دین کی تکمیل کیا ہے
Al-Risala, October 1978, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں "مکمل اسلامی انقلاب‘‘ کے علم برداروں اور "غیر مکمل حاملین دین ‘‘ کے درمیان مختلف ملکوں میں جو تصادم جاری ہے، اس کی بنیاد دراصل "دین کامل‘‘ کا غلط نظریہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک کامل تمدنی قوانین کے اعتبار سے کامل) دین ہے اس لئے دین کو قائم کرنے کا مطلب لازماً یہی ہے کہ اس کی یک کامل تمدنی نظام کی حیثیت سے برپا کیا جائے۔ اگر کامل دین کا یہ مطلب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ناقص دین تھا۔ کیوں کہ معلوم ہے کہ ان کو تمدنی ضوابط و قوانین سرے سے دیئے نہیں گئے اور اسی طرح دوسرے اکثر انبیاء کو ۔ حالاں کہ قرآن میں صراحت ہے کہ تم کو بھی وہی دین دیا گیا ہے جو دوسرے نبیوں کو دیا گیا تھا اور اسی دین کو تمہیں قائم کرنا ہے (شوریٰ ۱۳)
اصل یہ ہے کہ دین نام ہے پورے معنوں میں موحد بننے کا۔ دین کا کامل ہونا دراصل توحید کا کامل ہونا ہے۔ شخص جتنا زیادہ اپنے رب کو پالے اتنا ہی اس نے اپنے دین کو کامل کیا اور جس نے اپنے رب کو جتنا کم پایا اتنا ہی اس کا دین ناقص رہا۔ قانونی دفعات خواہ کتنی ہی زیادہ لکھ دی جائیں پھر بھی وہ دین کو مکمل نہیں کریں گی ۔ مثال کے طور پر
قرآن میں اگر ساتویں صدی عیسوی کی دنیا سے متعلق سارے احکام و ضوابط بالتفصیل درج کر دیئے جاتے جب بھی بہت سی قانونی باتیں لکھنے سے رہ جاتیں ، جیسے سمندری قوانین ، خلائی ضوابط وغیرہ ۔ کیوں کہ ان مسائل کا اُس وقت کوئی وجود ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دینِ کامل کا یہ مطلب لیا جائے تو اسلام بھی دینِ کامل نظر نہ آئے گا۔ امیرِ ہمدانی کی مثال مذکورہ اسلامی ترقی کار کی ایک مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے۔ یہ اسلامی ترقی کار کا وہ نمونہ ہے جو میر سید علی ہمدانی (1314-1384ء) ۱۳۸۴ء - کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے، جن کو کشمیری عام طور پر "امیر کبیر" کہتے ہیں اپنے عمل سے ایک عظیم قابلِ تقلید نمونہ قائم کیا ہے جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیر ہے تو اپنے تاریخی نمونہ کے ذریعہ وہ ہم کو اسلام کے طریقِ دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ء - نے امیر کبیر کی بابت کہا تھا :