غصہ نہ کر ، غصہ نہ کر ، غصہ نہ کر
Al-Risala, October 1978, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا: مجھ کو نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : لا تغضب (غصہ مت کر) اس نے دوبارہ کہا: مجھ کو نصیحت کیجئے۔ آپ نے پھر فرمایا : لا تغضب (غصہ مت کر) وہ بار بار اپنا سوال دہراتا رہا اور آپ بار بار یہی کہتے رہے: غصہ مت کر (بخاری) دنیا سے بھرے ہوئے، ، آخرت سے خالی قال أبو الدرداء : ماني اراكم شبا عا من الطعام جياعا حضرت ابو الدرداء نے کہا : یہ کیا ہے کہ میں تم کو کھانے سے من العلم (جامع بيان العلم۔ جزء ثانی ، صفحہ ۳۰۷) شکم سیر دیکھتا ہوں اور علم دین سے تم بھوکے پڑے ہوئے ہو
وہ خدا کو دیکھ کر ہنسیں گے ، خدا ان کو دیکھ کر ہنسے گا طبراءنی نے حصین بن وحوح اور طلحہ بن مسکےن سے روایت کیا ہے۔ طلحہ بن برا رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت ہونے کے لئے آئے۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ ! جو کچھ آپ کو محبوب ہو مجھے حکم دیجئے ، میں کسی امر میں نافرمانی نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا : " اگرچہ میں تم کو حکم دوں کہ تم اپنے والدین سے قطع تعلق کر لو! " راوی کہتے ہیں کہ ان کی ایک ماں تھی اور وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ سلوک کرتے تھے۔ طلحہ بن براءؓ آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے تو آپ نے فرمایا: " اے طلحہ ! ہمارے دین میں قطع رحم نہیں۔ مگر میں نے چاہا کہ تمہارے دین میں کوئی شک نہ رہ جائے ۔
طلحہ بن براءؓ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت اچھا رہا۔ وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ نے ان کو اس حال میں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : جہاں تک میرا خیال ہے، طلحہ اپنی اسی رات میں اٹھا لئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ یہ کہہ کر واپس آگئے کہ جب یہ ہوش میں آئیں تو مجھ کو بلالینا۔ ان کو آدھی رات کو ہوش آیا۔ مگر انھوں نے اطلاع کرانے کو منع کر دیا ۔ نے کہا: ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں کوئی موذی جانور آپ کو کاٹ لے یا یہودی دشمنوں سے آپ کو کوئی تکلیف رات ہی کو حضرت طلحہ کا انتقال ہو گیا۔ صبح کی نماز کے بعد آپ کو ان کی وفات کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : اللہم القه يضحك اليك وانت تضحك اليه خدايا ! تو اس سے اس طرح ملاقات کر کہ وہ تجھ کو دیکھ کر ہنسے اور تو اس کو دیکھ کر ہنسے ۔