انتہائی بغض کے باوجود مکمل انصاف
Al-Risala, October 1978, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
بیہقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال وصولی کے لئے خیبر جاتے تھے۔ وہ خیبر کے کھجوروں کا تخمینہ کرتے اور اپنے تخمینہ کے مطابق آدھا مال خیبر پر مفت تقسیم خیبر کے یہودوں نے شکایت کی کہ وہ پیداوار سے زیادہ تخمینہ لگاتے ہیں۔ انھوں نے عبداللہ بن رواحہ کو رشوت کا لالچ بھی دیا۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! تم لوگ مجھ کو حرام کھلانا چاہتے ہو۔ خدا کی قسم میں تمھارے پاس ایک ایسی ذات کی طرف سے آیا ہوں جو مجھ کو ساری دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور تم مجھے ایسا مبغوض ہو کہ تمھاری تعداد کے برابر سور اور بندر بھی اتنے مبغوض نہیں :
ولا يحملنكم بغضى اياكم ان لا اعدل مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم سے بغض اور رسول اللہ سے محبت عليكم کی وجہ سے میں تمھارے ساتھ انصاف نہ کروں۔
یہودی نے کہا: اسی عدل پر زمین و آسمان قائم ہیں ۔