Al-Risala · October 1978

امیر کے اوصاف

Al-Risala, October 1978, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن سعد نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی اتنی خدمت کی کہ ان کے گھر والوں میں سے بھی کسی نے اتنی خدمت نہیں کی ۔ وہ مجھ کو اپنے پاس بٹھاتے اور میری عزت کرتے تھے۔ روز میں ان کے گھر میں تنہائی میں ان کے ساتھ تھا۔ اچانک انھوں نے اتنے زور کی آہ بھری کہ مجھے گمان ہوا کہ اسی کے ساتھ ان کی جان نکل جائے گی۔ میں نے پوچھا : کیا آپ نے کسی ڈر کی وجہ سے آہ بھری ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ نے کہا وہ ڈر کیا ہے۔ فرمایا میرے قرب آجاؤ۔ میں قریب ہوگیا۔ پھر فرمایا: اس کام (خلافت) کے لئے میں کسی کو نہیں میں نے چھ آدمیوں کا نام لے کر کہا: کیا آپ فلاں اور فلاں سے غافل ہیں۔ میں ایک ایک کا نام لیتا جاتا تھا اور وہ ہر ایک کے بارہ میں کچھ نہ کچھ کہتے جاتے تھے۔ آخر میں فرمایا:

انہ لا يصلح لهذا الامر الا شدید فی غیر اس کام کا اہل صرف وہی شخص ہے جو شدید ہو بغیر اکڑ کے، عنف، لين في غير ضعف، جواد من غير سرت نرم ہو بغیر کمزوری کے، سخی ہو بغیر فضول خرچی کے ، ممسك في غير دخل (كنز العمال جلد ۳) مال روکنے والا ہو بغیر بخل کے۔

عبداللہ بن عباس رضی نے کہا: یہ صفات عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور میں جمع نہیں ہوئیں۔ امیر کے ہم نشینوں کو کیسا ہونا چاہئے طبرانی نے عبداللہ بن عباس رضی سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے! دیکھتا ہوں کہ امیر المومنین (عمر رضی اللہ عنہ) تم کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں، تم کو اپنے قریب بٹھاتے ہیں اور تم سے دیگر اصحاب رسول کے ساتھ مشورہ لیتے ہیں۔ تم مجھ سے تین نصیحتیں یاد کر لو :

اتق الله لا يجدبن عليك كذبة، ولا تفشين له سرا، اللہ سے ڈرو، امیر المؤمنین تمھارے بارے میں کبھی جھوٹ کا تجربہ نہ کریں۔ ان کے بھید کو کبھی ظاہر نہ کرنا،

ان کے پاس کسی کی غیبت کرنا۔

عامر کہتے ہیں ۔ میں نے عبداللہ بن عباس سے کہا۔ ان میں سے ہر نصیحت ہزار کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا، ہر نصیحت دس ہزار سے بہتر ہے۔

Printed page