Al-Risala · October 1978

خلاصہ

Al-Risala, October 1978, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی شرک سے مکمل طور پر بچے اور صرف خدا ئے واحد کو اپنا مرکز توجہ بنائے۔ اسی سے پوری زندگی سدھرتی ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اسی کی سب سے زیادہ تاکید کریں اور اسی کو دعوت و تبلیغ کی اس کے بعد تفصیلی معاملات میں دین کے جو تقاضے مطلوب ہیں ان میں حالات کے مطابق کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ تاہم ان چیزوں کو دعوتی مہم کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری نوعیت کے کسی مسئلہ کو جب آدمی مدار دعوت بناتا ہے تو گو یا وہ ایک فرعی مسئلہ کو اساسی مسئلہ کے مقام پر رکھتا ہے ۔ اس قسم کا کوئی عمل دین کے نظام کو درہم برہم کر دینے والا ہے۔

آپ ایک خاص فقہی مسلک کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں تو کیجئے۔ مگر اس کی بنیاد پر مسجد اور مدرسہ نہ بنائیے، آپ ایک طریقہ کے تقدس کے قائل ہیں تو قائل رہئے۔ مگر اس کو دوسروں کی اسلامیت ناپنے کا پیمانہ مت قرار دیجئے۔ حکمران نے بنیادی جمہوریت کا نظام قائم کر رکھا ہے اور آپ اس کے مقابلہ میں ’’عوامی جمہوریت‘‘ کو صحیح سمجھتے ہیں تو نا صحانہ انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچائیے۔ مگر اس مسئلہ کو لے کر ملک کو سیاسی اکھاڑامت بنائیے۔ اگر آپ کو نظر آتا ہے آپ کی ملت کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہو رہے ہیں تو لوگوں میں یہ جذبہ ابھاریئے کہ وہ قوت وامانت (قصص 26) کے ذریعہ اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر اس کو لے کر مفروضہ ظالموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کا طوفان برپا نہ کیجئے۔ اس قسم کی ہر تحریک دین کے سبیل واحد کو چھوڑ کر مسل متفرقہ پر دوڑنا ہے ایسی کوششیں خواہ وہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کی جائیں، عملاً صرف فساد برپا کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف آدمی کو حقیقی خدا پرستی سے دور کر دیتی ہیں، بلکہ امت کو مختلف ٹولیوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دینے کا باعث بنتی ہیں۔ اور امت کا تقسیم ہونا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ کی اجتماعی نصر تیں اٹھا لی جاتی ہیں اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں جب تک امت اپنی تفریقات کو ختم کر کے دور بارہ امت واحدہ نہ بن جائے۔ نوٹ: یہ مقالہ جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر کے سالانہ اجلاس بمقام سرینگر کے موقع پر ۳۰ جولائی ۱۹۷۰ء کو پڑھا گیا۔

مولانا وحید الدین خاں جس کو پڑھ کر دل دہل اٹھیں اور آنکھیں آنسو بہائیں قیمت تین روپے مولانا وحید الدین خاں اسلام کے خلاف جدید اعتراضات کا علمی و عقلی جواب قیمت دو روپے

Printed page