کسی بھی حال میں انصاف کو نہ چھوڑیئے
Al-Risala, September 1978, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
"ہم نے اپنے رسول نشانیاں دے کر بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو اتاری۔ لوگ انصاف پر قائم ہوں" (حدید ۲۵) قرآن کا یہ ارشاد بتاتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کیا مطلوب ہے۔ وہ مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں دوسروں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرے جو انصاف کے مطابق ہے۔ اس کا ہر عمل خدا کی شریعت کی ترازو میں تلا ہوا ہونا لینا ہو یا دینا، دونوں حالتوں میں وہ لوگوں کے حقوق کی پوری پوری ادائیگی کرے چنانچہ ارشاد فرمایا: اے ایمان والو، انصاف پر خوب قائم رہو اور اللہ کی گواہی دینے والے بنو۔ اگرچہ اپنی ہی ذات پر ہو (نساء135 بندۂ مومن کی اگر کسی شخص سے ان بن ہو جاتی ہے، تب بھی اس کے عادلانہ رویہ میں فرق خدا کا ڈرا س کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر حال میں وہی کرے جو حقیقۃ انصاف کا تقاضا ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (مائدہ - ۸) کسی کی عداوت کے باعث انصاف کو نہ چھوڑو، انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ سے لگتی ہوئی ہے۔ تاہم خود انصاف پر چلنا جتنا مطلوب ہے، اتنا ہی یہ بات غیر مطلوب ہے کہ آدمی دوسروں کے خلاف انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جائے۔ ہر شخص سے اپنی ذات کے بارے میں خدا کے یہاں پوچھ ہونی ہے اور ہر شخص کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں انصاف کو اپنائے۔ حاکم کی پوزیشن میں ہو یا محکوم کی، ہر حال میں دوسروں کو اس سے انصاف ملے ۔ اس کے بعد اگر کسی کو نظر آتا ہے کہ اس کا بھائی ، خواہ وہ فرد ہو یا جماعت، بے انصافی کی روش پر چل رہا ہے، تو ان کے لئے اس کے اندر نصیحت (خیر خواہی) کا جذبہ ابھرنا چاہئے نہ کہ ایجی ٹیشن اور محاذ آرائی کا۔ اس کو چاہئے کہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعا کرے حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو بھلائی کی تلقین کرے ۔ ان کی اصلاح کے لئے وہی مشفقانہ طریقہ اختیار کرے جو وہ اپنی عزیز اولاد کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ اس کے بجائے احتجاجی سیاست چلانا اور انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جانا کسی طرح صحیح نہیں۔ اس قسم کا ہر اقدام صرف بگاڑ میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں حالات کو سدھارنے والا نہیں بن سکتا ۔
پٹرول کی طاقت سے مسلمانوں کو نہ صرف اقتصادی اور سیاسی سہارا دیا ہے بلکہ وہ اعلانِ حق، اور دعوتِ دین کے کام میں بھی مددگار ہورہا ہے۔ دو بلین پٹرول ڈالر (۸۰۰ کروڑ روپے) کے خرچ سے ۱۹۷۶ میں لندن میں جو ورلڈ آف اسلام فیسٹیول (مہر جان العالمی الاسلامی) ہوا، اس کو دیکھ کر سیکڑوں یورپی باشندے مسلمان ہو گئے ۔ ایک برطانوی اخبار نے اس مہر جان کی رپورٹ دیتے ہوئے اس کو یورپ کے اوپر اسلام کا حملہ قرار دیا تھا (السٹریٹیڈ ویکلی ۱۸ جولائی ۱۹۷۶):
THE ISLAMIC INVASION IS UPON US پٹرول کی اقتصادی قوت نے آج مسلم قوموں کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ ساری دنیا میں عربی زبان کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جگہ جگہ اسلامی مراکز کھل رہے ہیں۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔ دنیا بھر میں اسلامی شخصیتوں اور اسلامی اداروں کو پٹرول کے جادو نے نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ بین الاقوامی اسلامی اجتماعات اتنی زیادہ تعداد میں ہورہے ہیں جن کا چند سال پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا افریقہ میں نہ صرف عوام میں اسلام پھیل رہا ہے بلکہ حالیہ برسوں میں دو عیسائی حکمران اسلام قبول کر چکے ہیں ــــــــــــ یہ اور اس طرح کے دوسرے اسلامی اہمیت کے واقعات جو آج ساری دنیا میں ہورہے ہیں وہ تمام تر اس دولت کے کرشمے ہیں جو خدا داد پٹرول کے ذریعہ اچانک خلیج فارس کے مسلم ملکوں کو حاصل ہوگئی ہے، حتی کہ حالیہ برسوں میں مسلم قوموں کو اپنے مغربی آقاؤں کے مقابلہ میں جو جرأتِ اختلاف پیدا ہوئی ہے، وہ بھی تمام تر پٹرول کی خدا داد طاقت کا کرشمہ ہے، مثلاً ترکی ، سعودی عرب اور پاکستان کا امریکہ کے مقابلہ میں ، اور مصر کا روس کے مقابلہ میں ۔
