اللہ کے ڈر کی وجہ سے کوڑا ہاتھ سے گر پڑا
Al-Risala, October 1978, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ایک روز میں کسی بات پر اپنے غلام سے خفا ہوگیا اور اس کو کوڑے سے اتنے میں پیچھے سے آواز سنائی دی : "اے ابو مسعود جان لو۔ " مگر میں غصہ کی حالت میں تھا۔ آواز کو پہچان آواز دینے والا جب میرے قریب آگیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ فرما رہے تھے: اعلم ابا مسعود ان الله اقدر عليك منك على هذا ابومسعود ! جان لو، تم کو جتنا قابو اس شخص پر ہے، اس سے زیادہ قابو اللہ کو تمھارے اوپر ہے۔
یہ سن کر کوڑا میرے ہاتھ سے گرگیا۔ میں نے کہا " اب کبھی میں کسی غلام کو نہ ماروں گا، میں اس غلام کو اللہ کی خوشی سے لئے آزاد کرتا ہوں " ، آپ نے فرمایا :
أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ تَفْعَلَ لَمَسَّتْكَ النَّار (مسلم) اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ کی لپٹ تم کو چھو دیتی۔ خدا کی پکڑ سے ڈرنا خواہ کم زور کا معاملہ کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ ام سلمہ کے مکان پر تھے۔ آپ کو کسی کام کے لئے خادم کی ضرورت آپ نے اس کو آواز دے کر بلایا۔ خادم نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ ام سلمہ یہ دیکھ کر اٹھیں۔ پردہ کے پاس جا کر دیکھا تو خادم باہر بکری کے بچوں کے کھیل رہی تھی ۔ ام سلمہ نے دوبارہ اس کو آواز دے کر بلایا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک مسواك تھی، آپ نے خادممہ سے کہا : لَوْلَا خَشْيَةُ الْقِصَاصِ وَجَعَلْتُ بِهَذَا السِّوَاكِ قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو
اس مسواک سے مارتا۔