رودادسفر
Al-Risala, October 1978, pp. 39–47
By Maulana Wahiduddin Khan
جمیعت اہل حدیث کی دعوت پر کشمیر کاسفر ہوا اور ان کے سالانہ اجلاس بمقام سری نگر (۲۹۔ ۱۹۷۸ء) میں شرکت ہوئی ۔ ایک ہفتہ قیام کے بعد ۷ اگست ۱۹۷۸ء کو دہلی واپس آیا۔
جمعیۃ کا اخبار عرصہ سے نکل رہا ہے جس کا نام ”مسلم“ ہے۔ 1972 سے یہ ہفت روزہ کی صورت میں جاری ہے، جمعیۃ کا ۱۸-۱۹۷۷ کا بجٹ تین لاکھ روپے کا تھا۔
کانفرنس میں راقم الحروف نے ایک مقالہ تلخیصاً پڑھا۔ یہ مقالہ اپنی پوری شکل میں زیرِ نظر اشاعت میں شامل ہے ۔ جمعیۃ اہل حدیث کی کارروائیوں اور تقریروں میں زیادہ تر زور اثبات توحید اور رد شرک پر تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس خاص دینی خدمت کے معاملہ میں جمعیۃ اہل حدیث کو، دوسرے اسلامی حلقوں کے مقابلہ میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ جمعیۃ کے دفتر (بریہ شاہ) پر بھی چند گھنٹے گزرے۔ کافی وسیع عمارت ہے جس میں جمعیۃ کے دفاتر کے علاوہ مسافر خانہ اور دارالعلوم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ جمعیۃ کے تحت مکتبہ مسلم عرصہ سے قائم ہے۔ اب اس کو از سر نو منظم کیا جا رہا مکتبہ مسلم (بریہ شاہ، سری نگر) نے ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی لے لی ہے۔ ادارہ الرسالہ کی دوسری تمام کتابیں بھی ان کے یہاں ہر وقت ملتی ہیں۔
انجمن اہل حدیث کا قیام سری نگر میں ۱۹۲۴ میں عمل میں آیا۔ اسی تنظیم نے 1942 میں جمعیۃ اہل حدیث جموں وکشمیر کی صورت اختیار کی۔ دستور کے مطابق اس کا مقصد توحید وسنت کی اشاعت ہے۔ مرکز بنا کر لوگوں کو فرائض وسنن سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سال کے دوران مقامی اجتماعات کے علاوہ ہر سال ریاست کے کسی مقام پر سالانہ کانفرنس کی جاتی ہے۔ جمعیۃ کے اہتمام میں مختلف مقامات پر مدارس قائم ہیں ۔ مرکزی درس گاہ کے طور پر الکلیۃ السلفیہ کا آغاز ۱۹۷۷ میں کیا گیا ہے ۔ سری نگر میں ایک لائبریری بھی قائم ہے۔ سری نگر میں داخل ہونے والے کسی باہر کے آدمی کو جو چیز چونکاتی ہے اس میں سے ایک وہ لال بورڈ ہے جو جگہ جگہ سڑکوں پر لگا ہوا ہے۔ اس پر سفید حرفوں میں لکھا ہوا ہے :
ہمارا مسلک: خود اعتمادی اور خدا اعتمادی یہ دونوں باتیں جس قوم میں پیدا ہو جائیں اس کو ترقی اور کامیابی سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اگرچہ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ الفاظ بھی کشمیری قوم کے لئے "مسلک" سے زیادہ "منصوبہ" کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
سری نگر میں کلیم اللہ خاں صاحب ایم۔ ایک سنجیدہ نوجوان ہیں۔ باقاعدہ سائنسی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ طور پر عربی زبان بھی سیکھی ہے۔ وہ شہر کے مختلف مقامات پر مطالعہ قرآن کے حلقے چلا رہے ہیں ۔ اس میں شرکت کرنے والے زیادہ تر تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، یہ لوگ روزانہ صبح یا شام کو جمع ہو کر قرآن کی تصحیح کرتے ہیں اور ترجمہ کے ذریعہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قسم کے دو حلقوں کے اجتماع میں مجھے شرکت کا اتفاق نوجوان لوگ جس دل چسپی اور سنجیدگی سے قرآن پر جھکے ہوئے تھے اس کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ہے کہ امت کا سارا بگاڑ قرآن کو چھوڑنے کی وجہ سے یہ امت اگر دوبارہ قرآن کی رسی کو پکڑ لے تو اچانک امت کے اندر ایک نیا انقلاب آ جائے ۔
