Al-Risala · October 1978

ہماری زندگی کے دو رخ ہیں

Al-Risala, October 1978, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مرتبہ میں ایک بڑے سرکاری افسر سے ملا۔ شام کا وقت تھا۔ ہم لوگ ان کے شان دار بنگلہ کے لان میں بیٹھے "مولانا صاحب اچانک انھوں نے کہا " ہم لوگوں کی زندگی بھی کیسی بری زندگی ہے۔ اب دیکھیے ۔ کل صبح کو سورج نکلنے سے پہلے مجھے ہوائی اڈہ پر جانا ہے۔ فلاں ملک کی اعلیٰ سیاسی شخصیت کا ہوائی جہاز ہماری زمین پر اترے گا۔ نہ صرف اپنی نیند کو چھوڑ کر ہوائی اڈہ پر پہنچنا ہے بلکہ دل میں نفرت کے باوجود مسکرا کر ان کا استقبال بھی کرنا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے لوگوں کی زندگیاں کس طرح دورخی ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک پہلو کار اور کوٹھی اور عزت اور اقتدار ہے۔ مگر اس کا ایک اور پہلو ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ چیزیں نہیں کن باتوں کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔ اگر آپ کسی بڑے آدمی کے اندر جھانک کر بھگتیں تو معلوم ہوگا کہ اس چمک دمک کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو سطحیت پر راضی کیا ہے، خوشامد، موقع پرستی، مصلحت پسندی، زمانہ سازی، بے ضمیری ظاہر داری، دوغلی، یہی وہ چیزیں ہیں جن کی قیمت ان کو ایک شان دار زندگی کی صورت میں ملتی ہے۔ ہر بڑے آدمی کی زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک شان دار، دوسرا تاریک اور بے روح۔ وہ اپنے ”انسانی وجود کو قتل کرنے پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ " حیوانی وجود کی سطح پر اس کو جاہ و حشم کی ایک زندگی حاصل ہو سکے۔ عام انسان کی زندگی کے بھی اسی طرح دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مزدور رمی جون کی گرمی میں کھلی دھوپ میں کام کر رہا ہے۔ وہ سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہے۔ مگر اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ وہ کیوں اپنے آپ کو مشقت کی آگ میں جلاتا ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس دھوپ کا ایک سایہ بھی ہے۔ اس کی مزدوری کا ایک پہلو گرمی اور روم میں جھلسنا ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ شام کو چند روپے حاصل کرے گا جس سے اس کے بیوی بچوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے گا۔

کسی عمل کے دو رخ ہونے کا یہ وہ پہلو ہے جو صرف دنیوی اعتبار سے پایا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بھی عمل کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ہر عمل جو آدمی اس دنیا میں کرتا ہے ، اس کا ایک رخ وہ ہے جو دنیا میں نظر آتا ہے۔ وہ ہے جو آخرت میں مترتب ہو رہا ہے۔ آج ہم اپنے عمل کے دنیوی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ کل ہم اپنے عمل کے اخروی پہلو کو دیکھیں گے۔ آج ہم زندگی کے ایک سمت میں کھڑے ہیں۔ اس لئے ہم کو اعمال کا ایک ہی رخ دکھائی دیتا ہے۔ قیامت ہم کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دے گی جہاں دونوں رخ ہمارے سامنے آ جائیں گے۔ جس طرح دیوار کے اوپر کھڑا ہوا آدمی دیوار کے دونوں طرف دیکھتا ہے اسی طرح قیامت کے عالم میں پہنچ کر آدمی حقیقت کے دونوں رخ کو دیکھنے لگے گا۔ ایک طرف پھیلی زندگی کی پوری تاریخ بچپن سے موت تک لمبی فلم کی طرح اس کے سامنے کھلی ہوئی ہوگی۔ دوسری طرف اس کی اس بنائی ہوئی تاریخ کے اخروی نتائج بالکل برہنہ ہو کر آنکھوں کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ (انفطار اس دن آدمی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا۔

فرد کو ایمانی غذا پہنچانا دینی تحریک کا اصل مقصد ایک دینی دار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بزرگ لکھتے ہیں: "تجدید دین پر آپ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک جرات مند اور حقیقت سے لبریز قدم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کی ٹھوس تعلیمات کو وزن دار پتھروں کے بوجھ کے نیچے دبا دیا اس کو دوبارہ آشکار کرنے کے لئے آپ نے "پہلا قدم"، تجویز کیا ہے، وہ اگر چہ درست ہے۔ مگر یہ بڑا صبر آزما اس راہ سے اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے صدی سے کم مدت درکار نہ ہوگی۔ بہر حال آپ نے "تجدید دین" میں صحیح نشان دہی فرما کر اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی کوشش کو قبول فرمائے۔ " (کشمیر ۱۳ جون 1978) تجدید دین کو موجودہ زمانہ میں تجدید سیاست کے ہم معنیٰ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس لئے جب بھی تجدید کی بات کی جائے فوراً سیاسی غلبہ کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ حالاں کہ لفظی طور پر تجدید دین کا مطلب صرف دین کو نیا کرنا ہے۔ اس سے مراد دین کو فکری طور پر نکھارنا ہے، نہ کہ اس کو سیاسی طور پر غالب کر دینا۔ اسی غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام جو در اصل خدا کی خاموش دنیا میں بندہ کے داخلہ کا دروازہ تھا، سیاسی شور وغل کا پنڈال بن کر رہ گیا۔

جس طرح دنیا میں طرح طرح کی مادی غذائیں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں حصہ دار بننے والا دنیوی حیثیت سے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی نے اپنی کائنات میں ایک اور دستر خوان کھولا ہے۔ یہ اخروی غذاؤں کا دستر خوان ہے جو نفسیاتی سطح پر آدمی کو ملتا ہے۔ اس کو خشوع و تضرع اور احبات دانا بت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے نزدیک آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ آدمی اس دوسرے دستر خوان سے اپنی غذا حاصل انسانی تعمیرات کے پردہ میں ڈھکا ہوا دین آدمی کے لئے اس خدائی دستر خوان سے غذا لینے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ دین انابت کو دین سیاست بنا کر رکھ دیتا ہے۔ نہ شدت ہوتی ہے کہ اس قسم کے تمام پر دوں کو ہٹا دیا جائے تاکہ اللہ کا جو بندہ اللہ سے قریب ہونا چاہے وہ اس کی قربت سے محروم نہ رہے۔

Printed page