Al-Risala · October 1978

— ۲ —

Al-Risala, October 1978, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کرم فرماتے ہیں کہ الرسالہ میں نقد لاذع ہوتا ہے“ (یعنی تکلیف دہ تنقید)

ہمارے نزدیک تنقید کی دو قسمیں ہیں۔ دوسرے علمی تنقید۔ لفظی ریمارک ہر حال میں خواہ وہ سنجیدہ الفاظ میں ہو یا تیر و نشتر کی زبان میں۔ مگر علمی تنقید عین مطلوب ہے۔ سے مراد وہ تنقید ہے جو جدید اصطلاح کے مطابق تجزیاتی ہو اور لازماً سنجیدہ زبان میں کی گئی ہو۔ ایک شخص جو اپنے خلاف تنقید سننا نہ چاہتا ہو، وہ جب ایسی تنقید پڑھے گا جس میں اس کے اوپر زد پڑ رہی ہو تو وہ اس کو "نقد لاذع‘‘ محسوس ہوگی۔ بلکہ تنقید اگر دلیل اور برہان کی زبان میں ہے تو وہ اس کے لئے اور زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگا کہ وہ اپنے خلاف ایسی تنقید سے دوچار ہے جس کو وہ دلائل کے ذریعہ رد نہیں کر سکتا۔ آدمی اگر صحیح معنوں میں حق پرست ہو تو وہ تنقید سے خوش ہوتا ہے کہ اس کے پاس اس کے لئے سہارا کا سیاسی ابہام کے علائمت دین کی مخالف کی پشت پر زہر بہت سے تاریخی اسباب بھی جمع کر دیئے گئے جس کے بعد اب یہ امکان مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے کہ منکرین کسی بھی کے دس رہا ہے، کیوں نہ رہ اس کے پچھائی کا پردہ کھولنے والی ثابت ہوتی ہے اور اگر وہ حق کے نام پر کسی اور چیز کی پرستش میں مبتلا ہو تو وہ تنقید

سن کر غرہ اٹھتا ہے ۔ کیوں کہ تنقید اس کے محبوب دیوتاؤں کو اس مقام بلند سے ہٹاتی ہوئی نظر آتی ہے جہاں اس نے انہیں بطور خود بٹھارکھا ہے۔

ستمبر کا الرسالہ پیش نظر ہے ۔ اس سے پہلے آپ نے کسی کا قول ۔ الدنیا مزرعۃ الآخرۃ کورسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کر دیا۔ میں نے آپ کو متوجہ کیا تھا کہ اگر یہ حدیث ہے تو آپ اس کا حوالہ دیں اور اگر نہیں ہے تو اس کا ذکر الرسالہ میں کردیں۔ الرسالہ میں جہاں تاریخ پیدائش اور دوسرے حوالوں کا کافی اہتمام ہوتا ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہوتی ہے کہ کسی قول کونقل کر کے بلا تحقیق اس کو حدیث رسول کہہ دیا جائے ۔ کم از کم یہ "آخرت رخی زندگی " کے حامل انسان کا کام تو نہیں ہوتا۔ ستمبر کے الرسالہ میں صفحہ ۱۸ پر آپ نے تخلقواباخلاق اللہ کو حدیث کے الفاظ کہا ہے۔ آپ نے اس کا حوالہ نہیں دیا جہاں تک میری تحقیق ہے یہ حدیث رسول نہیں ہے۔ اور الرسالہ میں جہاں ہر چیز تحقیق کی کسوٹی پر کہنے کا ڈنکا پیٹا جاتا ہے اور اس امتیاز کا پندار ہر جملہ سے ٹپکتا ہے وہاں حدیث کے معاملہ میں کو تاہیاں زیب نہیں دیتیں۔ مجھے یقین ہے کہ آخرت میں اگر ہر قول اور فعل کے حساب دینے کا یقین ہو تو آپ ان دونوں فقروں کے تعلق سے آئندہ شمارے میں حوالے کی تصریح کریں گے ۔ یا یہ اعتراف کریں گے کہ یہ فقرے اقوال رسول میں سے نہیں ہیں۔ اس پر نشان دہی کئے جانے پر آخرت رخی زندگی کا ثبوت اس کے اعتراف سے قارئین کو دیں گے۔ ( یکم ستمبر ۱۹۷۷ء) (مولانا) محمد جمیل تامل ناڈو اسلامک فاؤنڈیشن تقی الدین خاں بہادر اسٹریٹ ۔ الدنیا مزرعة الآخرة کے سلسلے میں آپ کے توجہ دلانے کے بعد تصحیح کر دی گئی تھی۔ تقابل کے لئے ملاحظہ ہو: ظهور اسلام صفحه ۱۰۲ تخلقوا باخلاق اللہ کے سلسلہ میں آپ کے توجہ دلانے کا انشاء اللہ اگلے ایڈیشن میں اس کی بھی تصحیح کر دی جائے گی ۔

دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک خود اپنے لئے مفید ہوتا ہے شیخ سعدی شیرازی (۶۹۱ - ۵۸۹ھ) کی کتاب بوستاں کے شروع میں ایک حکایت درج ہے۔ کا عنوان ہے : " پند دادن کسریٰ ہرمز را " اس حکایت کے مطابق ایران کا بادشاہ نوشیرواں جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے جانشین ہرمز کو بہت سی نصیحتیں کیں ۔ ان میں سے ایک نصیحت ، سعدی کے الفاظ میں، یہ تھی :

مراعات دہقاں کن از بہر خویش کہ مز دور خوش دل کند کار بیش سوتی کت کنائی نہ ہوگا کہ ہندیسے مشین آتے اور سرداروں کے ساتھ رعایت کرو، اس سے خود تم کو فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ مزدور جب خوش ہو لو ہا چہ پیش اور مردانہ وہ کام زیادہ کرتا ہے ۔

مگر ان کے دل مردار سے زیادہ متعفن ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذی نفسی بیدہ لا تقوم الساعة حتیٰ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت یبعث الله امراء کذبة ووزراء فجرةً قائم نہ ہوگی جب تک وہ دور نہ آجائے جس میں جھوٹے حکمران، و اعواناً خونةً وعرفاء ظلمةً وتداعِ برے وزرار، بددیانت ملازمین حکومت، ظالم قائدین ظہور فسقةً سیماهم سیما الرهبان وقلوبهم میں نہ آجائیں۔ اس زمانہ میں ایسے فاسق علماء ہوں گے جن انتن من الجيفة، اهوائهم مختلفةً کا ظاہر پارساؤں جیسا ہوگا اور ان کے دل مردار سے زیادہ فيتيح الله لهم فتنةً غبراء مظلمةً متعفن ہوں گے۔ ان کی خواہشات ایک دوسرے سے الگ فیتها دکون فيها ہوں گی۔ اس زمانہ میں اللہ ایک ایسا اندھا فتنہ پرپا کرے گا جس میں لوگ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائیں گے۔

یہ تاریخ کا نازک ترین دور ہو گا۔ اس دور کی پہچان یہ ہے کہ شخصی اور گروہی مصلحتوں کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگے اور حق، اپنی تمام تابانیوں کے باوجود، انسانی آوازوں میں گڈ مڈ ہو جائے ۔ اس وقت کسی بندہ خدا کو جو چیز بچائے گی وہ صرف خدا کی مدد ہے اور خدا کی مدد ملتی ہے تضرع اور انابت سے۔ ایک مسلمانوں کی تباہی کے سبب صرف دو ہیں اقتباس ایک، قرآن کو چھوڑ دینا۔ دوسرے، باہمی جنگ و جدال شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب مالٹا کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند میں تشریف لائے تو علماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے بہت اہم بات ارشاد فرمائی ۔ ”میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا۔ دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لئے میں یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کر دوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔ وحدت امت، ازمولانا مفتی محمد شفیع۔ شائع کردہ مکتبہ المنیر، فیصل آباد۔

Printed page