مجھ سے پوچھا گیا کہ مطالعہ قرآن کے رہنما اصول کیا میں نے کہا یوں تو اس موضوع پر موٹی موٹی کتا بیں لکھی گئی ہیں اور درجنوں علوم کی مہارت کو فہم قرآن کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کے لئے صرف ایک چیز کافی ہے ، اور وہ ہے دعا ۔ کو اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں اور جہاں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے ، اللہ سے اس کے لئے دعا کریں۔ قرآن کا مصنف خود اللہ تعالیٰ ہے اور قرآن بتاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے قریب ہے اور ہر وقت ان کی پکار کو سنتا ہے۔ پھر اس سے بڑی چیز اور کیا ہے جس پر قرآن فہمی کے سلسلے میں بھروسہ کیا جائے ۔ قرآن کو سمجھنے کے لئے اللہ سے مدد طلب کرنا گویا خود کتاب کے مصنف سے کتاب کی تشریح پوچھنا ہے۔ اس سے بڑا خوش قسمت اور کون ہے جو کسی کتاب کا مطالعہ اس حال میں کر رہا ہو کہ کتاب کا مصنف ہر وقت اس کے پاس مراجعت کے لئے موجود ہو۔
یکم اگست کو چند گھنٹے اسلامک اسٹڈی سرکل کے مرکزی دفتر میں گزرے ، نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ گفتگو زیادہ تر سوال وجواب کے انداز میں ہوئی۔ سوالات اگر چہ زیادہ تر تنقیدی نوعیت کے تھے تاہم ساری گفتگو اتنے خوش گوار ماحول میں ہوئی گویا ہم لوگ "کشمیری شہد" کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے بعد ایمان واسلام کی جو مختصر ترین تعریف میری سمجھ میں آئی ہے ، وہ یہ کہ ابو جہل اور ابولہب کو جس خدا کے سامنے مرنے کے بعد کھڑا ہونا ہے، بندۂ مومن مرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس خدا کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔ جنت انھیں لوگوں کے لئے ہے جو اپنے آپ کو اسی دنیا میں رب العالمین کے سامنے کھڑا کر دیں ۔ جس کو آخرت میں عدالت الہی میں کھڑا کیا گیا، اس کے لئے ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲ اگست کا دن پہلگام میں گزرا۔ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر یہ خوبصورت پہاڑی مقام اپنے حیرت انگیز مناظر کے ساتھ جنت کی یاد دلاتا ہے۔ درختوں کی لامتناہی قطاروں کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مکانات، ان کے نیچے شفاف پانی کا بہتا ہوا دریا۔ گویا جنات تجری من تحتها الانہار اور مساكن طيبة في جنات عدن کی تصویر ہے۔ خالص ہوا، سنہری دھوپ، نیلے آسمان کے اوپر مخمور بادلوں کے قافلے، اس قسم کے ناقابل بیان آفاقی مناظر کے درمیان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جنت کی فضاؤں میں پہنچ گیا ہے، سارا وقت بے حد خوش گوار گزرا۔ مگر آخر میں کسی وجہ سے میرے سر میں درد شروع ہو گیا جو رفتہ رفتہ شدید ہو گیا۔ واپس آکر رات کو میں اپنی قیام گاہ پر لیٹا تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا— "جنتی فضا اور ہر قسم کا سامان عیش کسی کو مل جائے جب بھی انسان اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے ایک پورا دن بھی لطف و لذت کے ساتھ نہیں گزار سکتا۔ جنتی زندگی آخرت کی ابدی زندگی ہی میں ممکن ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے "حزن اور خوف" کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا۔ میں سری نگر میں ایک مقام پر تھا۔ میاں آئے اور میرے، ایک ساتھی کے قریب جاکر اس کے کان میں پوچھنے لگے: "یہ کوئی درویش ہیں؟
