تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولھو
Al-Risala, October 1978, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
تیلی نے کہا یہ تو کچھ تک نہیں بیٹھا۔ جاٹ نے فوراً کہا : تک نہ ہو تو کیا۔ تو بوجھ کے نیچے تو مرے گا۔ ظہورِ اسلام کا پہلا صفحہ غلط ہے۔ کو شاہ ولی اللہ پر اعتراض ہے کہ وہ الہمنی دینی کی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ اور ظہورِ اسلام کے دیباچہ میں انہوں نے خود اپنے بارہ میں یہی بات لکھ دی۔ یہ تنقید بھی ویسی ہی ہے جیسے کوئی کہے "تیلی رے تیلی تیرے سر پر پہاڑ۔ تیلی پوچھے کہ میرے سر پر پہاڑ رکھا کس نے۔ تو وہ جواب دے: کچھ بھی ہو تمہارا سر
ظہورِ اسلام میں جو بات کہی گئی ہے وہ "القاری" کی نوعیت کی ہے نہ کہ وحی والہام کی نوعیت کی۔ القاری کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے۔ جب کہ وحی والہام صرف انبیاء کرام کے لئے مخصوص ہے ۔ " میرے رب نے مجھ کو الہام کیا" صرف پیغمبر کہہ سکتا ہے جب کہ یہ کہنا ہر ایک کے لئے جائز ہے کہ "میرے ذہن میں وارد ہوا“
اللہ کی بڑائی کی یاد نے ان کی زبانیں بند کر دی ہیں عن عقبۃ بن عامر قال لقیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت ما النجاة - فقال : املك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على عقبہ بن عامر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نجات کا راستہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنی زبان کو رو کے رکھو، گھر میں بیٹھے رہو اور اپنی خطاؤں پر روؤ۔
اپنی زبان کو قابو میں رکھ کر بولنا ، اپنے قریبی دائرہ کو اپنا میدان عمل سمجھنا اور اپنے "کارناموں" کے بجائے اپنی کوتاہیوں کو یاد رکھنا ایمان کی علامتیں ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں نجات کے مستحق قرار پائیں گے ۔
وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس کی آخر عمر میں جب کہ ان کی بینائی جاتی رہی تھی، میں ان کو لئے جا رہا تھا۔ وہ مسجد حرام میں پہنچے۔ وہاں ایک مجمع کی طرف سے کچھ جھگڑنے کی آواز سنائی دی۔ فرمایا مجھے اس مجمع کی طرف لے چلو۔ میں ان کو وہاں لے گیا۔
وہاں پہنچ کر عبداللہ بن عباس نے سلام کیا۔ لوگوں نے بیٹھنے کے لئے کہا تو آپ نے انکار کیا اور یوں بولے: "تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کے خاص بندے وہ لوگ ہیں جن کو اس کے خوف نے چپ کر رکھا ہے، حالانکہ وہ نہ عاجز ہیں، نہ گونگے، بلکہ فصیح لوگ ہیں، بولنے والے ہیں اور سمجھ دار ہیں۔ مگر اللہ کی بڑائی کی یاد نے ان کی عقلوں کو اڑارکھا ہے۔ ان کے دل اس کی وجہ سے ٹوٹے رہتے ہیں۔ اور ان کی زبانیں چپ رہتی ہیں۔ اس حالت پر ان کو بینگی ہو جاتی ہے تو اس کی وجہ سے وہ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ تم لوگ ان سے کہاں ہٹ گئے؟
وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کو بھی ایک جگہ اس طرح جمع نہیں دیکھا۔ آپس کی لڑائیاں ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اِنی لست اخشى عليكم ان تشركوا ولكن أخشى عليكم الدّنيا أن تنافسوا فيها وتقتتلوا فتهلكوا كما هَلَكَ من كان قبلكم (متفق عليه)
مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگوگے ۔ یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا چاہنے لگو گے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑوگے ۔ یہاں تک کہ اسی طرح ہلاک ہوگے جس طرح پچھلی امتیں ہلاک ہوگئیں ۔
