پانچ نمازوں کا حکم قرآن میں
Al-Risala, November 1978, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
نماز کی ادائیگی میں کوتاہ ہونا بے عملی ہے اور نماز کے حکم کو بدلنا سرکشی فرض نمازوں کا پانچ ہونا روایات سے بتواتر ثابت ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور دوسری کتبِ حدیث میں کثرت سے ایسی روایات ہیں جن میں الصلوات الخمس کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے صراحتہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں جو مخصوص اوقات میں مقرر کی گئی ہیں۔ تاہم قرآن میں نماز کی بے حد تاکید کے باوجود ’’پانچ‘‘ کالفظ نہیں آیا ہے۔ اس سے کچھ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ نہیں ہے بلکہ تین یا اس سے کم ہے۔ وہ اولاً حدیث کی حجیت کا انکار کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق پانچ وقت نماز ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر یہ محض دھوکا ہے۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو اور فی الواقع مسئلہ کو سمجھنا چاہتا ہو تو قرآن سے بھی بلا اشتباہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں اور مقررہ وقت پر ان کی ادائیگی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔
اس سلسلے میں قرآن کی حسب ذیل آیت پر غور کیجئے ۔
حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطی (بقرہ (۲۳۸) پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی جملہ کی ترکیب بتا رہی ہے کہ اس آیت میں صلٰوۃ وسطی کا لفظ جس نماز کے لئے آیا ہے وہ صلوات سے علیٰحدہ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ "نمازوں" کی پابندی کرو اور اسی کے ساتھ اُس نماز کی جس کا وقت "نمازوں" کے بیچ میں آتا ہے۔ صلوات جمع کا لفظ ہے جو عربی قواعد کے مطابق کم از کم تین نمازوں کے لئے ہے۔ مگر استعمال بتاتا ہے کہ یہاں اس سے تین سے زیادہ نمازیں مراد لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ تین کے عدد میں کوئی چوتھی چیز رکھی جائے تو وہ اس کا "بیچ "، نہیں بن سکتی۔ کم سے کم عدد جو یہاں صلوات سے مراد ہو سکتا ہے وہ چار ہے۔ چار کا عدد لینے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہے کہ ایک اور نماز اُس میں اس طرح شامل کی جائے کہ وہ اُس کا بیچ بن جائے۔ گویا صلوة وسطی وہ بیچ کی نماز ہے جس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہیں۔ باعتبار مفہوم آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ۔
" بیچ کی نماز کی پابندی کرو۔ اور بیچ کی نماز سے پہلے دو نمازوں کی اور بیچ کی نماز کے بعد دو نمازوں کی۔ سے صاف طور پر یہ نظام معلوم ہوتا ہے کہ رات میں دو نمازیں مقرر کی گئی ہیں اور پھر دن میں دو نمازیں ۔ اور ان کے
بیچ میں ایک نماز ہے۔ رات کی دو نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ دن کی دو نمازوں سے مراد فجر اور ظہر اور ربیع کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس طرح کل پانچ نمازیں ہو جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل: دن کی دو نمازیں رات کی دو نمازیں پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو اس نماز کی جو نمازوں کے بیچ میں ہے (قرآن) پھر یہ بات بھی قرآن میں بالکل واضح ہے کہ نماز اہل ایمان پر معین اوقات کے ساتھ فرض کی گئی ہے (ان الصلوة کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً، نساء ۱۰۳) اس سلسلے میں جو پانچ اوقات حدیث سے معلوم ہوتے ہیں، ٹھیک وہی اوقات خود قرآن سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: ۱- سورج نکلنے سے پہلے (قبل طلوع الشمس ، طہ ۱۳۰)
۲- دوپہر ڈھلنے کے وقت (لدلوک الشمس ، بنی اسرائیل ۷۸)
۳- غروب آفتاب سے پہلے (وقبل غروبها ، طہ ۱۳۰)
۴- جب شام ہوتی ہے (حين تمسون ، روم ۱۷)