مسئلہ کھڑا کئے بغیر ساتھ دینا
Al-Risala, October 1978, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ روم کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام کو جمع کر کے تقریر فرمائی ۔ آپ نے کہا : میری رائے ہے کہ مسلمان ملک شام کی طرف رومیوں سے جہاد کے لئے نکلیں۔ اللہ ضرور مسلمانوں کی مدد فرمائے گا اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا۔ آپ کی تقریر کے بعد مشورہ ہوا۔ بعض مخالف رائیں بھی آئیں ۔ تاہم کچھ دیر کی گفت گو کے بعد سب نے بالاتفاق کہا :
ما رأيت من رأى فامضنه فانا لا نخالفك آپ کی جو رائے ہو اس کو کر گزرئیے ۔ ہم نہ آپ کی مخالفت ولا نتهتك (ابن عساکر) کریں گے اور نہ آپ پر الزام رکھیں گے۔
ایمان یہ ہے کہ جب کوئی غیرمعمولی بات پیش آئے تو آدمی کے اندر نفسانیت نہ جاگے بلکہ خدا پرستی جاگے آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ کبھی آرام کبھی تکلیف، کبھی تعریف کبھی تنقید۔ کبھی خوشی کبھی غم ۔ یہ اتار چڑھاؤ سب امتحان کے پرچے ہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ ان واقعات سے آدمی کے اندر نفسانیت نہ جاگے بلکہ خدا پرستی جاگے ۔ خوشی اور آرام ہو تو اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے اندر عجز اور عبدیت کی روح پیدا ہو۔
۱۹۷۱ میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے کابینی رفقاء مسٹر تاج الدین احمد مسٹر قمر الزماں ، مسٹر نذر الاسلام اور دوسرے بہت سے لوگ قتل کر دیئے گئے تھے۔ اس واقعہ سے کسی قدر پہلے اپریل ۱۹۷۱ میں بنگالی صحافی مسٹر سکھ رنجن داس گپتا ڈھاکہ گئے تھے اور بنگلہ دیش کے لیڈروں سے ملے تھے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے خونین واقعات پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے :