Al-Risala · October 1978

آخرت کا نام آتے ہی وہ اپنا دعوی بھول گئے

Al-Risala, October 1978, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن ابی شیبہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انصار میں سے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے۔ یہ ایک پرانی میراث کا معاملہ تھا جس کے لئے دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ موجود نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس اپنا جھگڑا لے کر آتے ہو اور میں اپنی رائے سے اس میں فیصلہ کرتا ہوں جس کے بارے میں وحی نہیں اتری ہے۔ اگر میں کسی کی حجت کی بنا پر اس کی موافقت میں ایسا فیصلہ دے دوں جس میں میں نے اس کے بھائی کا حق کاٹ کر اس کو دے دیا ہو تو وہ اس کو نہ لے۔ ایسی صورت میں میں نے اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا جس کو لے کر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ وہ ٹکڑا اس کی گردن میں چپکا ہوا ہوگا۔ یہ سن کر دونوں انصاری رو پڑے ہر ایک نے کہا :

يا رسول الله حقى له اے خدا کے رسول ! میں نے اپنا حق اس کو دے دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم نے ایسا کیا ہے تو اب تم دونوں جاؤ اور حق و انصاف کا ارادہ کرو۔ میراث کے دو حصے بناؤ اور اس کے بعد قرعہ ڈالو۔ اس طرح تم دونوں میں سے ہر ایک کے حصہ میں جو آئے اس کا ساتھی اس کے لئے اس کو حلال کر دے۔ (کنز العمال جلد ۳)

Printed page