دین اور شریعت کا فرق
Al-Risala, October 1978, pp. 27–30
By Maulana Wahiduddin Khan
الدین کیا ہے۔ یہ تو توحید ہے۔ یعنی ایک ہستی کو خالق و مالک ماننا، اسی کو اپنی تمام تو جہات کا مرکز و محور بنانا، اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنا، اسی کے آگے اپنے آپ کو جھکا دینا۔ یہی دین کا اصل سراپا ہے۔ اس کا ہاتھ آنا تمام چیزوں کا ہاتھ آنا ہے۔ یہ اگر چھوٹ جائے تو کوئی بھی چیز آدمی کے حصہ میں باقی نہیں رہتی۔ خواہ ظاہر داری اور جدال کی سطح پر وہ اپنے آپ کو کتنا ہی دین دار ثابت کر رہا ہو۔ قرآن میں اقامت دین کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی دین سے سورہ شوریٰ کی اس آیت میں اقامت دین سے مراد دراصل اقامت توحید ہے۔ یعنی بندے کو حقیقی معنوں میں خدا سے جوڑنا۔ اس کو وحدہ لاشریک کا سچا پرستار بنانا۔ اگر کوئی گروہ عبادت کے جزئی اور اختلافی مسائل پر فقہی نزاع کھڑی کرے یا دین قائم کرنے کے نام پر حکمراں جماعت سے سیاسی مقابلہ آرائی شروع کر دے تو یہ اقامت دین نہیں ہوگا بلکہ قرآن کے الفاظ میں سبل متفرقہ کا اتباع ہوگا جو دین میں قطعاً ممنوع ہے۔ اس قسم کے ذیلی اور اختلافی امور پر معرکہ کھڑے کرنا امت کی وحدت کو ختم کر دیتا ہے۔ امت فرقوں میں بٹ کر اللہ کی اجتماعی نصرت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اقامت دین متفق علیہ مسئلہ کے لئے جدوجہد کرنے کا نام ہے نہ کہ مختلف فیہ مسائل کو لے کر مسلمانوں میں جدال و نزاع بر پا کرنے کا۔
دین سے مراد اصلاً اگر چہ توحید ہے۔ تاہم تبعاً اس میں وہ تمام مسائل شامل ہوتے چلے جائیں گے جو قرآن
سنت کے مطابق متفق علیہ ہوں اور جن میں ایک سے زیادہ رایوں کی گنجائش نہ ہو۔
مثلاً خدا کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی ربوبیت کو لوگوں کے سامنے لایا جائے تو اس سے اُمت میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ عقائد محکم آیات و احادیث سے ثابت ہیں۔ اس کے برعکس اگر اس قسم کی بحثیں نکالی جائیں کہ خدا جسم رکھتا ہے یا نہیں ۔ خدا کا عرش کہاں قائم ہے ۔ خدا اپنا نظیر پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ وغیرہ توان چیزوں میں کبھی تمام امت متفق الرائے نہیں ہو سکتی ۔ کیوں کہ یہ تمام چیزیں استنباطی نوعیت کی ہیں۔ ان میں خوض کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی کا استنباط اس کو ایک رائے کی طرف لے جائے گا، کسی کا دوسری طرف ۔ اس طرح مختلف تعبیرات وجود میں آئیں گی۔ ہر تعبیر کے گرد اہل ایمان کا ایک گروہ جمع ہو جائے گا ۔ ایک دین کے اندر کئی دین بن جائیں گے ۔ اگر اول الذکر معتقدات کی تلقین کی جائے تو یہ اقامت دین ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ثانی الذکر قسم کی اعتقادی موشگافیاں کی جانے لگیں تو یہ قرآن کے الفاظ میں تفرق فی الدین ہے۔ پہلی چیز مطلوب ہے اور دوسری چیز غیر مطلوب۔
یہی معاملہ ان امور کا ہے جن کو عبادات کہا گیا ہے ۔ مثلاً نماز کے لئے وضو کا لازمی ہونا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ مگر اس کے ارکان و شروط کی تعداد کے بارے میں ایک سے زیادہ رائیں ہیں۔ سنن و مستحبات کی تعداد تو درکنار فرائض وضو کی تعداد کے بارے میں بھی فقہاء متفق الرائے نہیں ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک فرائض وضو چار ہیں ، مالکیہ کے نزدیک سات، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک چھ (الفقه علی المذاہب الاربعہ) اب اگر ان اختلافی امور میں تعداد کے تعین کو بحث و مباحثہ کا موضوع بنایا جائے تو مسئلہ کے استنباطی ہونے کی وجہ سے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان کی تعداد کے بارے میں سب کی رائیں ایک ہو جائیں ۔ اس قسم کی کوشش اتحاد عملاً صرف اختلاف و انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔ یہ ایک امت کو کئی امتوں میں تقسیم کر دے گی ۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ امور اتفاقی کو مدار دعوت بناؤ، امور اختلافی کو مدار دعوت نہ بناؤ۔
یہی معاملہ اسلامی سیاست کا ہے۔ اگر ایک شخص ایسا کرے کہ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعا کرے ، ان سے انفرادی ملاقات کر کے ان کو خدا پرستی اور آخرت پسندی کی تلقین کرے ۔ سنجیدہ انداز میں تحریر و تقریر کے ذریعہ اسلامی سیاست کے پہلوؤں کو نمایاں کرے تو اس سے امت میں کوئی تفریق وجود میں نہیں آئے گی ۔ اس کے برعکس اگر کچھ لوگ احتجاج و مطالبات کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جائیں اور سیاسی محاذ بنا کر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلانے لگیں تو اس کے نتیجہ میں لازماً یہ ہوگا کہ امت فرقوں فرقوں میں بٹ جائے گی ۔ ایک فرقہ حکمرانوں کا ساتھ دینے والوں کا ہوگا، دوسرا اس کو اقتدار سے ہٹانے والوں کا ۔ اس طرح امت دو جتھوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دے گی ۔ اقامت دین کے نام پر تفریق فی الدین وجود میں آجائے گا۔
وضو کے آداب و قواعد کی تعداد کا معاملہ ایک استنباطی معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تعین کے بارے میں اہل علم کی کئی رائیں ہوگئی ہیں۔ یہی کیفیت امت مسلمہ کے سیاسی مشن کی ہے۔ یہ بھی تمام تر ایک استنباطی معاملہ کیوں کہ قرآن و حدیث میں کوئی نفس ایسی موجود نہیں ہے جو سیاسی مشن کی نوعیت کو صراحۃً متعین کر رہی ہو۔
یہ نتیجہ ہے کہ اس باب میں اہل علم کی رایوں میں تعدد پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ایک گروہ کا اصرار ہے کہ امت مسلمہ کا اصل نصب العین یہ ہے کہ حکومت اسلامی کے قیام کی جدوجہد کی جائے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت ایک امر موجود ہے ۔ یعنی وہ اللہ کی طرف سے بطور انعام ملتی ہے نہ کہ اس کو نشانہ بنا کر براہ راست جدوجہد کرنے سے۔ ایک اور طبقہ یہ کہتا ہے کہ اصل کام اصلاح معاشرہ ہے نہ کہ اصلاح حکومت۔ معاشرہ کی اصلاح ہو جائے تو خود بخود صالح حکومت قائم ہو جائے، ان نظری اختلافات کے علاوہ حکومت کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں شدید عملی نزاکتیں بھی شامل ہیں ۔ جب بھی کسی بر سر اقتدار گروہ کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی، وہ لازماً اپنی طاقت کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر باہمی قتل وخون وجود میں آئے گا۔ اقامت دین“، عملاً تفریق فی الدین پر منتج ہوگا۔ شریعت کا ایسا معاملہ جس میں ایک سے زیادہ نقطہ نظر قائم کرنے کی گنجائش ہو اس میں تمام لوگوں کو ایک جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش ہمیشہ نتیجہ پیدا کرتی ہے کہ کئی جھنڈے وجود میں آجاتے ہیں۔ ہمیشہ کے لئے حکم دے دیا گیا کہ اختلافی امور کو مدار تحریک نہ بناؤ۔ صرف اتفاقی امور پر اپنی تحریکوں کی بنیاد قائم کرو۔ انھیں اسباب کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صدر اول کے بعد خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی اور ہزار برس تک چلتی رہی مگر صلحائے امت نے کبھی اس کے خلاف خروج نہیں کیا۔ انھوں نے حکمرانوں کو انفرادی نصیحتیں کیں مگر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کوئی ایجی ٹیشن نہیں چلایا۔ یہ صرف عصر حاضر کی نظامی تحریکوں کی دین ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو سیاسی انقلاب کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو جھیتے بن گئے ہیں۔ ایک حکمران گروہ کا۔ دوسرا ان کے مخالف انقلابیوں کا۔ دونوں مسلم گروہوں کے درمیان لا متناہی سیاسی جنگ جاری ہے جو حرث اور نسل کی ہلاکت (بقرہ (۲۰۵) کے سوا کوئی اور تحفہ مسلمانوں کو نہیں دے اور یہ سب کچھ ہورہا ہے اقامت دین کے نام پر سیاسی مشن کی نوعیت کے بارے میں علمائے امت کے درمیان کئی رائے کا پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی تحریکات کا مسئلہ ”سبل متفرقہ“ کے ذیل کا مسئلہ ہے نہ کہ ”الدین“ کے ذیل کا مسئلہ۔ اس لئے ایک مصلح کے لئے یہ تو درست ہے کہ وہ مسلم حکمرانوں کے اندر بگاڑ دیکھے تو ناصحانہ انداز سے اس کو اصلاح حال کی تلقین کرے۔ مگر دین کی اقامت کا نام لے کر حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنا کتاب اللہ سے انحراف کے ہم معنی ہے۔ یہ سبل متفرقہ کا اتباع ہے نہ کہ حقیقۃً اقامت دین۔
اس تقسیم کا یہ مطلب نہیں کہ دین میں صرف کلیات مطلوب ہیں، جزئیات مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دین میں مطلوب حقیقی اور مطلوب اضافی کا جو فرق ہے اس کو ملحوظ رکھا جائے ۔ حقیقی حصہ میں تائید و تشدید کرتے ہوئے اس کے اضافی اجزاء میں توسع اور رواداری کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کھانے کے سلسلہ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ حرام و حلال کے درمیان فرق صرف حلال چیزوں کو اپنی غذا بنایا جائے اور حرام چیز کو حلق کے نیچے نہ اتارا جائے ۔ دوسرا مسئلہ آداب
طعام کا ہے۔ مثلاً ہاتھ سے کھایا جائے یا چمچے سے ۔ فرش پر کھایا جائے یا میز کرسی پر ۔ جوتا پہن کر کھایا جائے یا جوتا پہلا مسئلہ کلیات دین کا مسئلہ ہے۔ اللہ نے نام لے کر متعین طور پر بتا دیا ہے کہ بندے کے لئے کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ۔ مگر جہاں تک دوسری چیز کا تعلق ہے، اس میں اس قسم کی تعیناتی زبان استعمال نہیں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور اصحاب کرام کی زندگیوں میں اس سلسلے میں ایک سے زیادہ نمونے ملتے ایسی حالت میں اگر ایک شخص حرام و حلال کے منصوص احکام کو تاکید و تشدید کا موضوع بنائے تو امت میں فرقہ بندی کی نوبت نہیں آئے گی ۔ کیونکہ یہ عملاً انہیں چیزوں کی تاکید و تشدید ہوگی جو تمام علماء امت کے درمیان پہلے سے متفق علیہ ہیں۔ رائے کی حد تک ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس کے برعکس اگر آداب طعام کے مسائل پر تاکید وتشدیدکی جانے لگے تو ساری امت کا کسی ایک مسلک پر متحد الرائے ہونا ممکن نہ ہوگا۔ طور پر ایک شخص کہے گا کہ جوتا اتار کر کھانا ضروری ہے۔ کیوں کہ حدیث میں ہے اخلعوا نعالکم ۔ دوسری طرف کسی اور کو یہ کہنے کا موقع ہوگا کہ یہ کوئی جائز نا جائز کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ضرورت کا معاملہ ہے۔ جس میں سہولت ہو ویسا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پوری حدیث اس طرح ہے: اخلعوا نعالکم فانها ارو ح لا قد امکم (اپنے جوتے اتار دو کیونکہ اس میں تمہارے پیروں کے لئے زیادہ راحت ہے)۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کلوا من الطيبات واعملوا صالحا (مومنون ۵۱) پر خوب زور دیا جائے۔ مگر آداب طعام کی نوعیت کی چیزوں میں روا داری اور توسع کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ تحریک اہل حدیث اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں اسی کا نام تھی ۔ اگرچہ بعد کو وہ اس مسلک پر قائم نہ رہ سکی۔ کم از کم عوام کی سطح پر یہی صورت حال ہے۔