سوال و جواب
Al-Risala, October 1978, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بزرگ "ظہور اسلام" پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "آپ نے سیاسی قوت کی فراہمی کو تکمیل دین قرار دیا گویا جب جب بھی سیاسی قوت اسلام کی پشت پر نہیں رہے گی ، دین غیر کامل ہو جایا کرے گا۔ آپ لکھتے ہیں کہ ہر نبی کو اپنے زمانہ میں کامل دین دیا گیا۔ مگر سیاسی قوت سب کو نہیں دی گئی۔ پھر تطبیق کیسے ہوگی ؟ یہ تبصرہ ظہور اسلام کے صفحہ ۱۶ اور صفحہ ۱۱۰ سے مگر مذکورہ سوال میں ہماری بات کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ ہم نے جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ آیت کا فقرہ (الیوم یئس الذین کفروا من دینکم) بتا رہا ہے کہ اس موقع پر الیوم اکملت لکم دینکم سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے منکرین خدا کا "تمھارے دین سے مایوس مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ آیت فتح مکہ کے بعد اتری اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے غالب آ جانے کی وجہ سے دشمنان دین مایوس ہو گئے کہ اب وہ اس دین کو باطل نہ کر سکیں گے۔
اسلام کا یہ غلبہ اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ مرکز اسلام (عرب) سے دوسرے تمام ادیان کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ نیز اس کے آس پاس ایشیا اور افریقہ کے درجنوں ممالک مسلم ممالک میں تبدیل ہوگئے۔ اس طرح جزیرہ عرب اور اس کے ارد گرد ایک ایسا اسلامی خطہ وجود میں آگیا جو دائمی طور پر اسلام کی حفاظت کا ضامن بن گیا۔ اس اہتمام کے علاوہ دین کی حفاظت کا رشتہ یہ ہے کہ حال میں دین خدا کو باطل کر سکیں جس طرح خاتم النبین سے پہلے کے دور میں وہ کرتے رہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قرآن چودہ سو برس بعد بھی ٹھیک اسی طرح محفوظ ہے جیسا کہ وہ دررادل میں نازل ہوا تھا۔ کہ یہی بات اس سے پہلے کسی آسمانی کتاب کے لئے ممکن نہ ہو سکی تھی۔