درویش کا لفظ مسلمانوں اور خاص طور پر کشمیریوں میں خدا کے لفظ سے بھی زیادہ پر کشش ہے۔ لوگ درویشوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس خدا سے ملنے کی کوشش نہیں کرتے جو عین ان کے قریب موجود ہے اور جس کو ہر وقت پایا جا سکتا ہے۔ سری نگر میں ایک صاحب میری قیام گاہ پر آئے۔ میں ان کو پہچانتا تھا۔ انھوں نے اصرار کیا کہ میں ان کے مکان پر چلوں۔ میں نے کہا کہ میری زندگی بے حد سادہ کھانے پینے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ پھر آپ مجھ کو مکان پر لے جا کر کیا کریں گے۔ تاہم ان کے شدید اصرار پر ان کے گھر گیا۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید وہ مجھ کو "درویش" سمجھ کر اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔ لیکن گھر پہنچ کر انھوں نے بتایا کہ آپ کی کتاب "الاسلام" میں نے تقریباً پندرہ بار پڑھی ہے اور اس وقت بھی وہ میرے زیر مطالعہ ہے۔ میں نے اسلام کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہے مگر اس کسی دینی حلقہ کا یہ حال ہے کہ اس کو ایسی موضوعات سے دل چسپی ہے جن میں سیاسی چاشنی ہو۔ اولیاء اور بزرگوں کی کرامات داستانوں میں مشغول ہے۔ کوئی فقہی جزئیات سے متعلق اختلافی بحثوں میں اس طرح پڑا ہوا ہے گویا سارا دین اس کے نزدیک یہی اختلافی مباحث ہیں۔ ہرایک نے دین کا کوئی جزئی یا اختلافی حصہ کاٹ لیا ہے اور رات دن اسی پر طبع آزمائی کر رہا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کے چند بندے جہاں جمع ہوں وہ خدا کی خدائی کا چرچا وہ آخرت کے دن کو یاد کریں ، وہ اسلام کے فرائض و واجبات پر گفتگو کریں۔ وہ متفق علیہ دین کا چرچا کریں نہ کہ مختلف فیہ دین کا ۔
ایک مجلس میں دعوتی کام کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ ایک ادارہ قائم کیا جائے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ دعوتی مقاصد کے تحت تحریر کتاب نے پہلی بار مجھ کو اسلام سے متعارف کیا۔ طرف اسی نگری میں بعض ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے الاسلام کے مضامین پر اس قسم کی بحثیں کیں گویا اس کتاب میں ان کے لئے صرف بحث و مباحثہ کا مواد تھا نہ کہ کوئی دینی غذا۔ کا فرق کس طرح ایک ہی چیز کو دو مختلف چیز بنا دیتا ہے۔ یہاں کے مختلف دینی حلقوں میں شرکت کا اتفاق عجیب بات ہے کہ خواہ کشمیر ہو یا غیر کشمیر، ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ کسی دینی حلقہ کو اساسات دین سے دل چسپی نہیں۔ ہر ایک کی سب سے زیادہ دلچسپی متفرقـات دین سے ہے ۔ حالاں کہ یہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
اس سلسلے میں خاص طور پر مندرجہ ذیل چیزیں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
قرآن وحدیث کے ترجمے اور رسول اللہ اور صحابہ کے واقعات سادہ زبان میں۔
غیر مسلموں کی لکھی ہوئی اسلامی کتابیں ۔ مثلاً پرو فیسر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام ، کونستان ورٹیل جارج کی پرافٹ آف اسلام ۔ اس طرح کی بہت سی نہایت عمدہ کتابیں ہیں ۔ ان کو مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے ۔
قبول اسلام کے بعد بہت سے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں جن میں اپنے اسلام سے متاثر ہونے کی روداد درج کی ہیں ۔ اس قسم کی کتابیں منتخب کرکے شائع کی
بے ایک وسیع میدان ہم نے مناظرانہ انداز میں یہ شمار کتابیں چھاپ رکھی ہیں۔ مگر مثبت انداز کی کتابیں ابھی ہماری توجہ کا انتظار کر رہی ہیں۔ پہل گام کے پہاڑ پائنس (Pinus) کے درختوں سے بھرے ہوئے ہیں، یہ درخت سیدھے لمبے ہوتے ہیں، اور ان کی ایک سو سے زیادہ قسمیں دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی شاخیں چھوٹی اور بہت کم پھیلی ہوتی ہیں۔ تاکہ تھوڑی جگہ میں زیادہ درخت چوں کہ یہ درخت ڈھلوانوں پر ہوتے ہیں جہاں بارش کا پانی ٹھہرتا نہیں۔ اس لئے ان کی جڑیں زمین میں گہری نہیں جاتیں بلکہ اوپر اوپر دور تک پھیلتی ہیں تاکہ زیادہ بڑے رقبہ سے پانی کھینچ سکیں۔ ان کی پتیاں عام درختوں کی طرح چوڑی نہیں ہوتیں۔ اگر چوڑی ہوں تو زیادہ مقدار میں پانی خارج کر کے درخت کے لئے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ لئے ان کی پتیاں سوئی کی طرح پتلی ہوتی ہیں۔ بنا پر ان کو اصطلاح میں پتی کے بجائے سوئی (Needle) کہا جاتا ہے۔
پائنس کی پتیاں سرو کی طرح گچھے دار ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ان میں کامل حسابی تناسب پایا بعض نسل کے گچھوں میں ایک ڈنٹھل میں صرف ایک ”سوئی“ ہوتی ہے۔ کسی میں دو، کسی میں تین، کسی میں چار، کسی میں پانچ۔ پہل گام میں جو پائنس پایا کھرب ہا کھرب پتیوں میں یہ مکمل حسابی تناسب کیا اتفاقاً ہو گیا ہے۔ کیا اس کے پیچھے کسی مقصد سازی کی طاقت کام نہیں کر رہی ہے۔
سری نگر سے پہل گام جاتے ہوئے ایک مقام پر میرے ساتھی نے بتایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں کشمیر کا زعفران پیدا ہوتا ہے۔ سڑک کے کنارے زمین جوت کر تیار کی جارہی تھی۔ ابھی اس پر فصل نہیں بوئی گئی تھی۔ بظاہر دیکھنے میں اس کی مٹی ویسی ہی تھی جیسی دوسری مٹی۔ مگر چند کلومیٹر کا یہ قطعہ نہ صرف کشمیر بلکہ ساری دنیا میں اپنی خصوصیات کے اعتبار سے نرالا تھا۔ قیمتی زعفران پیدا ہوتا ہے جو دنیا بھر میں کہیں اور پیدا دو کھیت بظاہر ایک ہی جیسے ہیں، مگر ایک میں جھاڑ جھنکار اگتا ہے اور دوسرے میں زعفران۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ دو انسان بظاہر دیکھنے میں ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ایک کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں تو وہ اس کے قلب کو روشن کر دیتے ہیں۔ دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو وہ صرف اس کے اندھیروں میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک کے یہاں اس سے حق کا چمنستان اگ آتا ہے اور دوسرے کے یہاں صرف جھاڑ جھنکار۔
از مولانا وحید الدین خاں اس کتاب کا ایک حصہ رسالہ ماہ ستمبر میں شائع ہو چکا ہے۔ (Pinus Wallichiana) سوئیوں والا سُوچ جاتا ہے یا بچ جاتا ہے ۔ چاہا ہے وہ پاپا تو نہیں سنتا، میں نے بہت سی پتیاں لے کر ان کی سوئیاں گنیں۔ ہر ڈنٹھل میں پانچ ہی سوئیاں ملیں نہ اس سے کم نہ ہی اس کتاب کا ایک حصہ پڑھنے والوں تک پہنچ رہا ہے۔ پوری کتاب ۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ قیمت تین روپے ہے۔ مکتبہ الرسالہ سے طلب فرمائیں
مولا تا واحد کتاب ظہورِ اسلام پڑھی گئی۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میں قرآن اور تاریخِ اسلام پڑھ رہا ہوں۔ اسلام سے متعلق کتابیں بازار میں آ رہی ہیں مگر اس کے مقابلہ میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس کا تقابل کیا جا سکے۔ آپ کی فکر و نظر ، قوتِ استدلال ، تقابلی تعارف اور سائنٹفک معیار اس نوعیت کا ہے کہ جو کتابیں پڑھی گئیں وہ بالکل اکارت ہوگئیں۔
کسی کتاب یا لٹریچر کو پڑھنے کے لئے ایک خاص فہم کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ تعصب آگے آگے آکر کتاب کو بے معنی کر دیتا ہے۔ مگر یہ کتاب پڑھنے کے بعد کوئی طرزِ فکر کا آدمی کیوں نہ ہو بغیر داد دیئے نہیں رہ سکتا، اس لئے مکتبہ الرسالہ، جمعیۃ بلڈنگ کہ اس کتاب میں تمام مذاق کا ذخیرہ موجود ہے۔ پڑھنے کے بعد آدمی پر سکوت و محویت غالب ہو جاتی ہے اور آئندہ کے تعلق سے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآن کے تاریخی واقعات ۔ سیرت ، صحابہ کا عمل اجتہاد و غیرہ کے مسائل جمع ہو گئے ہیں کتاب بلا مبالغہ اچھی نہیں بلکہ ایک نعمت ہے اور ایک بصیرت کا کام دے سکتی ہے۔ اس کی افادیت کے لحاظ سے تمام زبانوں میں ترجمہ کیا جانا چاہئے اور ترجمہ اس انداز سے کیا جائے کہ اس کی معنویت برقرار رہے۔ (مولانا) محمد فخر الدین خطیب ، میدک ۹ جولائی ۱۹۷۸ء قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶
تعارف و تبصرہ اسلامی سیاست یا سیاسی اسلام از مولانا حکیم ابو الحسن عبید اللہ خاں صفحات304 قیمت چھ روپے پتہ : محمد رمضان نیوز پیپر ایجنسی نزد روزنامہ آفتاب سری نگر - کشمیر ۷- مکتبہ مسلم ۔ میر بر شاہ ۔ ۸- غلام نبی ڈکہ۔ گڈ آہل میر۔ زیر نظر کتاب کا موضوع موجودہ زمانہ کی وہ تحریکیں ہیں جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی اور انتخابی سیاست کے ذریعہ اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ مذکورہ تحریکوں کا کہنا ہے کہ اسلام ایک ہمہ گیر انفرادی، معاشرتی اور سیاسی تمام معاملات زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اور ضروری ہے کہ تمام شعبوں کے ساتھ اس کو قائم کیا جائے۔ نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ زندگی کا ہر شعبہ شریعت اسلامیہ کے اوامر و نواہی کی گرفت میں ہے۔ مگر اللہ نے کسی ایک فرد امت کو اس بات کا مکلف نہیں کیا کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں قدم رکھے۔ حضور نے اپنی پوری زندگی میں وآتوا الزکواۃ یا آو تو حقہ یوم حصادہ پر عمل کیا۔ کتنے قرآنی احکام ہیں جن سے آپ کو زندگی بھر واسطہ نہیں پڑا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے شادی نہیں کی۔ بات یہ ہے کہ فرد واحد شریعت کے جملہ احکام کا مخاطب نہیں ہوتا۔ کل دین کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا تعلق جس خاص شعبہ زندگی سے ہے اس میں کتاب شریعت کے جملہ اوامر و نواہی کی پابندی کرے اپنے شعبہ ٔمعیشت سے باہر قدم رکھنے کا شرعاً کوئی بھی مکلف نہیں (۱۷)
کتاب میں مفید علمی نکتے بھی آگئے ہیں، مثلاً غزوۂ بدر کے ستر قیدیوں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ فرمایا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہوئی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب کو قتل کر دیا جائے۔ پہلی رائے کی مصلحت یہ تھی کہ مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامان جنگ کی کمی تھی۔ فدیہ کی رقم سے سامان جنگ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ دوسری رائے کی مصلحت یہ تھی کہ سرداروں کی گرفتاری کی وجہ سے گویا کفر کی پوری طاقت مسلمانوں کی مٹھی میں آ گئی تھی ۔ ان کا خاتمہ کر کے اسلام کے خلاف مزاحمت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اسیروں کو فدیہ لے کر اس کے بعد قرآن میں آیت اتری جس میں کہا گیا لولا کتاب من اللہ سبق لمسكم فيما اخذتم عذاب عظیم (انفال ٦٨) اس آیت کی تفسیر میں بڑی لمبی بحثیں کی گئی ہیں۔ مصنف نے نہایت عمدہ اور فطری تشریح حسب ذیل الفاظ میں کی ہے: (صفحہ ۹۳)
"اگر اللہ کی کتاب تقدیر تمھاری سرفرازی و ظفر مندی کا فیصلہ پہلے ہی سے نہ کر چکی ہوتی تو تمہیں اس غلط سیاسی فیصلے (فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے) کے باعث (دنیا میں) سخت مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتا۔ سورج ایک بے حد روشن حقیقت ہے۔ جو شخص اپنی آنکھیں بند کرلے، اس کے لئے سورج کا کوئی وجود نہیں۔
زندہ انسان کے مقابلہ میں لاش زیادہ پسندیدہ ایک زمانہ آئے گا کہ مومن کی نسبت لوگ مردار لاش کو کو زیادہ پسند کریں گے۔ اس لئے کہ مومن ان کو اچھے کام کی تلقین کرے گا اور برے کام سے روکے گا (حدیث) " مردار لاش " سے مراد خوشامدی آدمی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تنقید کرنے والا لوگوں کی نظر میں مبغوض ہو جائے گا۔ ان کا سب سے زیادہ پسندیدہ شخص وہ ہوگا جو ان کے سامنے خوشامدی باتیں کرے اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی شان میں تعریفی قصائد تیار کر کے سناتا رہے ۔
تاثر جتنا زیادہ شدید ہو الفاظ اتنے ہی کم ہو جاتے ہیں مسٹر نزلی براؤن شمالی انگلستان کے ایک ٹرک وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی بےوی کے جسمانی نظام میں بعض حیاتیاتی فرق کی وجہ سے دونوں کا مادہ حیات رحم مادر میں یک جا نہیں ہوتا تھا وہ اولاد کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے کہ عین وقت پر سائنس نے ان کی مدد کی۔ لندن کے ڈاکٹر پیٹرک سٹیپٹو جو برسہا برس سے اس میدان میں تجربہ کر رہے تھے انھوں نے اپنی لیبارٹری میں نزلی براؤن کا مادہ تولید (اسپرم) نکالا اور مسز براؤن کے جسم سے ایک دونوں کو انہوں نے ایک خصوصی قسم کے ٹسٹ ٹیوب میں رکھا۔ قدرتی قانون کے تحت وہ دونوں مل کر زرخیز ہو گئے۔ چار روز کے بعد ڈاکٹر نے اس کو مصنوعی طور پر رحم مادر میں پہنچا دیا۔ اب رحم مادر میں اس بچہ کی پرورش ہونے لگی۔ تجربہ کامیاب رہا۔ اگست ۱۹۷۸ء میں تاریخ کا پہلا "ٹسٹ ٹیوب بی بی" وجود میں آگیا۔ اس پورے عمل کی تصویر لی جاتی رہی، اور پیدائش کے بعد اس کو مکمل طور پر ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔ نیوب بے بی (لونی براڈن) کے باپ سے اس بچے واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے کہا: "بیوٹی فل" یعنی بے حد حسین ۔ اس ایک لفظ کے سوا وہ کچھ اور نہ کہہ سکا۔
غم کی گھٹنا خوشی سے زیادہ بڑی گھٹنا ہوتی ہے۔ انڈین نیوی کے ایک افسر کی اہلیہ مسز ادما چوپڑہ کو ۲۶ اگست ۱۹۷۹ء کو جب معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بچے گیتا (۱۷) اور سنجے (۱۵) کونئی دہلی میں وحشیانہ طور پر کسی نے قتل کر دیا ہے تو اس کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ سات گھنٹے تک وہ ایک لفظ نہ بول سکیں ۔ مفت ملت مفت منتر موجن ایک آیورویدک دوائی ہے۔ اس کے استعمال سے سفید داغ صرف ۳ دن میں رنگ بدلنے لگتا ہے۔ لکھ کر ایک فائل دوائی مفت منگائیں۔
KAMLA CHIKITSALAYA P.O. KATRI SARAI. NO. 501 . (GAYA)
سفید بال کیوں ؟
گھبراہے نہیں، ہماری آیورویدک "فیل کل تیل" سے بالوں کا پکنا ترک کر سفید بال یقینی کالا ہو جاتا ہے۔ یہ تیل دماغ اور آنکھوں کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ ہزاروں انسانوں نے استعمال کیا ہے اور لابھ اٹھایا ہے۔ قیمت ایک شیشی پندرہ روپے۔ چالیس روپے ۔ ڈاک خرچ الگ ۔ خط وکتابت اردو یا ہندی
P.O. KATRI SARAI (GAYA)
اسلام کے خلاف جدید شبہات کو ڈھادینے والی کتاب مذہب اور "علم جدید کا چیلنج" مولانا وحید الدین خاں کی مشہور کتاب ہے۔ جدید چیلنج" اسی کا نظر ثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۷۶ء میں اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد عربی اور ترکی زبانوں میں اس کے درجنوں سے اوپر ایڈیشن شائع ہوئے۔ تمام عالم اسلام میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ۲۱ فروری ۱۹۷۹ء کو مولانا وحید الدین خاں طرابلس میں صدر قذافی سے ملے تو لیبی لیڈر نے فوراً کہا : لقد قرأت كتابك الاسلام يییتحدیٰٰٰ (میں نے آپ کی کتاب الاسلام تحدی پڑھ لی ہے)۔ الامام الاکبر ڈاکٹر عبد الحلیم محمود (جامعہ ازہر قاہرہ) نومبر ۱۹۷۹ء میں ہندوستان آے انھوں نے جامعہ تراکھیل سورت میں تقریر کرتے ہوئے علماء سے کہا کہ آپ لوگ الاسلام تحدی کا مطالعہ کیجئے۔ جس میں اسلام کے خلاف جدید شبہات کا کافی و شافی رد موجود ہے ۔
قاہرہ کے روزنامہ الاہرام نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : مصنف کتاب نے اسلام کے مطالعہ کا ایک ایسا علمی انداز اختیار کیا ہے جو بالکل نیا اور انوکھا ہے۔ جدید مادی فکر کے مقابلہ میں دین کو وہ اسی طرز استدلال سے ثابت کرتے ہیں جس سے منکرین مذہب اپنے نظریات کو ثابت کرتے ہیں ۔ اسلام کے ظہور سے لے کر اب تک چودہ سو سالوں میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اگر تاریخ کو چھانا جائے اور اللہ کی طرف بلانے والی عمدہ کتابوں کو چھلنی سے چھان کر نکالا جائے تو کتاب الاسلام یتحدیٰ بلا شک و شبہ ان میں سے ایک ہوگی۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مصنف کتاب کے عمل کو قبول فرمائے۔ ان کے دل کو نور سے، ان کی عقل کو معرفت سے اور ان کی روح کو رضاسے بھر دے اور ان کے قلم کو ایسی روشنائی عطا کرے جو لکھنے سے کبھی ختم نہ ہو۔ قیمت : تیرہ روپے پچاس پیسے مکتبہ الرساله جمیته بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶
"مذہب اور جدید چیلنج “ پر ایک یادگار تبصره ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ کا پہلا ایڈیشن جو علم جدید کا چیلنج کے نام سے 1966 میں چھپا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عاصم عثمانی مرحوم نے اپنے رسالہ تجلی کے ’’آغاز سخن‘‘ میں مفصل نوٹ شائع کیا تھا۔ اس کا ایک جز یہاں نقل کیا جاتا ہے:
اس کتاب کا تذکرہ کرنا آج ہمیں ہر دوسرے موضوع سے زیادہ محبوب نظر آ رہا ہے۔ خدا مصنف کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ ہمارے علم کی حد تک یہ کتاب اپنے موضوع پر دنیا کی واحد کتاب ہے۔ اس کا موضوع فقط یہ نہیں کہ سائنس کے مقابلہ پر مذہب کا اثبات کیا بلکہ اس کے موضوع کا تشخص تقریباً ان الفاظ میں ہو سکتا ہے کہ ملحد سائنس دانوں اور فلسفیوں کا رد ٹھیک اسی علم کلام کے ذریعہ جسے یہ لوگ مذہب کی تردید میں استعمال کرتے ہیں۔
اس کتاب کی تعریف کا حق محض یہ کہہ کر ادا نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھوس ہے ، مفید ہے، قیمتی ہے۔ طرح کی باتیں تو اس سے کمتر کتابوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہیں۔ ہمیں کہنا چاہئے، اور یہ ہمارے دل کی آواز ہے کہ یہ کتاب وہ فرض کفایہ ہے جسے مصنف کی سعادت مندی اور توفیق اور خدا داد صلاحیت نے پوری امت کی طرف سے ادا کیا ہے۔
یہ بھی ہم نے غلط کہا۔ فرض کفایہ فرائض کی بہت ہلکی قسم ہے۔ فکر نو کے مذہب دشمن اور خدا بیزار طوفان کے آگے فولادی دلائل کا بند باندھنا، ملحد مفکرین کے تباہ کن علم کلام کا توڑ مہیا کرنا اور مذہبی عقائد و اقدار کو خیره کن سفسطوں کی یلغار سے بچانا آج اتنا بڑا فریضہ ہے جسے افرض الفرائض بھی کہہ دیں تو مبالغہ
مصنف نے اگر ڈیوٹی انجام دی ہے تو ملت کے دیگر اہل افراد کے ذمے سے یہ ڈیوٹی ساقط نہیں ہو جاتی۔ اگر ہمیں حقیقت اور واقعات کا احساس وادراک ہوتا تو جس طرح ہم مدرسے اور مکتب چلانے کے لئے قوم سے چندہ لیتے اور بڑے بڑے خرچ پورے کرتے ہیں، اسی طرح اس کتاب کو اردو، ہندی، انگریزی اور دنیا کی تمام قابل ذکر زبانوں میں بھاری تعداد میں چھاپتے، پھیلاتے، مفت پہنچاتے۔
مصنف نے اپنی کتاب میں جوابی بحث کے ذیل میں جو سائنسی معلومات جمع کی ہیں وہ بجائے خود اس کتاب کو بہت قیمتی بنا دیتی ہیں۔ کیا کیا ایمان تازہ ہوتا ہے ان جدید تر سائنسی انکشافات کو دیکھ کر جن سے یہ کتاب روشناس کراتی ہے۔ کتنی قطعیت کے ساتھ ہر تازہ سے تازہ تر انکشاف گواہی دے رہا ہے کہ مذہب اٹل ہے، مذہب برحق ہے، مذہب سے بے تعلق ہو کر انسانی معاشرہ نہ پہلے کبھی فلاح کو پہنچا نہ آج پہنچ
مصنف کی کتاب پڑھ کر ہم ایسی کیفیت محسوس کر رہے ہیں کہ اگر وہ ہمارے سامنے ہوں تو ہم والہانہ انداز میں ان انگلیوں کو چوم لیں جن کی جنبش اس کتاب کو ظہور دینے کا ذریعہ بنی ہے۔
(ماہنامہ تجلی دیو بند۔