی سے فائدہ اٹھا کر خدا کے دشمن ان کے اوپر ٹوٹ پڑے اور انہیں نقصان اس واقعہ سے اہل ایمان کے درمیان طرح طرح کے سوالات پیدا ہونے لگے ۔ انھوں نے کہا : ہم حق پر ہیں پھر یہ مصیبت کہاں سے آگئی ( آل عمران ۔ ۱۶۵ ) جواب ملا کہ یہ وقتی نقصانات ہیں ، ان کی پروا مت کرو ۔ نصرت حق پرستوں کے ساتھ ہے اور آخری کامیابی بہر حال انھیں کو حاصل ہوگی ۔
" یہ اس واسطے ہوا تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم کو ظالموں کے اوپر گواہ بنائے " ۔ (آل عمران - ۱۴۰) گویا احد کی جنگ میں مسلمانوں سے جو ایک اتفاقی غلطی ہوئی اور جس کی وجہ سے خدا کے دشمنوں کو موقع ملا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کے اوپر پیچھے سے چڑھ آئیں ، وہ بھی خدائی منصوبہ کا ایک جزو تھا۔ اس طرح خدا ظالموں اور سرکشوں کو ننگا کرنا چاہتا تھا، ان کے ہاتھوں اہلِ ایمان کو زخمی کر کے ان کی درندگی اور سرکشی کا ثبوت فراہم کرنا مقصود تھا۔ اللہ چاہتا تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ ایک طرف ظالموں اور متکبروں کو مجرمین کے کٹہرے میں کھڑا کر دے، دوسری طرف اپنے وفادار بندوں کو ان کے مقابلہ میں عدالت الہی کا گواہ بننے کا اعزاز عطا کرے ۔ یہ ایک خدائی معاملہ تھا نہ کہ محض ایک انسانی واقعہ (۲۰ جولائی، ۱۹۷۷) انسان صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے ایک سب سے بڑی بات جس کو انسان سب سے زیادہ بھولار ہتا ہے، یہ کہ اس دنیا میں کسی انسان کو کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ دیتا، نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس ارادہ کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ واقعات اس لئے اس کے سامنے لائے جائے ہیں کہ اس کی جانچ ہو تا کہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویہ کا اپنے لئے انتخاب زمین پر ہوتا ہے وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔ کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے کر رہا ہے ۔ واقعات کا اہتمام مالک کائنات کی طرف سے ہوتا ہے ۔ انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے
لوگوں کو حقیر نہ سمجھو، ورنہ تم لوگوں کے خالق کی نظر میں حقیر ہو جاؤ گے۔
جو ارباب جاہ کی قربت ڈھونڈتا ہے، وہ خدا کی قربت سے دور ہوگیا۔
کوئی شخص تم کو پتھر مارے تو اس سے لڑنے میں وقت ضائع مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو اتنا اونچا اٹھاؤ کہ پتھر مارنے والے کا پتھر وہاں تک پہنچ ہی نہ سکے۔
جو لوگ دوسروں کی شکایت کرتے ہیں وہ صرف اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں وہ دوسروں سے پیچھے ہوگئے۔
جب خداکے دین کو دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جائے اسلام کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھل جائے یہاں بندہ اپنے رب سے روحانی سطح پر ملاقات کرتا ہے۔ مگر جب اسلام کے ماننے والوں کو زوال ہوتا ہے تو اسلام کی روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف اس کے دنیوی پہلو باقی رہ جاتے ہیں، اسلام اپنی سطح سے اتر کر ماننے والوں کی سطح پر آجاتا ہے ــــ نظر نہ آنے والے خدا سے خوف ومحبت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے، البتہ نظر آنے والے خداؤں ( احبار و رہبان ) کی تقدیس و تمہید زوروں پر شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کے لئے تنہائیوں میں رونا اور خاموشیوں میں اس سے گڑگڑانا باقی نہیں رہتا، البتہ لاؤڈ اسپیکر کے اوپر قرآن واسلام کے ہنگامے خوب ترقی کرتے ہیں۔ نماز لوگوں کے دلوں کو روشن نہیں کرتی، البتہ مسجدوں کی روشنیاں پورے شباب پر پہنچ جاتی ہیں۔ روزہ سے صبر اور پرہیزگاری نکل جاتی ہے البتہ افطار و سحر کی دھوم خوب بڑھ جاتی ہے۔ عید میں شکر اور سجدہ کی روح نہیں ہوتی، البتہ کپڑے اور میلے کے تماشے خوب رونق پکڑتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے دین کو اپنی دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جاتا ہے
ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ہندوستان کی آزادی سے بارہ سال پہلے ۱۹۳۵ میں جب آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے انگریزی جیل میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا :
" میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ میں کیا ہوگا، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا کتاب زندگی کے اگلے ورق سر مہر ہیں :“ آٹو بیا گرافی (لندن ۱۹۵۳) صفحہ 597 نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم انسانی آبادی کے چھٹے حصہ پر انھوں نے اپنی ساری عمر بلا شرکت حکومت کی ۔ ان کا اقتدار اتنا مکمل تھا کہ اپنی وزارتی کابینہ کے طاقت ور ترین شخص سردار پٹیل سے جب ان کے اختلافات ہوئے تو ہندوستان کے اس مرد آہن نے بالآخر نہرو کے آگے ہتھیار ڈال دئے اور لکھ کر دے دیا کہ اختلافی معاملات میں عملاً میں اسی رائے کا پابند رہوں گا جو آپ کی رائے ہوگی ۔ اس قسم کے کامل اقتدار کے باوجود پنڈت نہرو اپنی آخری عمر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید حقیقت کی کچھ اور منزلیں ہیں جہاں تک ان کی رسائی نہ ہوسکی۔ جنوری سنہ ۱۹۶۷ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانگریس نئی دہلی میں ہوئی تھی ۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے بارہ سوڈیلی گیٹ شریک ہوئے۔ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا:
” میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے۔ پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے۔ کس لئے ہے۔ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں۔ (نیشنل ہیرلڈ، ۷ جنوری ۱۹۷۳)
پنڈت نہرو کے انتقال کے بعد، ایک مختصر وقفہ کو چھوڑ کر، ہندوستان کا اقتدار دوبارہ ان کی صاحبزادی مسز اندرا گاندھی کے ہاتھ میں آیا اور گیارہ سال دو مہینے تک اتنی شان کے ساتھ انھوں نے حکومت کی کہ لوگ کہنے لگے کہ بیٹی باپ پر بھی بازی لے گئی ہے۔ قدرت نے ان کی سیاسی کتاب کو بھی اس طرح سر بمہر کر دیا کہ وہ بھی دوبارہ اسی سوال سے دوچار ہیں جس سے ان کا باپ چالیس سال پہلے دوچار تھا ـــــــــ ”زندگی کیا ہے اور بالآخر آدمی کا انجام کیا ہونے والا تاریخ کے اندر بے شمار سبق ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہر آدمی ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں آدمی کی خوش فہمیاں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔ کوئی اقتدار کسی کے کام نہ آئے گا۔ وہاں فیصلہ کا سارا اختیار دوسری طاقت کے ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا میں انسان کا انجام آخرت کے اسی انجام کا ابتدائی نمونہ ہے۔ ہر شخص جس کو زندگی کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ انتہائی نادانی کے ساتھ اسی عمل کو دہراتا ہے جو پچھلے تجربہ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے