ایمان ایک غذا ہے
Al-Risala, October 1978, pp. 23–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قلب کی قساوت یہ ہے کہ آدمی کے دل سے نرمی نکل گئی ہو۔ وہ سچائی کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوتا ہو۔ غذا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی منہ میں کوئی چیز ڈال کر اس کو چبارہا ہو۔ غذا وہ ہے جو آدمی کا گوشت اور کوئی معاملہ پڑے تو وہ ایسا رویہ اختیار کرے گویا اس خون بنے اور اس کی صحت و طاقت کا ذریعہ ہو۔ کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے (بقرہ ۷۴) آدمی کے دل سے لطیف احساسات اس طرح مٹ جائیں کہ شیطان مسلمان کے مسلمان ہونے کی پہچان محض ظاہری جب اس کے دل میں اپنی بات ڈالے تو وہ اس کو پہچان اعمال نہیں ہیں۔ نہ یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریروں اور نہ سکے اور شیطانی ترغیبات کا شکار ہو جائے (حج ۵۳) تحریروں کا کمال دکھار ہا ہو۔ اللہ کا مطلوب مسلمان آدمی خدا کی نشانیاں دیکھے، اس کے سامنے حق کے وہ ہے جس کے اعمال اس کے سینہ میں قلب خاشع پیدا دلائل آئیں مگر یہ چیزیں اس کے دل کو متاثر نہ کریں۔ کر رہے ہوں۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ بظاہر اسلامی خدا کی یاد سے خالی رہ کر وہ زندگی گزارتا رہے (زمر ۲۲) اعمال کی دھوم ہو، مگر آدمی کے سینہ میں قلب قاسی جهنم وہ حقائق کو نظر انداز کرے اور خوش فہمیوں پر اپنی زندگی لے رہا ہو تو دنیا والوں کی نظر میں خواہ اس کی کتنی ہی کی بنیاد رکھے (حديد ١٦)
اسلام کے نادان دوست ایک شخص تجارت کرے اور اپنی محنت سے کروڑ پتی بن جائے تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں پیدا اس کے برعکس اگر وہ اپنے پڑوسی سے چھین جھپٹ کرکے کروڑ پتی بننے کی کوشش کرے تو دونوں کے درمیان دشمنی وجود میں آتی ہے۔ حتی کہ قتل تک کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ کہ سب کچھ لوٹنے کے بعد بھی اصل مقصد حاصل
یہی معاملہ حکومتی تبدیلی کا بھی ہے۔ میں حکومت کی تبدیلی کا جو معروف طریقہ ہے، اگر اس کے ذریعہ حکومت بدلنے کی کوشش کی جائے تو سماج کے اندر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اپریل ۱۹۷۷ میں ہندوستان میں ہوا۔ جنتا پارٹی نے اندرا پارٹی کو ہٹانا چاہا۔ اس مقصد کے لئے اس نے عوام کی رائے کو ہموار کیا۔ حالات نے اس کا ساتھ دیا اور الیکشن کے معروف اور ومسلّم طریقہ کے مطابق اس نے اندرا حکومت کو ختم کر دیا۔ اندرا گاندھی نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور جنتا پارٹی کے لئے جگہ خالی کر دی۔
ٹھیک اسی زمانہ میں پاکستان میں نو پارٹیوں کا متحدہ محاذ وجود میں آیا۔ اس کا مقصد بھٹو حکومت کو ختم کرکے ”نظام مصطفیٰ‘‘ قائم کرنا تھا۔ کوششوں کے باوجود مارچ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں اسلامی محاذ ہار گیا۔ اب صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی ہار کو مان کر دوبارہ کوشش کرتا کہ اگلے الیکشن میں زیادہ بڑے پیمانے پر عوامی تائید حاصل کرے، جیسا کہ ہندوستان میں اندرا پارٹی کررہی ہے۔ مگر اسلامی محاذ نے اس کے برعکس دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے شور مچانا شروع کیا کہ "بھٹو پارٹی دھاندلی کرکے الیکشن جیتی ہے ورنہ عوام کی صد فی صد اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ اس نے صرف شور وغل پر بس نہ کیا۔ عوام کی منفی جذ باتیت اور تخریب پسندی سے فائدہ اٹھاکر اس نے شہروں میں ہڑتال اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ یہ صورت حال فوجی افسروں کے لئے بے قیمتی تھی۔ انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر جولائی ۱۹۷۷ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ مگر پاکستانی شہروں میں اسلامی محاذ کی توڑ پھوڑ اور فوجیوں کا اسلام آیا د پر قبضہ دونوں ہی معروف مسلم طریقہ کے خلاف تھے۔ اس نے مسئلہ کو ختم نہیں کیا، بلکہ مسئلہ میں اضافہ کردیا۔
