دارالعلوم ، اگست ۱۹۷۷ء
Al-Risala, October 1978, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
پنڈت جی یہ سن کر حیرت میں پڑ گئے۔ " یہ تنقید اگر چھپی ہوئی نہ ہوتی تو میں یقین نہ کرتا کہ کوئی عالم ایسی کم زور بات کہہ سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم بات ہے کہ پیغمبر سارے معصوم ہوتے ہیں اور سب خدا کی طرف سے آتے ہیں۔ ان کا ہر سپر حق ہونا یقینی ہوتا ہے۔ پھر ان پر تنقید کا کیا سوال ۔ عام مصطفیٰ کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ایک مجتہد کی ہے اور آپ کے یہاں طے شدہ ہے کہ "المجتہد یخطی و یصیب مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور صحیح بھی)
اس کے بعد انہوں نے کہا۔ اس تنقید پر مجھ کو ایک لطیفہ یاد آگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لطیفہ اس قسم کی تنقیدوں پر بہت خوبی سے چسپاں ہوتا ہے۔
جاٹ اور تیلی ایک ساتھ جارہے تھے۔ تیلی نے کہا: ’’جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ جاٹ نے یہ سن کر سوچا کہ تیلی تو بازی لے گیا۔ مجھے بھی اس کے توڑ میں کچھ کہنا چاہئے، وہ بولا: