دستِ او معمار تقدیر امم
Al-Risala, October 1978, pp. 31–44
By Maulana Wahiduddin Khan
امیر کبیر کی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ تر آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیر نے یہ کام "شمشیر و سناں‘‘یا’’ یا "بازو مانہ سٹینز کے ذریعہ نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انھوں نے یہ کامیابی ’’شمشیروسناں‘‘ کو ترک کر کے حاصل کی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ــــــــ اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو مقابلہ آرائی کے ذہن کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پر ہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سر بلندی حاصل ہوگی۔ میر سید علی ہمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ لنگ(1335-1405ء)کے کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لئے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومتِ صالحہ قائم کرنے کی جد وجہد کریں خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہو جانا پڑے۔ مگر امیر کبیر نے سیاسی تصادم سے پر ہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکل پڑے ۔ ہوئے یہ قافلہ ۱۷۸۱ء میں کشمیر پہنچا جس کو امیر کبیر اس سے پہلے ۷۲ ، ھ میں سیاحت کے دوران دیکھ چکے تھے۔ کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو سیاسی وجوہ سے اس سے بغض رکھتے تھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے۔ مگر امیر کبیر نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پر ہیز کیا۔ اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ ان کے لئے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا اس وقت کشمیر میں اگر چہ ایک مسلم خاندان کا راج تھا۔ مگر کشمیری مسلمان ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت
کی حیثیت رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً خاجوں کے نذرانے وصول کئے جاتے تھے۔ امیر کبیر ان کی سے حقوق طلبی کی مہم چلا کرفی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے۔ مگر امیر کبیر نے اس قسم کی ’’ملی سیاست‘‘ سے بھی کوئی سرو کار نہ رکھا۔
اسی طرح امیر کبیر کے لئے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ ’’انسانیت‘‘ کے پیام پر بن کر اٹھیں اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعظ سنائیں۔ ایسا کر کے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہر دلعزیزی اور مقبولیت حاصل کر سکتے تھے۔ کیوں کہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق و باطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری اور میل جول کا اپدیش دیاگیا ہو۔ جس میں کوئی اپنے اوپر زبردستی ہوتی محسوس نہ کرے۔ مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام، اپنی ظاہری خوش نمائی کے باوجود، صرف مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے۔ جب کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ (سلطان قطب الدین) کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اصلاح حال کی طرف متوجہ کیا۔ تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمران لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقاء ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور خاموشی کے ساتھ یہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی۔ یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا۔ اپنی دیس میں اپنے لئے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اس طرح صبر و برداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ کشمیر میں اسلام کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ اگرچہ محمد بن قاسم (۹۶ - ۷۱ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ تاہم ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ سات سو سال پہلے کشمیر میں ایک بدھ راجہ رینچن شاہ کی حکومت (۷۲۳ - ۱۳۲۰ء) تھی۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانہ میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے۔ راجہ کو دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہوگئی۔ حضرت بلبل شاہ صاحب فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، ان کے اثر سے وہ حنفی مسلک کے مطابق عبادت میر سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کس فقہی مسلک پر عبادت کریں؟ ‘‘ حضرت امیر کبیر خود شافعی المسلک تھے اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے وہ حنفی
امیر کبیر اگر ان نو مسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ ایک امیر کبیر کے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے لوگوں کا ۔ دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کر دیتا بلکہ اپنے اپنے فقہی مسلک کی صحت و افضلیت ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پس پشت پڑ جاتا۔ کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کر کے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے۔ وہ قوت جو دین حق کی اشاعت میں صرف ہوتی آپس کے جھگڑوں میں برباد ہو جاتی۔ نسلیں گزر جاتیں مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔
میر سید علی ہمدانی نے صرف اساسات دین کی تبلیغ کی۔ انھوں نے فقہی مسلک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ نے یہاں تک احتیاط کی کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیرووں سے پوشیدہ رکھا۔ عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی حنفی طریقہ پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل مواقع ملے۔ ان کو ہر طبقہ کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھادوں سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طور پر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہوسکتی تھی۔ اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو دو متحراب فرقوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ بامقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ ۷۳ سال کی عمر میں موضع پچھلی (کشمیر) کے کچھ شریرہ لوگوں نے آپ کو زخمی کر دیا۔ اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔ تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے جب کہ ایک غیر دینی مسئلہ کو دینی بنانا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتاب الہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لئے مقدر کی گئی تھیں ۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریق کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں انھوں نے جس چیز کو مرکز توجہ بنایا وہ توحید و آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی مسئلے، معاشی مسئلے، فقہی مسئلے انھوں نے بالکل نہیں چھیڑے۔ وہ اصل دین پر کونسور ہے نہ کہ متفرقات دین پر۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک سیاست اور معاش دین سے خارج تھی یا عبادت کی ادائگی میں آداب اور مناسک کے لحاظ کو وہ غیر ضروری سمجھتے تھے۔ وہ ہر ایک کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور ہر چیز کو انھوں نے بالفعل اختیار کیا۔ تاہم انھوں نے جس چیز کو دعوت و اقامت کا عنوان بنایا وہ متفق علیہ دین تھا نہ کہ سہل متفرقہ۔
امیر کبیر فقہ کی تمام شرائط کے مطابق مکمل نماز پڑھتے تھے مگر فقہی اختلافات کے پیچھے پڑنا، ایک مسلک کو غلط ثابت کرکے اس کی جگہ دوسرے مسلک کی ترجیح قائم کرنا، انھوں نے اپنا مشن نہیں بنایا۔ اسی طرح معاشیات کے سلسلے میں انھوں نے ایک راستہ اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ اور ان کے ساتھی زندہ کیسے رہ سکتے تھے۔ مگر معاشی مسائل کو حل کرنے
یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انھوں نے اختیار نہیں کیا۔ اس طرح سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف سُبلم وزارت بنتی ہے۔ دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ تخمینہ کہ یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔ اگر چہ معروف معنوں میں انھوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا اور نہ کوئی ان کو سیاسی لیڈر" کی حیثیت سے جانتا ہے ۔ امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے ۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سرا پکڑ لیا ۔ اس کے بعد سب چیزیں خود بخود ان کی طرف چلی گئیں۔