مذہب روس میں واپس آرہا ہے
Al-Risala, October 1978, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
اشتراکی فلسفہ تاریخ کا سب سے زیادہ جارح الحادی فلسفہ تھا۔ چنانچہ اکتوبر ۱۹۱۷ء میں جب روس میں اشتراکی انقلاب آیا تو انقلابی حکمرانوں نے پوری طاقت سے مذہب کو کچلنا شروع کر دیا۔ مگر اب وہاں بھی حالات اسی طرح بدلے ہوئے نظر آتے ہیں جس طرح ترکی میں بدلے۔ آج کل روس کے بارے میں کثرت سے ایسی رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں جن کا عنوان اس قسم کا ہوتا ہے:
God returns to the USSR خدا روس میں واپس آرہا ہے۔
لینن گراڈ میں مذہبی تاریخ کا ایک میوزیَم ہے۔ اس میوزیَم میں آپ داخل ہوں تو سب سے پہلے آپ کو دو الماریاں نظر آئیں گی جن میں سائنس اور تاریخ کی قدیم کتابیں بند ہیں۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن کا مطالعہ کسی وقت کیتھولک چرچ نے ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اگر مذہب کا اقتدار باقی رہتا تو دنیا آج علمی اعتبار سے کس قدر پیچھے ہوتی۔ اسی لئے اس میوزیَم کو ”اینٹی گاڈ میوزیَم“ کہا جاتا ہے، اگرچہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اینٹی کیتھولک ہے نہ کہ حقیقتاً اینٹی گاڈ۔ روس میں، ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد اس طرح کی بے شمار کوششوں کے ذریعہ مذہب کو آہنی قید میں بند کر دیا گیا۔ تاہم واقعات بتا رہے ہیں کہ ایک منظم اور طاقت ور سلطنت کی ساری مخالفانہ تدبیروں کے باوجود مذہب قید خانہ سے باہر آگیا ہے اور آزادانہ طور پر ”بے خدا روس“ کی سڑکوں پر چل پھر رہا ہے۔ روس کے چرچ اور عبادت خانے دوبارہ بھب ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والے صرف بوڑھے لوگ نہیں ہیں جو قدیم روایتی ماحول میں پلے تھے۔ بلکہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی کثیر تعداد میں عبادت خانوں میں جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ مذہب کے عنوان پر فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ مثلاً ایک فلم ہے جس کا نام ہے ”نوح کی کشتی“ - ایک اور فلم میں دیگر مذہبی معتقدات کے ساتھ مرے ہوئے انسان کو دوبارہ اگلی دنیا میں زندہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جدید روس میں مذہب مختلف انداز سے زندہ ہورہا ہے۔ مثلاً ایک روسی دوسرے روسی سے ملاقات کے بعد کہے گا Vootis Daroviya اس کا مطلب روسی زبان میں ہوتا ہے تمھاری صحت میں برکت ہو۔ اسی طرح وہ مواقع جب کہ اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے ہم کو کہنا پڑتا ہے واللہ اعلم ۔ ایسے موقع پر روسی کہتا ہے Tolka Bog Znayete (خدا ہی کو معلوم ہے)۔ کا لفظ روسیوں کی عام بول چال میں کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے۔ مسلمان عام طور پر اللہ کا لفظ بولتے ہیں۔ یہودی، عیسائی اور مسلمان کھلے طور پر عبادت کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ ٹالسٹائی، مہاتما گاندھی اور دوسرے مذہبی مصنفین کی کتابیں اور ان کے ترجمے کثرت سے روس میں چھپ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ”یوگا“ بھی روسیوں میں مقبول ہورہا ہے۔
روس میں خدا کی واپسی ایک عام آدمی کے لئے صرف ایک معنی رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ جس طرح فطرت کے دوسرے تقاضوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح خدا
آدمی کسی بات کو ماننا نہ چاہے تو اس کو رد کرنے کے لئے وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ الفاظ پالینا ہے کی طلب کو بھی انسان کی فطرت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ایک عام مذہبی آدمی کے لئے یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ مگر انسان کے پاس لفظوں کی کمی نہیں۔ خدا کا اقرار کرنا نہیں چاہتے ۔ انھوں نے اس توجیہ کو رد کرنے کے لئے نہایت خوبصورت الفاظ تلاش کر لئے۔ انھوں نے کہا :
The revival of interest in reli- gion in the Soviet Union is a form of legalized dissidence. یعنی سوویت روس میں مذہب کے رجحان کا دوبارہ ابھرنا مذہبی آزادی کا اقرار یا تصدیق نہ کرنے کی دائرہ تعلق نہیں رکھتا ہے ۔ اس کے نزدیک اشتراکی انقلاب کے ساٹھ سال بعد روسی معاشرہ میں مذہب کے دوبارہ زندہ ہونے کی دوسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔
مذہب پچاتی کی سمت میں ہیں، یہ دستگاہِ عوام کے لئے صرف حکومت سے اختلاف کی ایک جائز صورت ہے ۔ ایک واقعہ جس میں اقرارِ خدا کا سامان تھا، اس سے انکارِ خدا کی دلیل نکال لی گئی۔ روزہ: آخرت میں نقصان دینے والی چیزوں سے بچنے کا سبق آل انڈیا ریڈیو نے ۱۹ اگست ۱۹۷۵ء کی شام کو ساڑھے نو بجے ایک پروگرام رکھا تھا۔ "روزہ کیا ہے"،۔ یہ آدھ گھنٹہ کی ایک ریڈیائی بات چیت تھی جس میں تین مذاہب کے نمائندے شریک تھے ۔ اسلام کی نمائندگی راقم الحروف نے کی۔ صاحبان یہ تھے : پنڈت بچیدا نند شاستری اور آرک بشپ ہر ایک نے اپنے مذہب کی روشنی میں روزہ کی حقیقت بیان کی ۔
میں نے جو باتیں کہیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ دنیا میں آدمی کو کچھ چیزوں سے بچ کر زندگی گزارنی ہے تاکہ اس کی آخرت کامیاب ہو۔ دنیا میں ایک تاجر اپنے کو فضول خرچی سے تا ہے، ایک طالب علم اپنے کو ضیاع وقت سے بچاتا ہے، ایک مزدور اپنے کو کاہلی سے بچاتا ہے ۔ اس طرح بچ بچاؤ کی زندگی گزارنے ہی کا نام دنیا کی کامیابی ہے ، کاہلی ، فضول خرچی ، عیاشی ، ضیاع وقت سے آدمی اپنے کو نہ بچائے تو وہ کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔
ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت کا ہے ۔ آدمی کو اپنی آخرت کو کامیاب بنانے کے لئے ایک متقیانہ زندگی گزارنی کچھ چیزوں سے اپنے کو بچا کر رکھنا ہے ۔ برباد کرنے والی چیزوں سے بچ بچا کر اور ان کو چھوڑ کر زندگی گزارنے کا سبق دینے کے لئے روزہ فرض کیا گیا ہے ۔ جو شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے ، اس کو شام کے وقت کھانے کی لذت ملتی ہے ۔ اسی طرح جو شخص دنیا میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا وہی آخرت میں زندگی کی لذتوں کو پائے گا ۔