قدیم عرب سے باقاعدہ حکومت نہ تھی ۔ طاقت ور کمزور کوستا تا اور اس کو لوٹ لیتا تھا ۔ کچھ سر بر آوردہ لوگوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ کمزوروں کا ساتھ دیں گے اور مظلوم کو اس کا حق دلوائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر جو معاہدہ لکھا گیا ، اس میں ایک جملہ تھا جس میں فضول کا لفظ تھا :
تُرَدُّ الفضول الى اهلها (سھیل، روض الانف)
مال ان کے مالکوں کو واپس کیا جائے گ1۔ اس وجہ سے اس عہد نامہ کا نام حلف الفضول پڑ گیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً پندرہ سال کی تھی کہ عرب کی مشہور لڑائی حربِ فجار (۵۸۱ء) کا چوتھا اور آخری مقابلہ ہوا۔ اس جنگ میں ایک طرف قبائل کنانہ تھے اور دوسری طرف قبائل قیس ، کافی نقصان اٹھانے کے بعد بالاخر دونوں فریقوں میں صلح ہوگئی۔ اس کے بعد آپ کے چچا زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر عبد اللہ بن جدعان (رئیس قریش) کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں یہ بات زیر غور آئی کہ کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے جس سے آئندہ ملک میں امن وامان قائم ہوسکے ۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ حلف الفضول کی تجدید کی جائے جو اس کے ابتدائی معاہدین کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ بنو ہاشم ، بنو مطلب ، بنواسد ، بنوزہرہ ، بنو تمیم نے قسم کھا کر اقرار کیا کہ وہ ملک میں بدامنی کو دور کریں گے ، مسافروں کی حفاظت کریں گے ۔ غریبوں کی مدد کریں گے مظلوموں کو ان کا حق دلائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس معاہدہ میں شریک تھے۔ بعد کو زمانہ نبوت میں آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
لقد شهدت مع عمومتی حلفاً فی دار میں اپنے چچاؤں کے ساتھ معاہدہ میں شریک ہوا تھا۔
عبد الله بن جدعان ما احب لى به حمر النعم ۔ اس کے بدلے اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں ولو د عبيت به فى الاسلام لا جبت ان کو قبول نہ کرتا ۔ اور اب زمانہ اسلام میں بھی اگر مجھے اس کے لئے بلایا جائے تو میں لبیک کہوں گا ۔
اس معاہدہ کے سلسلے میں دو باتیں بالکل واضح ہیں ۔
حلف الفضول دوروں اور تقریروں کی کوئی مہم نہ تھی۔ یہ ایک عملی پروگرام تھا جس میں کچھ سر بر آوردہ لوگوں نے قسم کھا کر اپنے آپ کو اس کا پابند کیا تھا کہ وہ مظلوم کی مدد کے لئے پہنچیں گے اور حق دار کو اس کا حق دلائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال کی عمر میں اس عہد نامہ میں شریک ہوئے تھے تا ہم نبوت ملنے کے بعد آپ نے جس چیز کو اپنا مشن بنایا وہ مذکورہ عہد نامہ نہ تھا۔ آپ کا مشن تو توحید و آخرت تھا۔ وہ چیز جس پر آپ نے پوری زندگی لگائی ، وہ تھا شرک سے لوگوں کو ہٹا کر ایک خدا کا پرستار بنانا اور دنیا پرستانہ زندگی کے بجائے آخرت پسندانہ زندگی پیدا کرنا ۔ آپ نے ایک موقع پر یہ ضرور فرمایا کہ آج بھی اگر کوئی مجھے حلف الفضول والے کام کی طرف پکارے تو میں لبیک
مگر اس کو آپ نے دوسرے کی پکار پر مشروط رکھا۔ خود آپ نے اس کو اپنا مشن نہیں بنایا۔ اس کی وجہ تھی کہ حلف الفضول جیسے کسی کام کی حیثیت زیادہ سے زیادہ دنیوی فلاح کے ایک پروگرام کی ہے۔ جب کہ نبی اس لئے آتا ہے کہ وہ لوگوں کو فلاح آخرت کا راستہ دکھائے۔ نیز یہ کہ خود دنیوی اخلاقیات بھی حقیقی معنوں میں خدا کے خوف ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