Al-Risala · October 1978

The Midnight Massacre in Dacca

Al-Risala, October 1978, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر گپتا کے بیان کے مطابق اپریل ۱۹۷۱ میں جب وہ دوسرے ہندوستانی صحافیوں کے ساتھ ڈھاکا پہنچے تو وہاں مجیب حکومت کو ختم کرنے کی افواہیں گرم تھیں۔ مسٹر قمر الزماں سے جب وہ ان کی رہائش گاہ پر ملے تو موصوف کے الفاظ میں :

The first thing he asked for was the tin of Zarda پہلی چیز جو انھوں نے مجھ سے مانگی وہ زرده تھا۔ میں نے بتایا کہ میں ان کے لئے زردہ کا ایک ڈبہ لایا ہوں۔ مسٹر تاج الدین سے جب وہ ان کے مکان پر ملے تو انھوں نے مسٹر گپتاسے فرمائش کی کہ وہ ایشور چند ودیا ساگر کی کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتا بیں ان کو فراہم کر دی گئیں۔ مسٹر خوند کر مشتاق جو اس وقت ٹریڈ اور کامرس کے منسٹر تھے، انھوں نے شکایت کی کہ کلکتہ کے اخبارات نے اپنے صفحات میں ان کو اتنی جگہ نہیں دی جتنی انھوں نے مسٹر تاج الدین اور مسٹر نذر الاسلام کو دی۔ مسٹر داس گیتا لکھتے ہیں میں سمجھ نہ سکا کہ وہ شیخ مجیب کے خلاف اپنی شکایت کو میرے جیسے ایک غیر ملکی صحافی سے کیوں بیان کر رہے ہیں " ۲۵ مارچ ۱۹۷۱ کو پاکستانی فوج نے بنگلہ دیش میں مار دھاڑ کیوں شروع کی ؟ مسٹر تاج الدین نے بتایا کہ الیکشن کے بعد ہم نے خفیہ منصوبہ بنایا کہ بنگلہ دیش کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیں۔ یہ منصوبہ خوند کر مشتاق کے ذریعہ پاکستان کے لیڈروں تک قبل از وقت پہنچ گیا اور انھوں نے فوجی کارروائی شروع کر دی ،

Printed page