فوجی افسران جو فوجی بیرک سے نکل کر اچانک صدارتی محل میں پہنچ گئے، عوام خاص طور پر دیہاتی عوام کی صورت حال سے بالکل بے خبر تھے۔ فوراً اعلان کردیا کہ پاکستان میں ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۷ء کو عام الیکشن ہوگا، بھٹو کی سب سے بڑی سزا یہ ہوسکتی تھی کہ اس کو دوبارہ الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے اور اس کا بیلٹ بکس خالی رہ جائے۔ لیڈر کے لئے یہ سزا موت سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کے نام پر ہونے والے جلسوں کی بھیڑ نے ثابت کردیا کہ فوجی حکمرانوں کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ بھٹو کو اس قسم کی سزا دے سکیں۔ اب انھوں نے دوسرا فیصلہ وہ الیکشن کے ذریعہ بھٹو کو قتل نہیں کرسکتے تھے،
انہوں نے طے کیا کہ وہ بندوق کی گولی سے بھٹو کو قتل اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد یہ طاقت بہرحال فوجی حکمرانوں کے پاس موجود تھی۔
مگر معروف اور مسلم طریقہ کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نام پر ایک ایسا نظام آرہا ہے جو نہ تو اسلامی نظام ہوگا اور نہ خالص سیاسی اور اقتصادی معنوں میں پاکستان کے لئے کسی بہتری کا باعث ہوگا۔ اس کا واحد انجام ہے لیاقت علی خاں کے قتل (۱۹۵۱) سے پاکستان میں بربادی کا آغاز ہوا تھا، مزید لامعلوم مدت تک اس میں اضافہ اوپر کی سطریں ۲۵ مارچ 1978 کولکھی گئی تھیں۔ ان کی کتابت ہو چکی تھی کہ بعض وجہ سے ان کی اشاعت کو روک دیا گیا۔ اب اس کو مکمل کر کے شائع کیا جار ہا ہے محمد ایوب خاں نے اپنے زمانہ حکومت (۱۹۶۹ – میں بنیادی جمہوریت (یا محدود جمہوریت ) کا نظام قائم کیا تھا۔ یہ اپنے ڈھانچہ کے اعتبار سے اسلام سے قریب تر تھا، تاہم اسلام پسندوں کو نظر آیا کہ ملک میں اگر بالغ رائے دہی کا نظام قائم ہو جائے تو ان کے لئے اقتدار تک پہنچنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ ملک کے مختلف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر تحریک جمہوریت چلائی اور اس کو کامیاب بنانے کے لئے توڑ پھوڑ کی حد تک لے گئے۔ تاہم بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان میں ہونے والے دو انتخابات (۱۹۷۰ء - ۱۹۶۹ء) میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی اب پاکستان میں جنرل ضیاءء الحق اور اسلام پسند دونوں ایک مشترک مسئلہ سے دوچار تھے۔ وہ یہ کہ دونوں میں سے کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعہ اقتدار کی کرسی پر پہنچ سکتا ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے اس کا حل یہ نکالا کہ انتخاب کے بجائے فوجی طاقت کے ذریعہ پاکستان کے اوپر مسلط ہو جائیں۔ تاہم انہیں ضرورت تھی کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے ایک "وزارت" بھی پاکستان میں قائم ہو۔ یہاں اسلام پسندوں کی مایوسانہ نفسیات نے ان کا ساتھ یہ لوگ عوامی انتخابات کے ذریعہ اپنے سیاسی حوصلوں کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے جنرل ضیا الحق سے سیاسی مصالحت کر کے عقب دروازہ سے ایوانِ حکومت میں داخلہ حاصل کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق نام نہاد ۳۲ رکنی کابینہ میں تین وزارتیں اسلام پسند حلقے کو ــــ بھٹو مخالف عناصر کو "وزارت" کی کرسی پر بٹھا کر جنرل ضیا ء الحق سمجھتے ہیں کہ وہ "بھٹو ازم" کو پاکستان سے ختم کر سکیں گے۔ مگر ان کو اور ان کے سیاسی دوستوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ منفی تدبیروں سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ فوجیوں اور اسلام پسندوں کا یہ گٹھ جوڑ کسی بھی درجہ میں پاکستان کے سیاسی مسئلہ کو حل کرنے والا طویل اختلافی سیاست کے نتیجہ میں پاکستان میں عوامی جمہوریت کا جو ابال آ چکا ہے اور جس کے لانے میں خود اسلام پسند بھی برابر کے شریک ہیں، وہ لاوا کی طرح اندر اندر پک رہا ہے اور موقع پا کر جب ابلے گا تو نہیں معلوم کس کس چیز کو اپنے ساتھ بہا لے جائے ــ جمہوری سیلاب کا واحد روک دائمی فوجی ڈکٹیٹر شپ ہے۔ مگر وہ ایسا ہی ہے جیسے کونین کے بجائے زہر سے ملیریا کا (۲۴ اگست ۱۹۷۸ء)
قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذی اوحينا اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان نوح کو حکم دیا تھا۔ اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه كبر على المشركين اور جس کا حکم ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا۔ یہ کہ دین کو ما تدعوهم اليه ( شوری - ۱۳ ) قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ مشرکوں پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو اقامت دین کی اس آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ دین کو قائم کرو ، باطل کومت قائم کرو بلکہ یہ فرمایا کہ ” دین کو قائم کرو ، دین میں متفرق نہ ہو ، جس حالت کو اختیار کرنے کا حکم ہے اور جس حالت سے منع فرمایا گیا ہے دونوں ، آیت کے الفاظ کے مطابق ، خود دین سے متعلق حالتیں ہیں۔ اور ان دونوں حالتوں میں سے ایک دینی حالت کو چھوڑنے اور دوسری دینی حالت کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں جو حکم ہے وہ اقامت باطل کے مقابلہ میں اقامت دین کا نہیں ہے بلکہ تفریق فی الدین کے مقابلہ میں اقامت دین کا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد صرف اساسی دین ہے۔ کیوں کہ اساسی دین تمام انبیاء کے درمیان یکساں تھا اور اسی میں سب کی مشترک پیروی کی جاسکتی ہے۔ تفصیل شریعت قرآن کی تصریح (لكل جعلنا منكم شرعة و منهاجا ) کے مطابق ان کے درمیان مختلف تھی۔ اس لئے تفصیلی شریعت میں بیک وقت سارے نبیوں کی پیروی ممکن نہیں۔ تفصیلی شریعت میں نبیوں کے درمیان جو فرق تھا وہ کسی ارتقائی تشریع کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ حالات اور دعوتی مراحل میں فرق کی بنا پر تھا۔ یہ فرق مختلف مسلم گروہوں کے درمیان آج بھی ہے اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو دائمی طور پر یکساں حالت میں مطلوب ہے۔ دوسرا وہ جو حالات کے تابع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ اساسی تعلیم سے متعلق ہے اور اس کو قرآن میں الدین (شوری) کہا دوسرا حصہ شرعہ اور منہاج (مائده48) کا ہے۔ یعنی فرعی قوانین اور طریق کار۔ پہلے حصہ دین کو قرآن میں سبیل (راستہ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے حصہ دین کو سُبل (راستے) کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا حصہ ہمیشہ ایک رہتا ہے ، وہ ہر زمانہ کے لئے واحد شاہ راہ ہے۔ اس کے برعکس دوسرے حصہ دین کا تعلق حالات سے ہے اور اس میں ایک سے زیادہ صورتوں کی گنجائش رہتی ہے۔ حکم ہے کہ دعوت و اقامت کا موضوع الدین کو بناؤ ، سُبل متفرقہ کو مت بناؤ۔ متفق علیہ دین کو قائم کرنے میں لگو ، مختلف فیہ دین کے پیچھے پڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جاؤ۔
قرآن میں مختلف مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے عمل کی ایک
شاہراہ مقرر کردی ہے۔ تم اسی پر چلو، اِدھر اُدھر کے راسں پر مت چلو۔ ورنہ تم اصل خدائی شاہراہ سے بھٹک جاؤ گے۔ اس شاہراہ کو قرآن میں الالدینِ قیم (ببینہ) حبلی اللہ (آل عمروان) سواء السبیل (مائدہ) اور صراطِ مستقیم (انعام) وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ انعام کے ۱۹ ویں رکوع میں چند بنیادی چیزوں کا حکم دینے کے بعد ارشاد ہوا ہے: ان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل کہہ دو کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ، سو تم اسی پر چلو اور فتفرق بكم عن سبيله ذلكم وصکم بہ لعلکم دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ تم کو اصل راہ سے (انعام - ۱۵۳) جدا کر دیں گی۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے تا کہ تم متقی بنو۔
اس آیت میں متفرق راستے (سبل) سے مراد کفر و شرک کے راستے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ راستے ہیں جو دین کے نام پر نکالے جاتے ہیں (قال مجاهد السبل البدع قرطبی)۔ اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے وہ واضح الفاظ میں قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ قرآنی تعلیمات عملاً زندگی میں کس طرح متشکل ہوتی ہیں، اس کا واضح نمونہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں میں موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اسی ثابت شدہ الدین پر قائم رہے۔ اس کے سوا دین میں ایسی باتیں نکالنا جو قرآن اور سنت سے بلا اختلاف ثابت نہ ہوں، اِدھر اِدھر کے راستوں پر بھٹکنا ہے جو آدمی کو اصل خدائی راستہ سے دور کر دیتا ہے۔ بطور خود آدمی سمجھتا ہے کہ وہ دین پر چل رہا ہے، حالانکہ اصل خدائی دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