دنیوی مشکلات پر خدا کی یاد کا سہارا لینا
Al-Risala, October 1978, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ فاطمہ کا یہ حال تھا کہ گھر کا سب کام انھیں کو کرنا پڑتا۔ پیسنے کی وجہ سے ہاتھ میں چھالے پڑ جاتے ۔ پانی باہر سے مشک میں بھر کر لانا ہوتا جس کی وجہ سے گردن میں نشان پڑ گیا تھا۔ جھاڑو دینے میں کپڑے میلے ہوجاتے ۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے۔ میں نے فاطمہ سے کہا: تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور اپنے لئے ایک خادم مانگ لو۔ فاطمہ گئیں ۔ بہت سے لوگ جمع تھے۔ مل نہ سکیں اور واپس آگئیں۔ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے اور پوچھا کہ کیا کام تھا۔ فاطمہؓ چپ رہیں۔ میں نے قصہ بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خادم نہیں دیا، بلکہ فرمايا :
اتقى الله يا فاطمة وادى فريضة ربك واعمل اے فاطمہ اللہ سے ڈرو۔ اپنے رب کے فرائض ادا عمل اهلك واذا اخذت مضجعك فسبحی ثلثا کرو۔ اپنے گھر والوں کے کام کرو۔ اور جب بستر وثلاثين واحمدي ثلاثا وثلاثين وكبرى پر جاؤ تو ۳۳ بار اللہ کی تسبیح کرو۔ ۳۳ بار اللہ کی اربعا وثلاثين فذلك مائة ۔ هى خير لك من حمد کرو۔ ۳۴ بار اللہ کی تکبیر کرو۔ یہ پورا سو ہے خادم (الترغيب والترہیب جلد (۳) یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