Al-Risala · October 1978

لفظی عقیدت مندی حقیقی تعلق کا ثبوت نہیں

Al-Risala, October 1978, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

جبیر بن نفیر کہتے ہیں ۔ میرے والد نے بتایا کہ ایک روز ہم مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا۔ صحابی کو دیکھ کر اس نے کہا: کیسی خوش نصیب ہیں یہ دونوں آنکھیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ واللہ ہماری تمنا ہے کہ جو کچھ آپ نے دیکھا ہم بھی اسے دیکھتے اور جن مواقع میں آپ شریک ہوئے ہم بھی ان میں شریک ہوتے۔ مجھے اس آدمی کی بات پسند آئی ۔ میں نے سوچا کہ اس نے جو کچھ کہا خیر کہا۔ مگر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھ کر نہ فرمایا: تم میں سے کسی کو ان مواقع میں حاضری کی تمنا نہ کرنی چاہیے جن سے اللہ نے اس کو بری رکھا ہے۔ کیا معلوم وہ اس موقع پر ہوتا تو کیا کرتا۔ خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ایسے لوگ آئے جن کو اللہ نے جہنم میں دھکیل دیا۔ انھوں نے نہ آپ کا کہا مانا اور نہ آپ کی تصدیق کی۔ کوفہ کے ایک آدمی نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ان کی صحبت میں رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا ”ہاں اے میرے بھتیجے “ یہ کوفی نے کہا آپ لوگ کیا کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے کہا ”خدا کی قسم ہم مشقتیں برداشت کرتے تھے “، کوفی نے کہا: خدا کی قسم اگر ہم آپ کو پالیتے تو آپ کو زمین پر چلنے نہ دیتے۔ اپنی گردنوں پر آپ کو اٹھائے پھرتے۔ حضرت حذیفہ کہا: انت کنت تفعل ذلک (مسلم) تم ایسا کرتے !

Printed page