مگر ان باتوں میں ہمارے لئے بہت زیادہ خوشی کا پہلو نہیں ہے، کیوں کہ " انسان " کا کام " پٹرول " انجام دینے لگے تو یہ خدا کی طرف سے انسان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب خدا کی آواز بلند کرنے کے لئے انسانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں، اس وقت دابۃ الارض ( ۴۱-۸۳) زمین سے نکل کر امر حق کا اعلان کرتا ہے۔ مگر جب دابۃ الارض کی زبان سے خدا اپنا اعلان کرانے لگے تو یہ خوشی کا نہیں غم کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد، زمین و آسمان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ زمین کا سرسبز کرہ چھین لیا جاتا ہے اور اس کو دھوئیں اور آگ کی دنیا کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر " روتا اور دانت پیستا " رہے ۔ مسیح نے یروشلم کے یہودی علماء نے کہا کہ اپنے شاگردوں کو منع کر دو کہ وہ ہمارے اوپر تبلیغ نہ کیا کریں۔ مسیح نے جواب دیا :
اقول لكم انه ان سكت هؤلاء فالجارة تصرخ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ ہو جائیں تو پتھر چلا اٹھیں گے (لوقا ۱۹: ۴۰)
مطلب یہ ہے کہ خدا کے پیغام کو بہر حال بلند ہونا ہے۔ اگر وہ انسانوں کی زبان سے بلند نہیں ہوگا تو درخت اور پتھر چلا کر اسے لوگوں کو سنائیں گے۔ مگر جب درخت اور پتھر چلانے لگیں تو یہ انسانوں کے لئے موت کا وقت ہوتا ہے ، کیوں کہ اس کے بعد عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد وہی چیزیں باقی رہتی ہیں یا جنت یا جہنم ۔ امتحان کی کاپی چھین لینے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ پرچہ حل کرنے کا۔
سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ پچھلے لوگوں کے حالات میں تمہارے لئے سبق ہے اور قرآن کی صورت میں ایک مکمل نصیحت نامہ تمہارے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ کھلا کھلا حق آ جانے کے بعد بھی جو اس سے اعراض کرے، قیامت کے دن اس بہت بڑا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دن جب کہ صور پھونکا جائے گا اور خدا تمام مجرموں کو اس طرح گھیر لائے گا کہ ان کی آنکھیں خوف و دہشت سے پتھرائی ہوئی ہوں گی۔ اس وقت دنیا کی زندگی ان کو اتنی حقیر اور مختصر معلوم ہوگی کہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے : ” دنیا میں مشکل سے ہم نے دس دن گزارے ہوں گے “ پھر کوئی بولے گا: ” نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی تو بس ایک دن کی زندگی تھی “۔ جب قیامت آئے گی تو پہاڑوں کو خدا دھول بنا کر اڑا دے گا اور ساری زمین کو ایسا ہمپٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کہیں کوئی اونچ نیچ دکھائی نہ دے گی۔ اس دن تمام انسان پکارنے والے کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ کوئی کسی قسم کی اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ تمام آوازیں خدا کے آگے پست ہو جائیں گی۔ سارے لوگ خاموش ہوں گے۔ چلنے کی ہلکی پھسپہاہٹ کے سوا تم کو کوئی آواز نہ سنوگے، اس روز کوئی سفارش کسی کے لئے کارگر نہ ہوگی۔ تمام لوگوں کے سر اس حئ وقیوم کے آگے جھک جائیں گے۔ اس دن وہ شخص ناکام و نامراد ہوگا جو کسی ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اور جو خدا پر ایمان رکھنے والا ہو اور نیک عمل کرے، اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خطرہ اس دن نہ ہوگا۔ ورنہ ہم اپنی قیمت کھودیں گے مسلمان خدا کی طرف سے اس ذمہ داری پر مقرر کئے گئے ہیں کہ وہ تمام اہل عالم کو یہ بتادیں کہ ان کا رب ان سے حساب لینے والا ہے۔ اس تقرر نے ان کے حال اور مستقبل کو اس کارِ خاص کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ خدا کی نظر میں ان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ خدائی پیغام رسانی کی اس خدمت کو انجام دیں۔ وہ اس کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کے نزدیک وہ اپنی قیمت
اس ذمہ داری کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل ان سے قبول نہیں کیا جائے گا، اس کے بعد خدا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دے گا، ان کے اوپر دوسری قومیں غلبہ حاصل کریں گی، حتی کہ دوسری بنیادوں پر اٹھائی ہوئی ان کی اسلامی تحریکوں پر بھی رولر چلا دیا جائے گا۔ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اگر چہ وہ خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔ مگر حالات کی بے رحم زبان چیخ رہی ہوگی کہ ان کا خدا ان کو چھوڑ چکا ہے۔
اقوام عالم کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دینے کے لئے اگر مسلمان نہیں اٹھتے تو ان کی کوئی قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہود کی تاریخ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے