اس میں نصیحت ہے
Al-Risala, November 1978, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جانور کو ذبح نہ کیا جائے بلکہ کرنٹ کے ذریعہ ہلاک کیا جائے۔ اور اگر ذبح کیا جائے تو پہلے جانور کو بیہوش کر لیا جائے۔ مگر دونوں صورتوں میں ذبح کے اسلامی حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ تا ہم پچھلے دس سال سے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو ذبحیہ کی اجازت مل گئی ہے، برمنگھم میں ۱۹۴۰ء سے ایک حلال میٹ کمپنی قائم اس کا کام اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس وقت روزانہ تین ہزار سے چار ہزار تک جانور اور ۱۸ ہزار مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ اس کا اسٹاف ۷۵ لوگوں پر مشتمل ہے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کو یہ سہولت کیونکر حاصل ہوئی، برطانیہ کے ایک مسلمان اقبال مسعود ندوی لکھتے ہیں : ”یہاں ایک اور فرقہ ہے جو اپنے طریقہ کے مطابق جانور ذبح کرتا ہے۔ یہ یہود کا فرقہ حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی۔
ایک وجہ ان کی اقتصادی سیاسی اہمیت ہے۔
ان کا معیار بھی خاصا اونچا ہے۔ اس فرقہ کے ساتھ رعایت ہی کی وجہ سے یہاں پر ذبحیہ کی اجازت مل سکی ہے۔ الحسنات رام پور فروری ۱۹۷۸ء صفحہ 27 یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ اغیار کے پیدا کردہ حالات کس طرح کبھی اسلام کے لئے مفید بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی اس کے برعکس صورت حال بھی پیش آتی ہے۔ یعنی مسلمان اپنی نادانی سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ اسلام کے لئے موافق حالات برباد ہو جائیں۔ جد و جہد جو اسلام کے نام پر کی گئی ہو، بالآخر وہ غیر اسلامی نتیجہ پر ختم ہو۔
ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو اللہ سے غافل کر دے ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئك لھم عذاب مھین ۔ واذا تتلى عليه آيتنا ولى مستكبراً كان لم يسمعھا كان فى اذنیہ وقراً فبشره بعذاب الیم (لقمان ٦-۷)
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے کہ مول لیتا ہے غافل کرنے والی بات کو تاکہ اللہ کی راہ سے لیے سمجھے بھٹکا دے اور اس کی ہنسی اڑائے۔ ایسے لوگوں لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ گھمنڈ کے ساتھ اس طرح منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس کو سنا ہی نہیں۔ جیسے اس کے کان بہرے ہیں۔ اس کو خبر دے دو دکھ والے عذاب کی ۔
اس آیت میں لہو الحدیث سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں بعض واقعات تفسیر کی کتابوں میں آئے ہیں عبداللہ بن مسعود رض نے اس کی تفسیر غنار سے کی ہے اور ضحاک نے شرک سے (ابن کثیر) مگر مفسرین کے اصول کے مطابق، اس کا شان نزول گو خاص ہو تاہم عموم الفاظ کی وجہ سے اس کا حکم عام رہے گا۔ جو لہو یا شغل بھی سبیل اللہ سے ہٹانے کا سبب بنے وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل ہوگا۔ ابن جریر نے کہا ہے کہ ہر وہ کلام لہو الحدیث ہے جو اللہ کی آیتوں سے روکے اور اس کے راستہ کے اتباع سے ہٹائے (كل كلام يصد عن آيات الله واتباع سبيله) حسن بصری نے کہا کہ ہر وہ چیز لہو الحدیث ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، بے کار مشغلے، گانا بجانا وغیرہ (كل ما شغلك عن عبادة الله وذكره من السمر والاضاحيك والخرافات والغناء ونخوها، روح المعانی)
موجودہ زمانہ میں کون سی چیزیں جو لہو الحدیث کا مصداق ہیں ۔ وہ تمام تفریحی تماشے اور وہ ستا لٹریچر اس میں شامل ہے جو اپنی سنسنی خیزی اور رومانیت کی وجہ سے لوگوں کے لئے ذہنی شراب بنا ہوا ہے۔ میں وہ مقدس حلقے بھی شامل ہیں جنھوں نے بناوٹی قصے کہانیوں کی ایک مذہبی طلسم ہوش ربا تیار کر رکھی ہے اور اس کو سنا سنا کر لوگوں کو مد ہوش رکھتے ہیں۔ وہ شعر و شاعری اور خطابت بھی اس میں شامل ہے جو لفظ بازی کے کے کرتَب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس میں وہ سیاسی تحریکیں بھی شامل ہیں جو سیاست کی چاشنی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کئے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں وہ تمام مذہبی مناظرے بھی شامل ہیں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر متعلق بحثوں میں الجھا کر سواد اعظم سے دور کر دیتے ہیں۔ غرض وہ تمام آوازیں جو عوامی دلچسپی کا سامان پیدا کرکے لوگوں کو حق کی سنجیدہ دعوت سے ہٹائیں اور اللہ کے سیدھے سادے دین سے بے رغبت کریں۔ وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل رہیں گی۔ خواہ اپنے اس مشغلہ کو انھوں نے ارادہ حق سے روکنے کے لئے جاری کیا ہو یا ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے بطور واقعہ یہ نتیجہ برآمد مورہا ہو۔