Al-Risala · October 1978

خدا کا خوف حکمت کا خزانہ ہے

Al-Risala, October 1978, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر28)

اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

رأس الحكمة مخافة الله دانائی کا سرا اللہ کا خوف ہے بائبل مخافة الرب رأس المعرفة بائبل خدا کا خوف علم کا شروع ہے THE FEAR OF THE LORD IS THE BEGINNING OF KNOWLEDGE خدا کا خوف سادہ معنوں میں صرف ” ڈر کا نام نہیں ہے، وہ حقیقت کی اعلیٰ ترین یافت ہے۔ وہ آدمی کے اوپر عقل و دانش کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ نفسیاتی واقعہ ہے کہ اندیشہ کے احساسات آدمی کے اندرون کو جگاتے جب کہ اطمینان اور قناعت کے احساسات اس کے اندرون کو سلا دیتے ہیں۔ جب آدمی اپنے کو خطرہ کی حالت میں محسوس کرے تو اس کی فکری قوتیں زیادہ گہرائی کے ساتھ کام کرنے لگتی ہیں اور جب وہ اپنے کو بے خطر محسوس کرے تو اس کا ذہن کند ہو جاتا ہے۔ سامنے کے حقائق بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ خوف سے مستقبل کے متعلق سوچنے کا ذہن پیدا ہوتا ہے اور بے خوفی سے حال کے اندر گم رہنے کا۔

مشہور بزرگ شبلی نے کہا ہے "جب بھی میں اللہ سے ڈرا ہوں تو اس کی وجہ سے مجھ پر حکمت و عبرت کا ایسا دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے میرے اوپر کھلا ہوا نہ تھا۔ خوف خدا کے بغیر سچی دینداری پیدا نہیں ہو سکتی۔ حسن بصری نے فرمایا : عالم وہ ہے جو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرے۔ وہی چیز پسند کرے جو اللہ کو پسند ہے اور اس سے کوئی دل چسپی نہ رکھے جو اللہ کو (العالم من خشى الرحمن بالغیب ورغب فيما رغب الله فيه وزهد فيما سخط الله فيه (تفسیر ابن کثیر)

کسی کے نزدیک اسلام ایک عملیاتی نسخہ ہے ، اپنی زندگی کے ساتھ اسلام کے عملیاتی ضمیمہ کو جوڑ لو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ کوئی سارے معاملے کو بزرگوں کا معاملہ سمجھتا ہے ، کسی زندہ یا مردہ بزرگ کا دامن تھام لو اور ان کی برکت سے دونوں جہان کی نعمتیں سمیٹ لو ۔ کچھ لوگ ہیں جن کو خوش قسمتی سے اور بھی زیادہ کامیاب طریقہ حاصل ہوگیا ہے ، شان دار تقریریں کرو اور اس کے بعد دنیا میں لیڈری ہے اور آخرت میں جنت الفردوس ۔ یاد رکھئے ۔ جنت اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ اس قسم کے سستے سکوں سے حاصل ہو جائے ۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ اپنے لڑکے کو کامیاب ڈاکٹر بنانے کے لیے اس کو عملیاتی ورزشیں کرانے یا لڑکے کو کسی پہنچے ہوئے درویش سے بیعت کرائے اور ان کی برکت کے بھروسے پر بیٹھ جائے۔ یا ڈاکٹر کانفرنس“ کے پنڈال پر لڑکے کو ہار پہنا کر سمجھ لے کہ اس نے بیٹے کا کلینک کھولنے کا یقینی انتظام کر لیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسلام کے بارے میں لوگوں نے اسی قسم کے سستے نسخوں پر امیدوں کے عالی شان محل بنا رکھے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت اسی طرح سرگرمیوں کی ایک زیادہ اعلیٰ جگہ ہے جس کا ایک اسفل نمونہ ہم موجودہ دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی مقام اسی کو ملتا ہے جو اس کی قابلیت پیدا کرے ۔ اسی طرح آخرت کے مناصب اور مقامات پر وہی لوگ فائز کئے جائیں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا ہو : مراد کو پہنچا جس نے اپنے جی کو سنوارا اور نامراد ہوا قد أفلح من زكها وقد خاب من دشها جس نے اس کو خاک میں ملایا (ترجمہ شاہ عبد القادر)

قوم ثمود کے سامنے ایک اونٹنی ظاہر ہوئی ۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو ہلاک کر دیں ۔ ان کے رسولوں نے ان کو متنبہ کیا کہ اس کو تم ”اونٹنی“ ، کا معاملہ نہ سمجھو۔ یہ ایک خدائی معاملہ ہے ۔ مگر ان کی سمجھ میں بات نہ آئی ۔ نے خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اپنی آنکھوں کو اندھا بنا رکھا تھا ۔ ان کو ”اونٹنی“ دکھائی دی ۔ مگر خدا نظر نہ آیا ۔ انھوں نے بڑھ کر اونٹنی کو مار ڈالا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ برتری اور بہادری کا ٹائٹل لے رہے ہیں ۔ حالاں کہ ایسا کر کے وہ اپنے اندھے پن کا ثبوت فراہم کر رہے تھے۔ وہ بھول گئے کہ آخرت کی دنیا ان لوگوں کے لیے ہے جو اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ ”اونٹنی“ سے گزر کر خدا کو دیکھنے کی استعداد رکھتے ہیں ۔ جن کو اونٹنی نظر آئے مگر خدا نظر نہ آئے ، وہ خدا کے نزدیک صرف اندھے ہیں اور اسی حال میں وہ اگلی دنیا میں اٹھائے جائیں گے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

” جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا ، اس کے لئے تنگ گزران ہے ۔ قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! کیوں تو نے مجھ کو اندھا اٹھایا ، دنیا میں تو میں آنکھ والا تھا ۔ جواب ملے گا کہ اسی طرح پہنچی تھیں تمہارے پاس ہماری نشانیاں پس تم نے ان کا کچھ خیال نہ کیا ۔ اسی طرح آج تھا ما کچھ خیال نہ کیا جائے گا ۔

دنیا میں جن لوگوں نے ” اندھے پن “ کا ثبوت دیا مودہ آخرت میں ” بینائی“ کے مناصب پر کیسے فائز کئے جاسکتے ہیں ۔

سگمٹ فرائڈ (1939-1856) نفسیات کا مشہور عالم ہے۔ اس کا نظریہ تھا کہ خواب کا انسانی ذہن سے با ہر کوئی ماخذ نہیں۔ وہ زیادہ تر انسان کی دبی ہوئی خواہش (REPRESSED WISH) کو پورا کرنے کا ایک مظہر انسان کی وہ تمنائیں جن کی وہ تکمیل نہ کر سکا، خواب میں ان کو پورا ہوتے دیکھ کر وہ تسکین حاصل کرتا ہے۔ اپنے اس نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے اس نے جو کتا بیںلکھیں۔ ان میں اس کے نزدیک سب سے زیادہ اہم کتاب وہ تھی جس کا نام ہے :

تعبیر خواب (THE INTERPRETATION OF DREAMS)

اس کتاب میں اس نے بہت سے خوابوں کو جمع کر کے اپنے نقطہ نظر کے مطابق ان کی تعبیر بیان کی ہے ۔ فرائڈ کی یہ کتاب پہلی بار جرمن زبان میں صرف ۶۰۰ کی تعداد میں چھپی تھی ۔ مگر اس کو فروخت ہونے میں آٹھ سال لگ گئے ۔ تا ہم بعد کو فرائڈ کے نظریات نے کافی شہرت حاصل کی ۔ اگر چہ اس کو مقبولیت کے بہت کم سال ملے۔ کیوں کہ جلد ہی بعد علمائے نفسیات نے فرائڈ کے نظریات پر سخت تنقید شروع کر دیں ۔

کچھ ایسے خواب ضرور ہیں جن کو فرائڈ نے نہایت کامیاب طور پر اپنے نظریہ تعبیر کے مطابق ثابت کیا ہے۔ خوابوں کی تعبیر محض دور از کار تاویل معلوم ہوتی ہے ۔ مثلاً ایک خواب کے مطابق ایک نوجوان ڈاکٹر رات کو دیکھتا ہے کہ اس نے انکم ٹیکس کا غلط حساب پیش کیا ہے جس کے نتیجہ میں اس کو سزا دی جارہی ہے ۔ فرائڈ کہتا ہے کہ نوجوان چاہتا تھا کہ وہ بہت زیادہ دولت کمانے والا ڈاکٹر بنے ۔ اس کی یہی دبی ہوئی خواہش ہے جس نے مذکورہ خواب کے ذریعہ اپنی تسکین حاصل کی ۔ اس قسم کا استدلال اگر صحیح ہو تو کسی دوسرے بالکل مختلف نظریہ تعبیر کو بھی اتنی ہی کامیابی کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے۔

تا ہم اس کتاب میں ایک اور بات ہے جو اس سے بھی زیادہ دل چسپ ہے ۔ فرائڈ اپنی ساری ذہانت کے باوجود متعدد خوابوں کو اپنے نظریہ تعبیر کے مطابق ثابت نہ کر سکا ۔ ایسے واقعات میں اس نے ایک اور منطق ڈھونڈ نکالی ہے: ” یہ خواب میرے مخالفین کی اس دبی ہوئی خواہش کا نتیجہ ہیں کہ وہ میرے نظریہ کو غلط ثابت کر سکیں ۔ ایک شخص نے فرائڈ سے اپنا خواب بیان کیا۔ وہ ایک وکیل تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے مقدمات کے تمام فائل گم ہو گئے ہیں ۔ فرائڈ اپنے نظریہ کے مطابق اس کی کوئی اطمینان بخش تعبیر بیان نہ کر سکا۔ بعد کو اس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اصل یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں آٹھ سال تک اس کا ساتھی تھا۔ اس زمانہ میں فرائڈ ہمیشہ فرسٹ آتا رہا ۔ جب کہ مذکورہ شخص کا نتیجہ ہمیشہ اوسط درجہ کا ہوتا تھا۔ فرائڈ کے نزدیک اس وقت سے مذکورہ شخص کے دل میں یہ خواہش دبی ہوئی تھی کہ فرائڈ کو نیچا دکھائے۔ مگر عملاً وہ ایسا نہ کر سکا ۔ اب اس کے لاشعور نے مذکورہ خواب دیکھ کر تسکین حاصل کی کہ اس نے فرائڈ کو کم از کم اس کے نظریہ خواب کے معاملہ میں غلط ثابت کر دیا ہے۔

فرائڈ کے اس طریق تعبیر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک عالم نفسیات نے لکھا ہے : With this kind of logic, all dreams can- not but be consistent with Freud's theory. اس قسم کی منطق سے تولازماً تمام خواب فرائڈ کے نظریہ کے مطابق ہی ثابت ہوں گے (۲۵ جون ۱۹۷۸) منطق کی یہ قسم فرائڈ تک محدود نہیں۔ یہ بہت زیادہ عام ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس کو اپنے لئے ایک قیمتی علمی ہتھیار سمجھتے ہیں جو فرائڈ کے " ’’مخالف‘‘ " ہیں۔ خود راقم الحروف کو متعدد بار اس منطق سے سابقہ پڑا ۔ میں نے کسی کے نقطہ نظر پر علمی تنقید کی۔ موصوف کو پورا حق تھا کہ وہ میری بات کو دلیل کے ذریعہ رد کرتے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا: تم کوچوں کہ مصنف سے " ضد " ہے ، اس لئے تم اس کے خلاف تنقید کر رہے ہو۔ ایک بزرگ نے ایک بار لکھا : " آپ کے اندر میرے خلاف ایک ضداور کد کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے ، اس لئے آپ کو میری بات غلط نظر آتی ہے “ اگر آدمی کے پاس اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لیے دلیل موجود نہ ہو تو یہ اس کے لئے بہترین قلعہ ہے جہاں وہ پناہ لے سکتا ہے۔ اگر چہ اپنے تمام تر حسن اور تقدس کے باوجود یہ ایک ایسا قلعہ ہے جو آدمی کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اس کے معتقدین کے ذہن میں۔ ان کے باہر اس مضبوط قلعہ کا کہیں وجود نہیں ہوتا۔ اهميت ہو، اللہ کے نزدیک ایسے اسلام کی کوئی قیمت

Printed page